تاریخ کا پہیہ جب گھومتا ہے تو اپنے ساتھ وہ تمام سوالات بھی لے آتا ہے جنہیں وقت کی گرد تلے دبانے کی کوشش کی گئی ہو۔ 1979 کا ایرانی انقلاب، جو آیت اللہ خمینی کی قیادت میں ایک مخصوص مذہبی تشریح اور عوامی امنگوں کے امتزاج سے پروان چڑھا تھا، آج اپنی زندگی کی سب سے بڑی آزمائش سے گزر رہا ہے۔ ایران کی گلیوں اور چوراہوں سے اٹھنے والی آوازیں محض معاشی بدحالی کا رونا نہیں ہیں، بلکہ یہ اس ‘تاریخی جواز’ پر ایک سوالیہ نشان ہیں جس کی بنیاد پر موجودہ نظام دہائیوں سے قائم ہے۔
سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا وہ نظام جو نصف صدی قبل ایک خاص سیاسی اور مذہبی پس منظر میں موزوں سمجھا گیا تھا، آج کی بدلتی ہوئی دنیا اور ایک بالکل مختلف ‘ڈیجیٹل نسل’ کے لیے بھی اسی طرح کارگر ہے؟ نوجوان ایرانی نسل، جو دنیا سے جڑی ہوئی ہے اور جس کی امنگیں اپنی شناخت اور آزادی کے گرد گھومتی ہیں، اب خود کو اس مخصوص مذہبی ڈھانچے میں مقید محسوس کر رہی ہے۔ جب ریاست مذہب کی ایک مخصوص تشریح کو شہریوں کے بنیادی حقوق اور ذاتی آزادیوں پر فوقیت دینے لگے، تو سماج میں گھٹن کا پیدا ہونا فطری عمل ہے۔
آج ایران کی نئی نسل کی بے چینی محض ‘مغرب زدگی’ نہیں، بلکہ معاشی اور سماجی انصاف کی تڑپ ہے۔ حکومت نوجوانوں کے روزگار، مہنگائی اور مستقبل کے تحفظ
جیسے بنیادی مسائل حل کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔ جب پیٹ خالی ہو اور خوابوں پر پہرے ہوں، تو نظریات کی کشش ختم ہونے لگتی ہے۔ یہاں یہ تلخ سوال بھی سر اٹھاتا ہے کہ کیا مذہب کا استعمال اب صرف سیاسی طاقت کو برقرار رکھنے کے لیے ایک ڈھال کے طور پر تو نہیں ہو رہا؟ اگر مذہب کے نام پر احتجاج کی آواز کو دبایا جائے اور آزادیِ اظہار کو گناہ قرار دے دیا جائے، تو اس کی اخلاقی جوازیت ختم ہو جاتی ہے۔
معاشی بحران اور آسمان کو چھوتی مہنگائی نے عام شہری کو خوف اور غیر یقینی کی فضا میں دھکیل دیا ہے۔ جب بنیادی ضروریاتِ زندگی ایک خواب بن جائیں، تو عوام سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے کی جانے والی اصلاحات اب محض ‘وقت گزاری’ اور ‘ٹال مٹول’ معلوم ہوتی ہیں، کیونکہ وہ مسائل کی جڑ تک پہنچنے کے بجائے صرف ٹہنیاں کاٹنے میں مصروف ہے۔
ایران میں حالیہ مہنگائی کے خلاف مظاہرے ملک کے مختلف شہروں میں چوتھے روز بھی جاری ہیں۔ تہران، اصفہان، شیراز اور کرمن شاہ سمیت دیگر شہروں کی سڑکیں عوام کی ناراضگی سے گونج رہی ہیں۔ ابتدائی طور پر تاجروں اور بازار مالکان نے قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج شروع کیا تھا، لیکن اب طلبہ اور عام شہری بھی اس تحریک میں شامل ہو چکے ہیں۔ مظاہرین کے نعرے صرف مہنگائی کے خلاف نہیں بلکہ حکومت کی اقتصادی اور سیاسی پالیسیوں پر بھی سوال اٹھا رہے ہیں۔
ایرانی ریال کی قدر میں تاریخی کمی نے عام شہریوں کی قوت خرید کم کر دی ہے۔ اشیائے ضروریہ اور روزمرہ کی زندگی کی قیمتیں اتنی بڑھ گئی ہیں کہ عام خاندانوں کے لیے بنیادی ضروریات زندگی مشکل ہو گئی ہیں۔ حکومت نے کچھ اصلاحات اور مرکزی بینک کے گورنر کی تبدیلی کا اعلان کیا ہے، مگر عوامی ناراضگی اور بے چینی ابھی بھی کم نہیں ہوئی۔
سیکیورٹی فورسز نے مظاہروں کو قابو میں رکھنے کے لیے سخت اقدامات کیے ہیں۔ کچھ شہروں میں آنسو گیس اور واٹر کینن کے استعمال کی اطلاعات ہیں، جبکہ گرفتاریاں اور سوشل میڈیا پر ویڈیوز میں گولیاں چلانے کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔ اس کے باوجود مظاہرین کا جوش کم نہیں ہوا اور عوامی مطالبات میں صرف اقتصادی مسائل نہیں بلکہ سیاسی اور شہری حقوق کے مطالبات بھی شامل ہو گئے ہیں۔
تاریخی نقطہ نظر سے بھی سوالات اٹھتے ہیں۔ خمینی نے 1979 میں مذہبی قیادت کے تحت حکومت قائم کی تھی، لیکن آج یہ بحث جاری ہے کہ کیا وہ طریقہ جس سے اقتدار حاصل کیا گیا، موجودہ دور کی نوجوان نسل اور عوامی مطالبات کے لیے مناسب ہے؟ کیا مذہب کے نام پر شہریوں پر لگائی جانے والی پابندیاں اور سیاسی کنٹرول واقعی عوام کے مفاد میں ہیں، یا یہ صرف طاقت برقرار رکھنے کا ذریعہ بن چکا ہے؟
نوجوان نسل میں بے چینی واضح طور پر دیکھی جا رہی ہے۔ وہ بہتر معاشی مواقع، آزادی اظہار اور زندگی کے بہتر معیار کے خواہاں ہیں۔ موجودہ پالیسیوں اور سخت معاشرتی قوانین نے انہیں اکثر غیر یقینی اور مایوس کن صورتحال میں ڈال دیا ہے۔ اسی وجہ سے آج کی نسل سڑکوں پر اپنے مطالبات کے لیے نکل رہی ہے، اور یہ مطالبات صرف اقتصادی نہیں بلکہ سیاسی اور سماجی اصلاحات تک پھیل چکے ہیں۔
عالمی برادری بھی ایران کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں مظاہرین کے حق آزادی اظہار اور احتجاج کی حمایت کر رہی ہیں، اور حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ شہریوں کے بنیادی حقوق کی پاسداری کرے۔ ایران میں مہنگائی، کرنسی کی کمی اور سماجی دباؤ نے نہ صرف عوام کی روزمرہ زندگی مشکل بنا دی ہے بلکہ سیاسی بے اطمینانی اور نوجوان نسل کی ناراضگی کو بھی بڑھا دیا ہے۔
مجموعی طور پر ایران میں جاری احتجاج صرف ایک اقتصادی بحران کا اظہار نہیں بلکہ ایک وسیع سماجی اور سیاسی بحث کی شروعات ہے۔ عوام، خاص طور پر نئی نسل، اپنے مستقبل، اپنی آزادی اور اپنی زندگی کی بہتر سہولتوں کے لیے سوال اٹھا رہی ہے۔ حکومت کے لیے یہ ایک چیلنج ہے کہ وہ مہنگائی اور اقتصادی مسائل کو حل کرے، نوجوان نسل کی امنگوں کو سمجھے، اور مذہب اور سیاست کے تانے بانے میں توازن پیدا کرے تاکہ عوام میں اعتماد دوبارہ قائم ہو سکے۔
یوسف صدیقی
