خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباروحانی لفنگے۔ مشتری ہشیار باش
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزسیمیں کرن

روحانی لفنگے۔ مشتری ہشیار باش

از سائیٹ ایڈمن ستمبر 10, 2025
از سائیٹ ایڈمن ستمبر 10, 2025 0 تبصرے 43 مناظر
44

عنوان نے آپ کو چونکا دیا ہو گا۔ بات ہے بھی چونکنے والی، کہنے کو بہت کچھ ہے بات کیسے شروع کی جائے، دیکھیے اپنا افسانہ علم الاسماء لکھتے سمے یہ بھید مجھ پہ کھلا تھا کہ یہ کائنات یونی ورس نہیں ملٹی ورس ہے، بلکہ اس کائنات میں یہ جو ہمارا چھوٹا سا کرہ ہے، یہ ہماری زمین، اس پہ زندگی کے کتنے رنگ ہیں، اس دنیا میں کتنی دنیائیں ہیں ہم نہیں جانتے۔

ایک دنیا مادے کی ہے مادی دنیا اور ایک چھپی مخفی روحانی دنیا۔ اب کیسے بتاؤں کہ کب اس دنیا کو جاننے کی کھوج اور لگن دل میں جگی، ہوش کی دنیا میں خود کو اک نامعلوم لگن اور اگن سے جلتے پایا، اک پیاس تھی جو سلگائے رکھتی تھی دوڑائے رکھتی تھی، چین نہیں لینے دیتی تھی۔ نہیں یہ تو مَیں، مَیں کی تکرار ہے، مَیں مَیں ہی تو نہیں کرنا، بس آپ یوں سمجھ لیجیے کہ اِک روحانی دنیا ہے جس کی میں بھی خریدار ہوں یا پھر فقیر سمجھ لیجیے مگر فقیر بھی کہاں فقیر تو بڑے عاجز، مسکین منگتے ہوتے ہیں، خیر لے کر ہی اٹھتے ہیں، میری ”مَیں“ رعونت، کجیوں، خامیوں نے مجھے فقیر بھی نہیں بننے دیا ورنہ کچھ خیر تو میرے کا سے میں ہوتی، بس شوق و لگن لور لور پھراتی گھماتی رہی، اب فقیر ہوں یا خریدار اس کا تعین آپ پہ چھوڑا مگر آپ پوچھیں گے کیا خریدا کیا بیچا تو میرے پاس دکھانے بتانے کو کچھ نہیں ہے۔

کیا کیا جائے یہ روحانی دنیا ہے ہی بڑی عجیب و غریب۔
نہیں آپ یہ اعتراض نہیں کر سکتے کہ یہ شوق یہ لگن کیسی ہے؟
کیا میں نے آپ سے پوچھا یا اعتراض کیا کہ آپ کو خوشبوؤں یا مشروبات کا شوق ہے!
شوق سفر ہے یا پھر کتب بینی کا، کتب جمع کرنے کا یا نوادر جمع کرنے کا۔

آپ جانئیے اس سفر نے مجھے بتایا کہ یہ بھی حصول نوادرات جیسا شوق ہے، اس سفر میں آپ کو ایسے نگینہ صفت لوگ ملتے ہیں کہ آپ کی روح میں کچھ روشنی اتر ہی آتی ہے بے شک اس دنیا میں جانے کا داخلہ آپ کو ملے یا نہ ملے۔

کیا کہا بات کچھ الجھ گئی ہے؟
آپ اسے ہرگز ہمارے پاک و ہند کے روایتی پیری فقیری یا بابوں کے آستانوں سے نہ جوڑیے۔

میں نے تو اپنے سفر میں جانا کہ نگینہ جتنا ہے اتنا ہی وہ ہاتھ جوڑ کر کہے گا بی بی مجھے میری جگہ پہ دفن رہنے دو، خدا کا واسطہ جو تمھیں پتہ مل گیا ہے تو کسی کو مت بتانا، دیکھو آسمانی وقت کے حساب سے انسانی ستر پچھتر برس کی زندگی محض سترہ منٹ بنتی ہے تو مجھے ان سترہ منٹوں میں بہت سے کام نبٹا کر دوبارہ آفاقی وقت میں ملنا ہے۔

چلیے میں آپ کو اِک اور تمثیل سے سمجھاتی ہوں یوں سمجھیے روحانی دنیا کا کسی مخفی مقام پہ کسی گپھا میں کہیں نظروں سے اوجھل دستر خوان بچھا ہے جہاں سادہ روٹی، دودھ پانی شہد زیتون سامنے رکھے نورانی مقدس چہروں والے درویش آپس میں انتہائی عجز و انکساری سے نم آنکھیں لیے سرگوشیوں میں باتیں کرتے ہیں، یہ لوگ اس دسترخوان پہ بیٹھنے کے اہل ہیں، یہ سلاسل ولایت کے چنیدہ، برگزیدہ لوگ اپنے مقام و مرتبے سے آگاہ ہو کر بھی رائیگانی و انسانی خسارے کے بھار سے پسے جاتے ہیں اسی لیے آواز کے معاملے میں بہت محتاط ہیں، اس دسترخوان سے پرے اسی حجرے میں کچھ لوگ با ادب کھڑے ہیں، اسی بات پہ نازاں کہ یہاں کھڑے ہونے کی اجازت ہی مل گئی ہے، یہ حالت قیام میں لوگ دراصل روحانی سائنسدان ہیں جنھیں کئی وجوہ کی بنا پہ سلاسل میں آنے کی اجازت نہیں ملتی مگر اس حجرے میں کھڑے رہنے اور کچھ سرگوشیوں کو سن لینے اور اپنے باطنی تجربوں کے بعد یہ اس قابل ہو جاتے ہیں کہ انسانی روح کی بالیدگی میں کردار ادا کریں۔ یہ مختلف محکموں اور شکلوں میں اپنا اپنا کام کرتے ہیں، اس کے بعد باری آتی ہے اس حجرے کے روشندانوں کی، یہاں کئی پیاسے متلاشی، حریص چڑیا کوے بیٹھے ہیں جو اس انتظار میں ہیں کہ دسترخوان سمٹے تو جو ذرے، بھورے، ٹکڑے جو بچ گئے ہیں یہ انھیں اچک لیں، یہ درویش ان کی موجودگی سے بے خبر نہیں، نظام فطرت کو، رزق کی ترسیل کو سمجھتے ہیں، روح کو بھی رزق چاہیے، یہ چڑیا کوے کا گے دراصل روحانی اچکے ہیں، جب دسترخوان سمٹ جاتا ہے یہ بھورے بچے ٹکڑے سمیٹ لیتے ہیں، ان روحانی اچکوں سے بھی خوب کام لیا جاتا ہے جو استعداد ان کی ہو، علم، فن، ادب، مذہب جس صورت وہ لیے رزق کا قرض اتار سکیں ان کو سہولت دے دی جاتی ہے۔

ان روحانی اچکوں کو جو روشندانوں میں بیٹھے تھے واپسی کے رستے میں کسی آوارہ سڑک پہ کچھ لچے لفنگے شہدے روک لیتے ہیں۔ جی جی یہ ہیں روحانی لفنگے جن کے پاس چوتھے درجے کی خبر پہنچتی ہے اور اب ہیں بھی فطرتاً شہدے۔ کیا کہا منفیت اور روحانیت۔ دیکھیے روحانیت تو ایک طاقت۔ آپ کی روح کی طاقت۔ ننگا کرنٹ۔ برہنہ تار۔ آپ نے اگر اسے کسی طریق سے سوئچ آؤٹ نہیں کیا تو جس طرف چاہے لے جائیے۔

اب یہ روحانی لفنگے کیا کرتے ہیں، یہ روحانیت کی سستی دکانیں کھول کر بیٹھ جاتے ہیں۔ ، یہ آگے بڑھ کر آپ کو خود بتائیں گے کہ ان پہ اللہ کا کوئی خاص کرم ہے وہ صاحب ولایت ہیں دربار رسول سے براہ راست ہدایات ملتی ہیں انھیں، ان کی دال نہیں گلتی تو پھر وہ آپ کو عشقیہ میسجز کرنا شروع کر دیتے ہیں ”کچھ دل ہماری خوش بختی کے لیے بنائے گئے ہیں جو ہمیں بتاتے ہیں کہ زندگی اب بھی خوبصورت ہے“ یا پھر وجدان وہ پاک وسیلہ ہے جس سے متلاشی لوگوں کو ہدایات ملتی آ رہی ہے اور مقدس روحیں ایک دوسرے سے جڑتی ہیں یونہی محبت جنم لیتی ہے اور اسی طرح لوگ لطافت توحید اور صراطِ مستقیم پر گامزن ہوتے ہیں۔ ”

ذرا ان کے پینترے اور لفاظی ملاحظہ کی آپ نے، کیا خطرناک ہے یعنی ہینگ لگے نہ پھٹکڑی اور رنگ آئے چوکھا، دعوت عشق کے ساتھ دعوت توحید بھی ہو گئی۔

مزید خاموشی پہ ان پہ الہامات اور شاعری کی بارش ہونے لگتی ہے، انہیں لگتا ہے کہ آپ کی صورت انھیں ان کا گم شدہ روحانی وجود مل گیا تکمیل پا گیا ہے، اس کوشش میں وہ lust اور ہوس سے بھری سستی اور انتہائی جذباتی شاعری بھیجنا اپنا عین روحانی حق سمجھتے ہیں۔ یہ بیک وقت بہت قابل، مختلف زبانوں پہ دسترس رکھتے ڈاکٹر، انجنئیر، افسر، پیر، بابا کچھ بھی ہوسکتے ہیں، کسی بھی بھیس میں مل سکتے ہیں، پہچان یہی ہے کہ خود پرستی خودنمائی اور بلند و بانگ دعوے لئے دکان کھولے بیٹھے ہیں تو مشتری ہوشیار باش۔ یہ نقلی جعلی مال ہے، یہ روحانی مشٹنڈے ہیں، عورت پہ توجہ، عشق، محبت ہمدردی خود ترسی کا جال پھینکیں گے اور مرد حضرات اس دکان پہ مال و دولت نہ لٹا بیٹھیں۔ ہمارا کام تھا آپ کو آگاہ کرنا سو کر چلے

بنا کر فقیروں کا بھیس ہم غالب
تماشا اہل کرم دیکھتے ہیں

ان روحانی بدمعاشوں سے ہوشیار رہیے، یہاں ہر جگہ یہی لوگ کثرت میں بیٹھے ہیں۔ اللہ کا سچا بندہ کبھی اپنے منہ سے نہیں بتائے گا، بھیس بدل کر پھرے گا آپ جان لیں گے حقیقت تو ہاتھ جوڑ دے گا کہ میرا راز فاش نہ کرنا، آپ دامن پکڑنے کی کوشش کریں تو دعا دے کر بھاگ جائے گا، اس دامن کی کچھ خوشبو ہاتھ میں رہ جائے تو آپ کا مقدر۔

آپ مجھ سے پوچھ سکتے ہیں کرن بی بی تمھیں بھلا اس دسترخوان کی خبر کیسے ملی جبکہ نہ تم تین میں نہ تیرہ میں۔

آپ سے عرض کیا نا کہ خریدار سمجھیے یا فقیر۔ ڈھونڈتے ڈھونڈتے پہنچ گئے دروازے پہ، دستک دی اب ہم جیسے پاپی دنیا دار روحانی دنیا میں داخلے کے قابل تو نہیں تھے مگر کسی بلا کے مہمان نواز نے یہ مہربانی کی کہ دور ایک ایسے مقام پہ کھڑا کر دیا کہ جہاں سے میں ایک تصویر کھینچ کر آپ کو دکھا سکوں

سو میں نے یہ تصویر آپ کے سامنے رکھ دی ہے، اپنے اردگرد کا روحانی لفنگا آپ خود پہچان لیجیے۔

سیمیں کرن

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • نقشِ ماضی
  • سمجھ میں آتے جو دل کے معاملات اُسے
  • دشمن کو سمجھ آئی نہیں یار ہماری
  • تمہاری ڈائری میں وہ کلام
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
میجر عدنان: ایک زندہ روایت
پچھلی پوسٹ
اردو زبان اور علامہ اقبال

متعلقہ پوسٹس

ذرا سی دیر ٹھہر کر سوال کرتے ہیں

مئی 9, 2020

پیاری ڈکار

دسمبر 30, 2019

کیا بھلا ہے کیا برا

اکتوبر 10, 2025

بے قراری سی پیدا ہوئی من میں ہے

دسمبر 16, 2021

گھر کہاں ہے مجھے سمجھنے کو

اپریل 19, 2020

رہبرِ اختران

دسمبر 29, 2024

حصار دید میں روئیدگی معلوم ہوتی ہے

مئی 2, 2020

پا بہ گِل رہنے کی عادت کا مزہ لیتے ہیں

جنوری 30, 2020

جوترے هجرکے غم هوتے هیں

جون 27, 2020

تم کو واپس بلاتی پکاروں کے دکھ

جنوری 12, 2022

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

کتبہ

دسمبر 6, 2019

مجھے بھی علم نہیں تھا میں...

مئی 28, 2020

علامت کی پہچان

مئی 27, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں