خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرطارق فتح کیسے پیدا ہوتا ہے ؟
اردو تحاریراردو کالمزروبینہ فیصل

طارق فتح کیسے پیدا ہوتا ہے ؟

ایک اردو کالم از روبینہ فیصل

از سائیٹ ایڈمن مارچ 27, 2019
از سائیٹ ایڈمن مارچ 27, 2019 0 تبصرے 414 مناظر
415

طارق فتح کیسے پیدا ہوتا ہے ؟

بیرون ملک پاکستانیوں میں دو چیزیں بہت زور شور سے بکتی ہیں ،ایک مذہب دوسرا حب الوطنی ۔ کوئی بھی اس کا ٹھیلا لگا لے ،منافع ہی منافع۔ المیہ یہ ہے کہ بیچنے والے صرف اپنے ذاتی منافع پر نظر رکھے دکاندارہو تے ہیں اورخریدنے والے صرف جذباتی ۔ نہ دکاندار کو ہوش کہ ایسے سودوں میں کیا نقصان کما رہا ہے نہ خریدار کو سمجھ کہ کیا نقصان خرید رہا ہے؟
سادگی کا تعلق ، کسی ڈگری سے نہیں اور مکاری کا تعلق بھی کسی خاص شعبے سے نہیں ۔ استعمال ہو نے والے اور استعمال کرنے والے کہیں بھی ، کسی بھی جگہ پائے جاتے ہیں ۔ خلوص ، شعبہ یا ملک بدل لینے سے بدل نہیں جاتا ۔۔ ہاں کاریگر لوگ علاقہ بدل لینے سے خود بھی بدل جاتے ہیں ۔ جس انسان میں لوگوں کو ضرورت کے مطابق استعمال کرنے کی صلاحیت ہے وہ سب سے بڑا قابل انسان ہے ۔سول ایوارڈز پر بہت سوال اٹھ رہے ہیں، اس میں ایسا کیا نیا ہے ؟آج کل تو ایوارڈ دینے والے یہ دیکھتے ہیں کہ ان کو” خود” اس ایورڈ میں کیا بچے گا ؟ ایوارڈ کے یہ کھیل تماشے اور لوگوں کو اپنی ضرورت کے مطابق پچکارنا اور ہشکارنایہ صرف پاکستان کے اندر ہی نہیں ملک سے باہر بھی یہی ان کے ساتھ ہو رہا ہے۔
یہ مضمون بے ربط تو لگ رہا ہو گا مگر اس کا ربط یہی ہے کہ ہم لوگ ایک قوم کی حیثیت سے اخلاقیات کی جس آخری سیڑھی پر کھڑے ہیں اس کے بعد تو قبر کا اندھیرا ہی رہ جاتا ہے۔ ۔فردوس عاشق اعوان ( ہر پارٹی کی حکومت میں رہ چکی ہیں )،نہ کوئی سٹینڈنگ نہ کوئی اصول ، نہ سچ ، نہ بہادری ،ایک اپنی غرض کی بندی اور کچھ بھی نہیں ۔۔ وہ ہمارے درمیان اونچے پائیدان پر بیٹھ کر ہمیں سمجھا رہی ہیں کہ ہم پاکستان کا نام دنیا میں کیسے بلند کر سکتے ہیں ۔۔ ہم پاکستانی ۔۔۔۔۔۔؟ سہاروں سے اوپر آنے والے، سہاروں کو استعمال کر نے والے ہمارے یہ سیاستدان اور فارن آفسز میں بیٹھے ہمارے ایمبیسڈرز ، اور ہمارے ہی سپانسر شپ پر آئے ہو ے ملا حضرات ہم عام سی پاکستانی مخلوق کو یہ تلقین کرتے بلکہ اکساتے نظر آتے ہیں کہ ہم جان اور عزت پر کھیل کر اسلام اورپاکستان کا پرچم کیسے بلند کر سکتے ہیں ۔۔۔ عام پاکستانیوں کے کندھوں پر جو ملک کی حرمت کا بوجھ ہے وہ بالکل ایسا ہی ہے جیسا ایک بے غیرت خاندان کی غیرت کا سارا بوجھ لڑکی کے نازک کندھوں پر ڈال دیا جاتا ہے اور اس کا انجام یہ ہوتا ہے کہ لڑکی گھر سے بھاگ کر پو رے خاندان کے منہ پر کالک پو ت دیتی ہے۔
اپنی غرض سے بندھے یہ سیاست دان،ملا صاحبان اور عہدے داران ہم جیسے جذباتی احمقوں کو اپنے چولہے کا ایندھن بناتے ہیں کیونکہ ہم لوگ اپنی ثقافت اور مذہبی حوالے سے ان مغربی ممالک میں آکر پہلے سے ہی انسیکیور ہو ئے ہو تے ہیں ۔ ان کے جھوٹے دلاسے ،ہم ڈوبتے ہو وں کو تنکے کا سہارا لگتے ہیں ۔۔ مگر یہ بھید انہی لوگوں پر کھلتا ہے جو ڈسے جاتے ہیں ۔ ۔۔
باہر بیٹھوں میں کچھ لوگ ہیں جو اپنی دھن میں لگے رہتے ہیں ۔ انہیں نہ کسی ایوارڈ کا لالچ ہو تا ہے اور نہ کسی سے کوئی امید ہو تی ہے ، مگر ان کی سنوائی بھی کہیں نہیں ہو تی ۔ وہ جتنے مر ضی اچھے رائٹر ہوں ، سپیکر ہوں ، صاحبِ علم ہوں ان کی سپورٹ کے لئے ایک بھی بندہ سامنے نہیں آتا ۔ یہاں ایک صاحب ہیں جا وید چوہدری ، وہ اتنے سالوں سے پاکستان سے باہر رہنے کے باوجود، جس جس فورم پر مو قع ملتا ہے وہاں وہاں پاکستان کا دفاع کرتے ہیں ۔ ان کی قابلیت اوران کی شخصیت میں جو پاکیزگی اور سچائی ہے وہ غیر پاکستانیوں اور غیر مسلمانوں کے لئے ایک اچھی مثال ہو سکتی ہے ، مگر ان کو پوچھنے والا کون ہے ؟ کیونکہ وہ یہ نہیں جانتے کہ کس کو کب اور کیسے استعمال کرنا ہے حالانکہ ان کی سچائی ، پاکستان کا پرچم بلند کر سکتی ہے مگر یہ خلوص اور یہ سچائی ناکافی ہے ۔۔اور ایک اور برائی جو، ان کی ذات میں ہے ، وہ ہے کسی بھی ملا ، کسی بھی عہدے دار کسی بھی سیاستدان سے مرعوب ہو ئے یا ان کا چارہ بنے بغیر آسانی سے زندہ رہ سکتے ہیں۔ ۔۔ تو جو انسان نہ کسی کو استعمال کرنا جانتا ہو اور نہ کسی کے استعمال میں اندھا دھند آسکتا ہو ۔۔ ایسے انسان اپنے خلوص ، سچائی اور وفا کے ساتھ اپنی لڑائی میں چاہے وہ ملک کی ہو یا مذہب کی ،تنہا ہی ہو تے ہیں ۔ جا وید چوہدری ایسے لوگوں کا ایک” استعارہ “ہیں ۔ ایسے بے شمار لوگ ، جو پاکستان کا روشن چہرہ ہیں مگر اپنے اس غبی پن کی وجہ سے منظر سے غائب ہی رہیں گے ۔۔ اور چپکے سے مرتے جائیں گے اور بدقسمتی سے ان کی جگہ بھرنے کو ان جیسا کوئی بھی نہیں ہو گا ۔۔ کیونکہ آنے والی نسلیں یہ دیکھ رہی ہیں کہ فائدہ کس چیز میں ہے ۔ جو اس نظام ہستی میں سود مند ہے اس ہی کی بقا ہے تو فنا اور تنزلی کا راستہ کون اپنائے گا ؟
میرا ذاتی المیہ بھی جاوید صاحب سے مختلف نہیں پاکستان کی بہتری کے لئے لکھتے ہوئے سالوں گذر گئے مگرلوگوں نے میری اس کاوش کو اس دن قبولیت کی سند دی جب ایک قونصلیٹ کے سرکاری آفیسر نے میرا تعارف کروانا شروع کیا ۔۔ آج بھی جب لوگ مجھے میری کسی اورتحریر کے حوالے سے نہیں بلکہ قونصلیٹ میں چودہ اگست کو پڑھے صرف اس مضمون سے پہچانتے ہیں تو میں اندر سے مر جاتی ہوں کہ اگر میری تحریر انہیں پہلے متاثر نہیں کر سکی یا ان تک پہنچ نہیں سکی تو اب کیوں ؟ صرف ایک سرکاری مہر کے لگتے ہی میں، روبینہ فیصل ایک محب وطن اور باکمال ادیبہ بن گئی ؟ اس سے پہلے ایک اردو میں کالم لکھنے والی کم علم کالم نگارتھی ۔۔
میں نے پاکستان کے لئے ٹاک شو کرتے کرتے بچوں کے وقت کی قیمت پر کئی ویک اینڈ برباد کر دئیے ۔ ٹورنٹو میں بسنے والے زیادہ تر ادیب اور دانشور ، وہ ہیں جو پاکستان کی تباہی اور بربادی کے خواب دیکھتے ہیں ۔ پاکستان کی چھوٹی سی غلطی بھی انہیں ناقابلِ معافی اور انڈیا کا بڑا سا گناہ بھی انہیں ثواب نظر آتا ہے ۔ میں پاکستان کی وہ طوطی بنی رہی جس کی آواز نقار خانے میں کو ئی نہیں سنتا ۔ تحقیق اور علم سے وہ پہلو سامنے لانے کی کوشش کی ،جنہیں کو ئی اور نہیں دیکھتا تھا ۔۔ ہر تاریخ کے دو رخ ہو تے ہیں ، پراپیگنڈا کی طاقت سے ، دنیا کے سامنے یا ہماری نئی نسل کے سامنے صرف وہ رخ لایا جاتا ہے جو پاکستان اور اسلام کو نقصان پہنچاتا نظر آتا ہے ۔ ۔۔ اس کو تقویت صرف مخالفت میں پراپگنڈا کرنے والوں سے نہیں ملتی بلکہ اوپر بیان کئے گئے مطلبی اور دوغلے سیاست دانوں ، عہدے داروں اور ملا وں کی شخصیتوں کے زیرِ اثر پیدا ہونے والے سطحی قسم کے محب وطنوں اور مسلمانوں سے کہیں زیادہ ملتی ہے ۔ ایسے استعمال کرنے والوں کے رویوں سے پیدا ہونے عمومی رویے بیرون ملک کس قسم کا گند پیدا کر رہے ہیں اس کا نہ یہ لوگ اندازہ لگا سکتے ہیں اور نہ ہی انہیں اس کی فرصت ہے کیونکہ وہ اپنی ناک ، اپنی ذات سے آگے دیکھنے کی صلاحیت سے ہی محروم ہو تے ہیں ۔۔ امریکہ نے جب روس ، افغانستان جنگ میں ، وہاں مجاہدین پیدا کئے ، انہیں استعمال کیا اور پھر انہیں رینگتا ہوا چھوڑ کر آگے بڑھ گیا یہ پرواہ کئے بغیر کہ اب ان جذباتی اور مخلص لوگوں کی بقا کا کیا بنے گا ؟ تو وہی مجاہدین ، دہشت گرد بن کر خود کو بچانے اور دوسروں کو تباہ کرنے میں لگ گئے ۔۔ یہی حال ہمارے ملک کے بااثر لوگوں کا ہے ۔ یہ صرف اپنی خاطر ، معصوم لوگوں کے مذہب اور حب الوطنی کے جذبوں کو استعمال کرتے ہیں ۔۔ اپنا الو سیدھا کرتے ہیں اور پھر انہیں بے نام و نشان چھوڑ کر پیچھے مڑ کر دیکھتے بھی نہیں ۔اس لئے کوئی بھی عام فہم والا اتنا ہی اس نقصان کے سودے میں پڑتا ہے جتنا اس کی اپنی ذات کو فائدہ ہو تا ہے ۔۔۔ اور یہاں ٹورنٹو میں فائدہ طارق فتح بننے میں نظر آتا ہے کم از کم پاکستان ور اسلام دشمنی کو خریدنے والے ، اتنے خود غرض اور اپنی ذات کے اسیر نہیں ہو تے ۔ وہ دنیا میں کہیں بھی ہو اپنے طارق فتحوں کو تنہا نہیں چھوڑتے ۔۔۔۔۔
کسی پاکستانی نے مجھ سے شکوہ کیا کینڈا والوں نے انڈیا کو طارق فتح اور سنی لیون اور ہمیں مولانا طاہر القادری کیوں دیا ؟
میں نے جواب دیا اچھا بکنے والوں کومعلوم ہو تا ہے کہ ان کی قیمت کہاں زیادہ لگ رہی ہے اور قیمت کے ساتھ ساتھ پزیرائی بھی ٹھیک ٹھاک مل جائے تو سونے پر سہاگہ ہو جاتا ہے ۔
مجھے کشمیر پر ایک تحقیقی پروگرام کرنے کے لئے ریسرچ کا ایک پارٹنر یا کو ہوسٹ ڈھونڈنا ناممکن سا ہو گیا ہے، اور میں تنہا بیٹھی ، تاریخ کی کتابوں میں سر کھپاتے کھپاتے تھک کر کئی دفعہ ہمت ہارتی ہوں ،کئی دفعہ کھڑی ہو تی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگرہمارے “سطحی یوزرز “تالاب میں گہری ڈبکی لگانے کے نااہل ہو تے ہیں ، جو ان کے سامنے ، ان کے اپنے مطلب کو پورا کرتا کوئی احمق مل جائے یہ سارا دھیان اس کی طرف لگا دیتے ہیں ۔کسی بڑے مقصد کا ان سطحی مینڈکوں کو کیا پتہ ، پاکستان کی تننزلی کے اسباب جب لکھے جائیں گے تو یہ سبب بھی وہاں لکھا جائے گا کہ کیسے پاکستان کے لئے مفت لڑائی لڑنے والوں کا مقدر تنہائی اور رسوائی بن گیا تھا ۔۔اس لئے طارق فتح بننا آسان ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔طارق فتح بننا سود مند ہے ۔۔وہ ایسی قوم کے ہاتھوں پیسوں میں بکتا ہے جنہیں اپنی خاطر بکنے والوں کی قدر ہو تی ہے ۔

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • گمراہی کا راستہ
  • آج کی حوا
  • میرا نام رادھا ہے
  • کھول دو
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ہجر کی شب میں قید کرے یا صُبح وصَال میں رکھے
پچھلی پوسٹ
ایک رشتے کو نبھانے کے لیے

متعلقہ پوسٹس

زندگی کے مسئلوں کا حل نکلنا چاہیے

اپریل 24, 2020

وہی منزل، وہی ساتھی

مارچ 22, 2025

پاکستان والا کلمہ

جولائی 6, 2021

نیا قانون

فروری 22, 2017

ڈاکٹر وحید احمد کا نظم نامہ

جون 2, 2020

دریائے نیلوفر کی خلوت

جنوری 11, 2025

پاکستان: چیلنجز، مواقع اور مستقبل کی راہیں

دسمبر 11, 2025

جنرل اسمبلی میں پاکستان کی آواز

ستمبر 28, 2025

منفی سوچ اور صحت کا حسّاس معاملہ

جون 27, 2020

میرا نام رادھا ہے

جنوری 15, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Visal abbasi on نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اسلامی گوشہ

آمد

ستمبر 4, 2026

چلو چلیں

ستمبر 2, 2026

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

اردو شاعری

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

ستمبر 4, 2026

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں...

ستمبر 2, 2026

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

اگست 31, 2026

سچ سامنے آنے لگا ہے

اگست 31, 2026

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • سچ سامنے آنے لگا ہے

    اگست 31, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

عقل داڑھ

جنوری 20, 2020

سرِ کریک

اکتوبر 5, 2025

رمضان اور متزلزل ایمان

اپریل 23, 2021
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں