خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامپاکستانی معاشرے میں طلاق کا بڑھتا رُجحان
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزمحسن خالد محسن

پاکستانی معاشرے میں طلاق کا بڑھتا رُجحان

از سائیٹ ایڈمن اپریل 21, 2026
از سائیٹ ایڈمن اپریل 21, 2026 0 تبصرے 75 مناظر
76

پاکستانی معاشرے میں طلاق کا بڑھتا رُجحان ایک سنجیدہ سماجی مسئلہ بنتا جا رہا ہے جس کے اثرات صرف میاں بیوی تک محدود نہیں رہتے بلکہ خاندان بچوں اور پورے سماجی ڈھانچے کو متاثر کرتے ہیں۔ طلاق سے مراد ازواجی رشتے کا باقاعدہ خاتمہ ہے جو بظاہر ایک قانونی اور مذہبی عمل ہے مگر اس کے پیچھے کارفرما عوامل نہایت پیچیدہ اور کثیرالجہتی ہیں۔ اگر اس مسئلے کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے اسباب مذہبی فہم کی کمی معاشرتی، دباؤ سیاسی ، معاشی ناہمواری اور نجی جذباتی ناپختگی وغیرہ ہیں۔

مذہبی اعتبار سے دیکھا جائے تو اسلام میں طلاق کو ناپسندیدہ عمل قرار دیا گیا ہے اور اسے آخری حل کے طور پر اختیار کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ اس کے باوجود ہمارے معاشرے میں طلاق کا طریقہ کار اکثر جہالت اور غلط فہمیوں کا شکار ہے۔ بہت سے لوگ غصے یا وقتی جذبات میں آ کر طلاق دے دیتے ہیں جبکہ انہیں اس کے شرعی تقاضوں کا علم نہیں ہوتا۔ ایک ہی وقت میں تین طلاقیں دینا یا عدت کے احکام کو نظر انداز کرنا نہ صرف دینی اُصولوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس کے نتیجے میں خاندان ٹوٹتے ہیں اور بچوں کا مستقبل غیر یقینی ہو جاتا ہے۔ مذہبی تعلیمات کی صحیح سمجھ نہ ہونے کے باعث لوگ شکوک و شبہات کا شکار رہتے ہیں ۔ علماء سے رہنمائی کی بجائے غیر مستند ذرائع سے معلومات حاصل کرتے ہیں جس سے مسائل مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔

معاشرتی سطح پر طلاق کی ایک بڑی وجہ خاندانی نظام میں بگاڑ ہے۔ مشترکہ خاندانی نظام میں ساس بہو کے جھگڑے یا دیگر رشتہ داروں کی مداخلت اکثر میاں بیوی کے تعلقات کو خراب کر دیتی ہے۔ والدین کا بے جا دباؤ اور بہن بھائیوں کی زبردستی بھی اس رشتے میں دراڑ ڈالتی ہے۔ بعض اوقات لڑکی یا لڑکے کو اپنی مرضی کے خلاف شادی پر مجبور کیا جاتا ہے جس کا نتیجہ بعد میں علیحدگی کی صورت میں نکلتا ہے۔ اس کے علاوہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی مادیت پسندی نے بھی ازواجی تعلق کو ایک بوجھ بنا دیا ہے جہاں محبت اور برداشت کی بجائے مفادات کو ترجیح دی جاتی ہے۔

سیاسی اور سماجی حالات بھی اس مسئلے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ ملک میں بڑھتی ہوئی بے یقینی، مہنگائی اور عدم استحکام نے گھریلو زندگی کو متاثر کیا ہے۔ جب ایک شخص معاشی دباؤ کا شکار ہوتا ہے تو اس کا اثر اس کے رویے پر پڑتا ہے اور وہ اپنے قریبی رشتوں میں بھی چڑچڑا پن اور عدم برداشت کا مظاہرہ کرتا ہے۔ اس طرح معمولی تنازعات بھی سنگین شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ سماجی میڈیا نے بھی اس مسئلے کو ایک نئی جہت دی ہے جہاں غیر حقیقی توقعات اور دوسروں کی زندگیوں سے موازنہ ازواجی تعلقات میں بے اطمینانی پیدا کرتا ہے۔

اقتصادی عوامل طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح میں نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ کم آمدنی اور بے روزگاری ازواجی زندگی کو شدید متاثر کرتی ہے۔ جب گھر کے اخراجات پورے نہ ہوں تو میاں بیوی کے درمیان جھگڑے بڑھ جاتے ہیں۔ بعض اوقات خواتین کو بھی معاشی مجبوری کے تحت کام کرنا پڑتا ہے جسے بعض مرد اپنی اَنا کا مسئلہ بنا لیتے ہیں۔ اس کے برعکس جہاں خواتین خودمختار ہوتی ہیں وہاں وہ ظلم اور ناانصافی کو برداشت کرنے کی بجائے علیحدگی کو ترجیح دیتی ہیں۔ یوں معاشی عدم توازن دونوں صورتوں میں طلاق کا سبب بن سکتا ہے۔

نجی اور جذباتی عوامل بھی اس مسئلے کی جڑ ہیں۔ ہمارے معاشرے میں نوجوانوں کو شادی سے پہلے ازواجی زندگی کے بارے میں کوئی عملی تربیت نہیں دی جاتی۔ جذباتی ناپختگی اور برداشت کی کمی کے باعث وہ چھوٹے چھوٹے مسائل کو حل کرنے کی بجائے علیحدگی کا راستہ اختیار کر لیتے ہیں۔ اَنا پرستی اور ضِد بھی تعلقات کو خراب کرتی ہے۔ بعض لوگ شرافت کے نام پر خاموشی اختیار کرتے ہیں جبکہ دوسرے چالاکی سے حالات کو اپنے حق میں استعمال کرتے ہیں جس سے عدم اعتماد بڑھتا ہے اور رشتہ ٹوٹنے کے قریب پہنچ جاتا ہے۔

طلاق کے بعد سب سے زیادہ متاثر بچے ہوتے ہیں۔ ان کی ذِمہ داری کا تعین ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے اور اکثر وہ والدین کی کشمکش کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان کی تعلیم تربیت اور ذہنی نشوونما متاثر ہوتی ہے اور وہ عدم تحفظ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ بعض صورتوں میں بچے ماں یا باپ میں سے کسی ایک سے دور ہو جاتے ہیں جس سے ان کی شخصیت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ طلاق کے بعد بچوں کے مستقبل کی منصوبہ بندی نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے جس سے ایک نئی نسل مسائل کا شکار ہو جاتی ہے۔

ایک اور تشویشناک پہلو عدت کے دوران اور اس کے بعد غیر اخلاقی تعلقات کا بڑھتا ہوا رُجحان ہے۔ یہ نہ صرف مذہبی اُصولوں کے خلاف ہے بلکہ معاشرتی اقدار کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ بعض افراد طلاق کو آزادی سمجھ کر غیر ذِمہ دارانہ رویہ اختیار کرتے ہیں جس سے معاشرے میں بے راہ روی پھیلتی ہے۔ یہ رُجحان خاص طور پر شہری علاقوں میں زیادہ نمایاں ہے جہاں روایتی اقدار کمزور پڑ رہی ہیں۔

اکیسویں صدی میں جہاں شعور اور تعلیم میں اضافہ ہونا چاہیے تھا وہاں طلاق کے مسائل نے ایک نئی شکل اختیار کر لی ہے۔ تعلیم کی کمی اور جہالت اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے جبکہ دوسری طرف تعلیم یافتہ طبقہ بھی برداشت اور سمجھداری کا مظاہرہ نہیں کر رہا۔ جدید طرز ِزندگی نے سہولتیں تو فراہم کی ہیں مگر رشتوں کی مضبوطی کو کمزور کر دیا ہے۔ لوگ فوری فیصلے کرنے کے عادی ہو گئے ہیں ، صبر و تحمل جیسی اقدار کم ہوتی جا رہی ہیں۔

اس صورتحال کا حل صرف قانونی اقدامات میں نہیں بلکہ سماجی اور فکری اصلاح میں پوشیدہ ہے۔ سب سے پہلے مذہبی تعلیمات کو صحیح انداز میں سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ نکاح سے پہلے تربیتی پروگرام متعارف کروائے جائیں تاکہ نوجوان ازواجی زندگی کی ذِمہ داریوں کو سمجھ سکیں۔ خاندانوں کو چاہیے کہ وہ میاں بیوی کے معاملات میں غیر ضروری مداخلت سے گُریز کریں۔ معاشی استحکام کے لیے روزگار کے مواقع بڑھائے جائیں اور مہنگائی پر قابو پایا جائے تاکہ گھریلو دباؤ کم ہو۔

تعلیم کو عام کرنا بھی نہایت ضروری ہے کیونکہ تعلیم انسان کو برداشت اور سمجھداری سکھاتی ہے۔ میڈیا کو چاہیے کہ وہ مثبت کردار ادا کرے اور طلاق کو ایک عام یا آسان حل کے طور پر پیش نہ کرے بلکہ رشتوں کی اہمیت کو اُجاگر کرے۔ بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر قوانین اور ان پر عملدرآمد بھی ضروری ہے تاکہ وہ اس عمل کا شکار نہ بنیں۔

یہ سمجھنا ضروری ہے کہ طلاق ایک حل تو ہو سکتی ہے مگر یہ آخری حل ہونا چاہیے نہ کہ پہلا قدم۔ اگر ہم اپنے رویوں میں توازن، برداشت اور ذِمہ داری پیدا کر لیں تو بہت سے گھر ٹوٹنے سے بچ سکتے ہیں۔ پاکستانی معاشرہ ابھی بھی خاندانی نظام کی مضبوطی کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے ۔ اس شناخت کو برقرار رکھنے کے لیے ہمیں سنجیدگی سے اس مسئلے کا حل تلاش کرنا ہوگا۔

محسن خالد محسن

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • وقت کے تقاضے کی بات
  • سعادت حسن منٹو
  • جلتا ہوں تو سینے میں دھواں ہے
  • وفا کی راہ بدل کر چلے کہاں جاناں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
زندگی! تجھے کیا چاہیے؟
پچھلی پوسٹ
اللہ کی محبت کے رنگ

متعلقہ پوسٹس

چندرو کی دُنیا

اکتوبر 25, 2019

عشق کیا ہے؟

دسمبر 25, 2024

بائی کے ماتم دار

جون 15, 2020

سمے کا بندھن

جنوری 11, 2020

جذبوں کا شاعر

اپریل 5, 2020

ہزاروں سال پہلے

مئی 20, 2020

اللہ والے

جنوری 2, 2022

کشتی رہی بھنور میں کنارا نہیں ملا

اپریل 6, 2026

چچا چھکن نے ایک خط لکھا

اگست 22, 2022

برف باری سے پہلے

جنوری 12, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

سیاسی جماعتوں کی رسہ کشی

اکتوبر 28, 2025

الجھن

نومبر 15, 2019

مرا قصہ بھی آئے گا وفا...

جنوری 12, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں