خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامزندگی! تجھے کیا چاہیے؟
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزمحسن خالد محسن

زندگی! تجھے کیا چاہیے؟

از سائیٹ ایڈمن اپریل 21, 2026
از سائیٹ ایڈمن اپریل 21, 2026 0 تبصرے 2 مناظر
3

یہ سوال بظاہر سادہ ہے مگر اس کی تہہ میں ایک پوری کائنات سانس لیتی ہے۔ انسان جب شعور کی دہلیز پر قدم رکھتا ہے تو سب سے پہلے یہی سوال اس کے اندر ہلچل پیدا کرتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ وہ دُنیا میں آیا کیوں ہے، جا کہاں رہا ہے، اور اس درمیانی وقفے کو "زندگی” کیوں کہا جاتا ہے۔ یہی وقفہ کبھی مسرت کا گہوارہ بنتا ہے اور کبھی کرب کا صحرا۔
زندگی کا بنیادی تصور دراصل "حرکت” اور "معنی” کے درمیان ایک مسلسل کشمکش ہے۔ مذہب اسے "امتحان” قرار دیتا ہے، فلسفہ اسے "شعور کا تجربہ” کہتا ہے اور ادب اسے "احساس کی شدت” کا نام دیتا ہے۔
انسان پیدا کیوں ہوا؟ اس سوال کا جواب مختلف زاویوں سے دیا گیا ہے۔ مذہبی نقطہ نظر کے مطابق انسان کو عبادت اور آزمائش کے لیے پیدا کیا گیا، تاکہ وہ خیر و شر کے درمیان انتخاب کرے۔
فلسفہ کہتا ہے کہ انسان خود اپنی زندگی کا مقصد تخلیق کرتا ہے، یعنی زندگی پہلے آتی ہے اور معنی بعد میں پیدا کیے جاتے ہیں۔
مرنے کا مطلب بھی اسی سوال کی توسیع ہے۔ موت زندگی کا خاتمہ نہیں بلکہ ایک مرحلے کا اختتام ہے۔ یہ ایک ایسی سرحد ہے جس کے بعد انسان کی تمام ظاہری کامیابیاں بے معنی ہو جاتی ہیں اور اس کے اعمال کا وزن باقی رہ جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ صوفیا نے کہا کہ "مرنے سے پہلے مر جاؤ”، یعنی اپنے نفس کی خواہشات کو قابو میں لا کر ایک بامعنی زندگی گزارو۔
پیسہ کیوں ضروری ہے؟ اس کا جواب بھی سادہ اور پیچیدہ دونوں ہے۔ پیسہ زندگی کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کا ذریعہ ہے لیکن جب یہی ذریعہ مقصد بن جائے تو انسان اپنی اصل کھو دیتا ہے۔ پیسہ سکون نہیں خرید سکتا مگر سکون کی راہ کی رکاوٹیں ضرور کم کر سکتا ہے۔
ایک مفکر نے کہا تھا: "پیسہ اچھا خادم ہے مگر برا آقا۔”
شہرت اور نیکی کے معنی بھی وقت کے ساتھ بدلتے رہے ہیں۔ آج کے دور میں شہرت اکثر ظاہری کامیابی کا پیمانہ بن گئی ہےجبکہ نیکی ایک خاموش عمل ہے جو دلوں میں زندہ رہتا ہے۔ شہرت انسان کو لوگوں کے قریب لے آتی ہے مگر نیکی انسان کو اپنے رب کے قریب کر دیتی ہے۔ یہی تضاد زندگی کا ایک اہم پہلو ہے۔
ناکام اور کامیاب زندگی کی تعریف بھی یکساں نہیں۔ ایک شخص کے لیے کامیابی دولت ہے تو دوسرے کے لیے سکون اور تیسرے کے لیے خدمت۔ حقیقت یہ ہے کہ کامیابی ایک داخلی کیفیت ہے نہ کہ بیرونی مظاہر کا نام۔
ایک شخص جس کے پاس سب کچھ ہے؛وہ بھی اندر سے خالی ہو سکتا ہےاور ایک شخص جس کے پاس کچھ نہیں؛وہ بھی مطمئن ہو سکتا ہے۔
انسان بے بس اور نااُمید کیوں ہو جاتا ہے، حتیٰ کہ سب کچھ پا لینے کے بعد بھی؟ اس کا سبب یہ ہے کہ انسان کی خواہشات لا محدود ہیں جبکہ وسائل محدود۔ جب وہ ایک منزل حاصل کرتا ہے تو دوسری اس کے سامنے آ جاتی ہے۔ یوں وہ ایک نہ ختم ہونے والی دوڑ میں شامل ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کو احساس ہوتا ہے کہ اصل مسئلہ باہر نہیں، اندر ہے۔
اسی کیفیت کو ایک شاعر نے مرزا غالب نے یوں بیان کیا:

"ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے میرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے”

زندگی کے اس عجیب معمہ کو سمجھنے کے لیے ہمیں مختلف مذاہب اور فلسفوں کی طرف دیکھنا پڑتا ہے۔
بدھ مت کہتا ہے کہ "زندگی دُکھ ہے اور اس دُکھ کی جڑ خواہش ہے” جبکہ اسلام "صبر اور شکر” کو زندگی کا حُسن قرار دیتا ہے۔
مغربی فلسفہ میں خاص طور پر وجودیت کے حامیوں کا کہنا ہے کہ "زندگی بے معنی ہے مگر انسان اسے معنی دینے کی صلاحیت رکھتا ہے”۔
مثال کے طور پر ایک کسان کو دیکھیں جو سارا دن محنت کرنے کے باوجود شام کو اس کے چہرے پر سکون ہوتا ہے۔ دوسری طرف ایک امیر شخص ہے جس کے پاس سب کچھ ہے مگر وہ بے چین ہے۔ یہ فرق دراصل "معنی” کا ہے نہ کہ وسائل کا۔
ایک مکمل، خوشحال، کامیاب اور پُر اعتماد زندگی کی تعریف کیا ہو سکتی ہے؟ ایسی زندگی وہ ہے جس میں انسان اپنے مقصد سے آگاہ ہو، اپنی حدود کو پہچانےاور دوسروں کے لیے آسانی کا سبب بنے۔
خوشحالی صرف دولت کا نام نہیں بلکہ ذہنی سکون، جذباتی توازن اور روحانی اطمینان کا مجموعہ ہے۔
اقبال نے اسی حقیقت کو یوں بیان کیا:

"خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے”

یہ شعر ہمیں بتاتا ہے کہ اصل کامیابی خودی کی پہچان میں ہے۔ جب انسان اپنے اندر کی طاقت کو پہچان لیتا ہے تو وہ زندگی کے ہر امتحان کا مقابلہ کر سکتا ہے۔
مشہور شخصیات کی زندگیوں کو دیکھیں تو ہمیں یہی سبق ملتا ہے۔ مفکروں، شاعروں اور سماجی رہنماؤں کی زندگیوں میں مشکلات آئیں مگر انہوں نے ان مشکلات کو اپنے لیے راستہ بنایا۔ ان کی کامیابی کا راز یہی تھا کہ انہوں نے زندگی کو سمجھنے کی کوشش کی۔
مثلاً ایک سائنسدان اپنی ناکامیوں سے سیکھتا ہے، ایک شاعر اپنے دُکھ کو لفظوں میں ڈھالتا ہے اور ایک رہنما اپنی قوم کے لیے قربانی دیتا ہے۔ یہ سب ہمیں سکھاتے ہیں کہ زندگی کا اصل حُسن جدوجہد میں ہے۔
زندگی کو سمجھنے کے لیے کچھ کتابیں بھی رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ ان میں وہ کتابیں شامل ہیں جو انسان کو اپنے اندر جھانکنے پر مجبور کرتی ہیں، جیسے روحانیت، فلسفہ، اور خود آگاہی پر مبنی تحریریں۔ ایسی کتابیں انسان کو یہ سکھاتی ہیں کہ زندگی کا مقصد صرف جینا نہیں بلکہ سمجھ کر جینا ہے۔
امجد نے کہا:

"یہی بہت ہے کہ دل اُس کو ڈھونڈ لایا ہے
کسی کے ساتھ سہی، وہ نظر تو آیا ہے”

یہ شعر ہمیں بتاتا ہے کہ زندگی میں تلاش ہی اصل حقیقت ہے۔ انسان ہمیشہ کچھ نہ کچھ تلاش کرتا رہتا ہے۔کبھی محبت، کبھی سکون، کبھی خود کو۔
یہ کہا جاسکتا ہے کہ زندگی ایک سوال نہیں بلکہ ایک سفر ہے۔ یہ سفر کبھی ہموار ہوتا ہے اور کبھی کٹھن لیکن اس کی خوبصورتی اسی میں ہے کہ یہ ہمیں مسلسل سکھاتا ہے۔
زندگی کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اسے صرف گزاریں نہیں بلکہ محسوس کریں اور اس کے ہر لمحے کو جئیں اور اس سے سیکھیں۔
زندگی شاید ہم سے کچھ خاص نہیں چاہتی۔بس یہ چاہتی ہے کہ ہم اسے سنجیدگی سے لیں، اس کی قدر کریں اور اسے ایک بامعنی کہانی میں بدل دیں۔

امام ناسخ نے کیا خوب کہا ہے:
زندگی زندگی دلی کا نام ہے
مُردہ دل خاک کیا کرتے ہیں

محسن خالد محسن

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • خدا کے سامنے ہمیشہ منکسر رہیں!
  • مکھیاں
  • عریاں احتجاج
  • ایک عہد ساز شاعر – سید عدید
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
مائنوازم کیا ہے ؟
پچھلی پوسٹ
پاکستانی معاشرے میں طلاق کا بڑھتا رُجحان

متعلقہ پوسٹس

گنبد تیز گرد نیلی فام

جنوری 2, 2022

ان دیوتا

جون 14, 2020

مسابقت کے امتحانات اور انگریزی

ستمبر 17, 2025

قادرا قصائی

جنوری 19, 2020

کلر بلائنڈ

فروری 17, 2020

گورکن

فروری 6, 2026

تہذیب و تمدن

اکتوبر 12, 2025

مرے خیال سے وہ شخص

فروری 21, 2026

دوہزار بیس بھی گزر گیا!

جنوری 2, 2021

تم نےحاتم طائی کا قصہ سنا ہو گا؟

جولائی 12, 2023

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

آخری جلسہ

نومبر 28, 2019

موسم کی شرارت

جنوری 15, 2020

شریفن

اکتوبر 20, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں