خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباکرکٹ، سیاست اور فلسطین!
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

کرکٹ، سیاست اور فلسطین!

از شیخ خالد زاہد نومبر 7, 2023
از شیخ خالد زاہد نومبر 7, 2023 0 تبصرے 50 مناظر
51

کرکٹ کے عالمی مقابلے بھارت میں جاری ہیں اور اب تک بھارت وہ ملک ہے جو اپنا کوئی مقابلہ نہیں ہارا ہے، بھارت کے کھلاڑی بہت اچھے ہیں ان کی اس اچھائی کے پیچھے بہت سارے عوامل کار فرما ہیں، جس میں سب سے اہم بھارتی کرکٹ بورڈ نے اپنے کھلاڑیوں کی زندگیاں بدلنے میں عملی کردار ادا کیا ہے یعنی انہیں معاشی طور پرآسودگی فراہم کی گئی ہیں جس کے لئے انہیں بھرپور مراعات دی گئی ہیں اور اسکے لئے انہوں نے انڈین پریمئر لیگ کا آغاز کیا۔ یہاں سے بھارت کی کرکٹ نے ایک نیا موڑ لیا، جب اپنے مقامی کھلاڑیوں کو بین الاقوامی نامی گرامی کھلاڑیوں کو ان کے درمیان لا کر چھوڑ دیا۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ بین الاقوامی طرز سے ہم آہنگی اورکھیلنے کے طریقے میں بھرپور اعتماد کے ساتھ ساتھ تکنیکی صلاحیتوں میں بھی خوب نکھار آیا۔ بھارت نے دنیائے کرکٹ جہاں گیند بلے سے دھاک بیٹھائی، وہیں انتظامی امور پر بھی آہستہ آہستہ پنجے گڑانا شروع کردئے۔ اثرو رسوخ کے استعمال کی بدولت وہ اپنی من مانی کرتا بھی دیکھائی دیتا ہے۔ حال میں ہونے والے ایشاء کپ کی میزبانی پاکستان کو سونپی گئی تھی لیکن بھارت نے ٹیم کو پاکستان بھیجنے سے صاف منع کردیا جس پر یہ مقابلے غیر جانبدار مقام (سری لنکا)پر منتقل کردئیے گئے۔ اس پر کسی قسم کا کوئی خاص رد عمل دیکھنے میں نہیں آیا(بین الاقوامی کرکٹ کونسل بھی اس پر عمل کرانے سے گریزاں دیکھائی دیا) جو اس بات کی گواہی ہے کہ بھارت ہر سطح پر اپنا اثر رسوخ منوانے کی خوب صلاحیت رکھتا ہے۔ بھارت کی کرکٹ ٹیم کا اعتماد انکے قومی اعتماد کا خاصہ ہے جو اب کسی ہٹ دھرمی کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ بھارت میں ہونے والے مقابلوں میں پاکستان کے مقابلے بہت روکھے پھیکے سے دیکھائی دیتے ہیں جس کی وجہ وہاں پاکستان کا جھنڈا لہرانا کسی جرم سے کم نہیں ہے پاکستان کے لئے نعرے لگانا بھی کچھ اس سے مختلف نہیں ہے۔ کھیل کا تعلق کسی مذہب یا نسل سے نہیں ہوتا لیکن پاکستان کی ٹیم کے ساتھ جس طرح کا سلوک کھیل سے باہر کیا گیا کسی بھی طرح سے برداشت کے قابل نہیں ہے۔گلے شکووں سے آگے بڑھتے ہیں، کھیلوں کی دنیا میں کرکٹ کا اپنا ایک مقام ہے اور اس مقام میں بتدریج اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس کا منہ بولتا ثبوت اگلے اولمپکس مقابلوں میں کرکٹ کی باقاعدہ شمولیت کا اعلان ہے۔ ویسے تو ہار جیت کھیلوں میں زیادہ واضح طور پر دیکھائی دیتے ہیں ورنہ یہ زندگی کے ہر معاملے میں موجود ہوتے ہیں۔ ہم پاکستانی جیت سے پیار کرتے ہیں (انفرادی طور پر کوشش بھی کرتے ہیں کیونکہ اجتماعی سطح پر ایسا بہت کم ہوتا ہے)اور ہار سے نفرت لیکن ایسا بھی کرکٹ کے شائقین میں زیادہ دیکھا جاتا ہے۔
ادارے کتنے ہی پیشہ ورانہ طرز پر کام کر رہے ہوں لیکن پاکستان میں شائد ہی کوئی ایسا ادارہ یا شعبہ ہوگا جہاں سیاست کا عمل دخل نہیں ہوتا، یہاں وضاحت یقینا ضروری نہیں ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں ایک دوسرے کے کام میں ٹانگ اڑانا اولین فریضہ سمجھا جاتا ہے۔ عجیب صورتحال ہے کہ ہم معاملے سے واقف ہوں یا نہیں صرف اپنی موجودگی اور کسی طرح سے اپنی بڑائی کی دھونس سامنے والے پر ڈالنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں اور معاملے میں بے وجہ ہی کود پڑتے ہیں، ہم نے شرمندگی تو زمانے ہوئے بیچ کھائی ہے اس لئے اس شے کی پروا تو اب نہیں رہتی اور معاشرتی تربیت بھی یہی سکھا رہی ہے کہ عزت تو آنی جانی چیز ہے بندے کو ڈھیٹ ہونا چاہئے۔انتخابات کی تاریخ کا اعلان کردیا گیا ہے اور امید کی جاتی ہے کہ انتخابات کی طے شدہ تاریخ آٹھ فروری سن دوہزارچوبیس حتمی ہوگی اور پاکستان موجودہ گرداب سے باہر نکلے گا اور مستقل مزاجی کی جانب گامزن ہوسکے گا۔ پاکستان میں کرکٹ کا عالمی کپ جیتنے کا نا صرف جذبہ موجود ہے بلکہ بھرپور قابلیت اور اہلیت بھی ہے لیکن بد قسمتی یہ ہے کہ ہماری قوم، پے درپے شکستوں کے بعد سے اپنے ستاروں کو زمین پر گھسیٹنے میں لگی ہوئی ہے جو کہ کسی بھی طرح سے زندہ قوموں کا شعار نہیں ہے۔یہ جان لیں کہ ہمارے ستارے ہماری شان ہیں۔ پاکستان کرکٹ کا عالمی کپ جیت لے، کون کس سے ہارے گا کون کس سے جیتے گا یہ فیصلے آسمان والے نے کرنے ہیں۔
ہمارے لئے کرکٹ کا عالمی کپ اور ملک کا سیاسی منظرنامہ بہت اہم ہے، اہم نہیں ہے تو فلسطین میں ہونے والے ظلم اور بربریت کی صورتحال اہم نہیں ہے۔ دنیا کے بہت سارے ممالک اسرائیل کی مذمت کر رہے ہیں، بڑے بڑے مجمع سڑکوں پر نکل رہے ہیں،پاکستان جس کی اہمیت کسی سے پوشیدہ نہیں ہے شائد اپنی اہمیت سے آنکھیں چرائے بیٹھا ہے۔

سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
لیا جائے کا کام تجھ سے دنیا کی امامت کا

دوراندیش درویش قابل احترام ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ؒکا مذکورہ بالا شعر ہمیں ترغیب دے رہا ہے کہ اپنے آپ کوان اوصاف کے ساتھ تیار کریں آپ کو دنیا کی امامت کی ذمہ داری اٹھانی ہے۔ یہاں دوباتوں پر دھیان دینے کی ضرورت ہے علامہ نے سبق پھر پڑھ استعمال کیا ہے جو اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ ہم وہ سب کچھ بھول چکے ہیں جو دنیا کی امامت کیلئے ضروری ہے اور ہمارے آباؤ اجداد نے جن بنیادی امور کی بدولت دنیا کی امامت فرمائی تھی۔ اب تھوڑا سا عمومی جائزہ لے لیں ہم امت کی بات نہیں کرتے ہم صرف اپنے ہی گریبان میں جھانک لیتے ہیں (اپنی اپنی سرحدوں میں قید رہنا چاہتے ہیں) نا تو صداقت ملے گی، نا ہی عدالت کا اتاپتا ہے اور شجاعت تو اب ویسے بھی سماجی ابلاغ کی ذمہ داری بتا کر ہمیں اپنے اپنے ٹھنڈے کمروں تک محدود کردیا گیا ہے۔ دنیا کی امامت کا کام ہی تو لینا مقصود ہے یونہی تو ہمیں کیمیائی طاقت نہیں بنا دیا۔ عقل تسلیم نہیں کرتی کے ہم نے اتنا بڑا عملی کارنامہ کیسے سرانجام دے دیا اب انتظار کر رہے ہیں کہ اس کارنامے کی اہمیت کو سمجھنے والا قدرت کب رہنمائی کیلئے منظرِ عام پر لایا جاتا ہے۔ ہم خوفزدہ ڈرے سہمے لوگ صرف اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ پاکستان قدرت کا ایک معجزہ ہے اور اس معجزے کی بقاء بھی قدرت کے ذمے ہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اسرائیل کی درپردہ اس مذہبی جنگ کو مغرب انسانیت سوز مظالم کہہ کرمخالفت کرتا سنائی تو دے رہا ہے اورجنوبی امریکہ کے کچھ ممالک نے اس شر انگیز عمل کی مخالفت کا عملی مظاہرہ اسرائیل سے اپنے سفارتی تعلقات منسوخ کرکے کر چکے ہیں۔ ہم اپنی تاریخ کب دہرائینگے، ہم نے ارتغل غازی اور عثمان جیسے تاریخی کرداروں کو اکیسویں صدی میں کیوں زندہ کیا، کیا اس کا کوئی جواب دے سکتا ہے۔ ہماری دعا ہے کہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم عالمی کپ جیت کر بخیر وعافیت اپنے ملک واپس آجائیں،دھیان میں رہے کہ پاکستان کی جیت کے بعد دونوں ملکوں میں جنگ کا بھی خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ دیکھتے ہیں اسرائیلی اپنی طاقت کس حد تک استعمال کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ فلطینیوں کی برداشت اسرائیلی بربریت کی حد کے تعین میں انہیں شکست کہاں تک دیتے چلے جاتے ہیں، نا ظلم تھم رہا ہے، ناہی خون کا رساؤ رک رہا ہے اورسب سے بڑھ کر ناہی ہمارا جذبہ ابھر رہا ہے۔جن کااس دنیامیں مرنے کے بعدابدی زندگی ملنے کا یقین ہے وہ ہنسی خوشی اپنے رب کی رضا کیلئے قربان ہورہے ہیں۔ ہم تو صرف دعا ہی کر سکتے ہیں کے اللہ ہمارے ساتھ یہاں بھی اور وہاں بھی بس آسانی کا معاملہ فرمادیں۔ آمین یا رب العالمین۔

 

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ہوا کی دستک
  • آلو کھا کر آنسو جھیل دیکھیے
  • تمام شہر کو جو سچ ہوا بتاؤں گا
  • احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
شیخ خالد زاہد

اگلی پوسٹ
بھارتی توپیں
پچھلی پوسٹ
آرٹسٹ کی موت

متعلقہ پوسٹس

رسول اللہ ﷺ سے محبت ایمان کا تقاضہ

ستمبر 28, 2025

راہ در راہ مِلا کرتے ہیں سارے پتھّر

جولائی 7, 2020

ہر عورت کے نام

جنوری 17, 2021

فراقِ یار میاں ٹھیک ہَو بھی سکتا ہے

مئی 14, 2020

شہری آبادی میں اضافہ: ایک سنگین چیلنج

ستمبر 13, 2025

ان پر درود بھیج تو ان پر سلام پڑھ

دسمبر 17, 2021

بے چارہ دکھ

اکتوبر 12, 2025

منتر

مارچ 13, 2013

کھوٹى قسمت ہوئى کھرى میرى

دسمبر 5, 2021

ذوق کی قصیدہ نگاری

اپریل 2, 2012

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

جس نوں چُوٹھ دی مندی عادت

جنوری 12, 2025

زخم خوردہ سے ہیں

نومبر 9, 2025

خواجہ سرا

جنوری 12, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں