خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباتم نےحاتم طائی کا قصہ سنا ہو گا؟
آپکا اردو بابااردو افسانےاردو تحاریرسید محمد زاہد

تم نےحاتم طائی کا قصہ سنا ہو گا؟

از سائیٹ ایڈمن جولائی 12, 2023
از سائیٹ ایڈمن جولائی 12, 2023 0 تبصرے 64 مناظر
65

”ہاں بچپن میں سنا تھا۔ پھر کالج پہنچے تو ’آرائش محفل‘ پڑھی۔ یہ ایک دیو مالائی داستان ہے۔ اس میں حاتم طائی کی بہادری اور اس کی دریا دلی کے قصے ہیں۔ “
”اس میں خاص بات کیا ہے؟“ میں نے پوچھا۔

”جنات و بشر کی کہاوتیں اور حور پریوں کے تذکرے ؛ پند و نصائح اور کچھ سبق آموز کہانیاں۔ سب نے مل کر اس عظیم قصے کو ’گوہر نایاب اردو‘ بنا دیا۔“

جواب ظاہر کرتا ہے کہ اس نے یہ قصہ تفصیلاً پڑھا ہے۔
”کیا یہ صرف ایک داستان ہے یا کچھ اور بھی؟“
”تم کیا پوچھنا چاہتے ہو؟ تمھارے خیال میں یہ قصہ کیا بیان کرتا ہے؟“
پھر میں نے خود ہی بیان کرنا شروع کر دیا۔

”حسن بانو صرف ایک عام سی لڑکی نہیں وہ آغاز افرینش سے روز حشر تک کے لیے عورت کی جنس کی نمائندگی کرتی ہے۔ حسن بانو بارہ برس کی تھی جب اس نے خود کو دولت دنیا سے مالا مال پایا۔ اس بالی سی عمر میں اسے اپنے باپ کی وراثت کو سنبھالنا تھا اور جو خزانہ اسے خدا کی طرف سے ودیعت ہوا اس کی بھی حفاظت کرنا تھی۔ سات بادشاہتوں کا خزانہ جس میں سات کنویں اشرفیوں سے بھرے تھے، اسے جنگل میں ایک درخت کے نیچے دفن ملا۔ اس میں سب سے اہم وہ موتی تھا جو جواہر سے معمور صندوقوں میں موجود تھا، جس کا سائز مرغابی کے انڈے برابر تھا۔“

”اس حجم کا موتی تو صرف خیالاتی دنیا میں ہی پایا جاتا ہو گا، حقیقتاً تو ناممکن ہے۔“

صدف ایک ذہین لڑکی ہے۔ بات چیت میں برابر کی شریک رہتی ہے۔ وہ سارے قصے کو سمجھتی ہے لیکن شرارتی مسکراہٹ اس کے چہرے پر بکھری ہوئی تھی۔ ہماری شادی کو ایک ہفتہ ہی ہوا تھا۔ اس ایک ہفتہ میں پوری دنیا بدل گئی۔ بہت سی مبہم حقیقتیں بامعنی لطافتوں کی صورت میں عیاں ہو گئیں۔ اس کا سوال میری بات کو آگے بڑھانے میں مددگار تھا۔

”یہی موتی تو اصل کہانی ہے۔ حسن بانو کو اس خزانے سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ وہ تو خود کو آلائش دنیا سے پاک رکھ کر یاد خدا میں روز و شب مشغول رہنا چاہتی تھی۔

ایک شیطان سے بھی ابلیس تر، بزرگ صورت، فقیر نے جو کہ بادشاہ کا پیر تھا اس خزانے کو لوٹنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوا۔ بادشاہ بھی حسن بانو سے ہمدردی جتلا کر خزانہ کا مالک بننے لگا لیکن جب زر سرخ سے مالا مال کنویں کے پاس پہنچا تو وہ زر سانپ بچھو کی صورت ہو گیا۔ بادشاہ بھی ناکام ہوا۔ ”

صدف کی دلچسپی بڑھ گئی۔ وہ سوال پر سوال کیے جا رہی تھی۔ میں اصل بات کو سمجھانے کے لیے تمام تفصیلات بیان کرنے لگا۔

شادی سے اگلے روز ہی ہم ہنی مون کے لیے چلے آئے تھے۔ ان دنوں میں ہمیں ایک دوسرے کو سمجھنے میں آسانی پیدا ہوئی۔ میں ڈاکٹر ہوں اور نیچرل ہسٹری کا طالب علم؛ لالہ و گل، ماہ و انجم سمیت صناع طلسم کار کی سب تخلیقات کا ثنا خواں۔ انسان اس عظیم صانع کی سب سے بڑی اختراع، بحیثیت ڈاکٹر میں نے جب بھی اس تخلیق کا مطالعہ کیا نئی سے نئی جہتیں سامنے آئیں۔ عورت، قبیل آدم کی بہترین اور جامع صنف، پرت در پرت کھلتے اس کے جمال کی دوشیزگی نکھرتے جا رہی تھی۔ میں پچھلے ایک ہفتے سے اسے پڑھنے کی کوشش کر رہا تھا۔

”تم اس قصے کی تفصیلات بیان کر رہے ہو، جو کہ میں پڑھ چکی ہوں لیکن کیا کہنا چاہتے ہو وہ ابھی بھی اوجھل ہے؟“

میرا دھیان اس کے چہرے کی طرف تھا۔ اس کے کندھوں کی سرخ رنگت میری آنکھوں میں اتر آئی۔ لال لال ڈورے دیکھ کر شرارتی مسکراہٹ جو غائب ہو گئی تھی پھر لوٹ آتی ہے۔

میں نے آگے بڑھ کر اپنے ہاتھ اس کے کندھوں پر رکھ دیے۔ وہ کسمسائی،
”میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ تمہارے شانوں کا رنگ تتلیوں کی طرح انگلیوں کو تو لگ کر نہ رہ جائے گا۔“
اس کے دونوں شانے پھڑپھڑائے۔
ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں،
”اتنی چست جلد تمہارے اعضا پر دباؤ نہیں ڈالتی؟“
”کیسے ڈال سکتی ہے، یہ چست ہونے کے باوجود آرام دہ اور فراخ بھی ہے۔“
وہ نخرے سے اٹھ کر کھڑی ہو گئی۔

میں نے اس کا ہاتھ تھام کر اپنے سامنے کر لیا، اس کے اندر نیلی نیلی رگوں کے جال ہیں۔ یہ کہیں سے دبیز اور کہیں سے باریک ہے۔ میں نے اس کی چٹکی لی تو حیران رہ گیا اتنی نرم و ملائم اور انتہائی شفاف۔ دباؤ سے اس کی رنگت بدل گئی، خوبصورت بنفشی اور دلفریب گلابی۔

”عورتوں کی جلد مردوں کی نسبت زیادہ دلآویز ہوتی ہے۔“
”ہاں! لیکن کوئی ایسا رہنے بھی تو دے۔“ اس شوخ و چنچل نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔
”ہم حاتم طائی بات کر رہے تھے اور پھر تم اپنے موضوع سے اکھڑ گئے۔“

”میں تو حسن بانو کی بات کر رہا تھا، جو عورت جاتی کی نمائندگی کرتی ہے اور تم بھی۔“ تھوڑی دیر خاموشی طاری رہی۔ وہ شوخی کو سنجیدگی میں بدل کر مجھے گھور رہی تھی۔

”شہزادہ منیر شامی جس کے رخسار نازنیں پر جوانی کا سبزہ ابھی لہکا ہی تھا حسن بانو کی تصویر دیکھ کر غش کھا گیا اور آہیں سرد دل درد سے کھینچنے لگا۔ حسن بانو اس کو ایک جھلک دکھانے کو بھی تیار نہ تھی۔ اس جیسے کئی شہزادے سات سوالوں میں کھو کر کافور ہو گئے اور بہتیرے مر مٹے تھے۔ حسن بانو نے وہی سوال اس کے سامنے رکھ دیے اور کہا ’ان سوالوں کے جواب ڈھونڈ کر لاؤ ورنہ خاک ہو کر ہوا میں اڑتا پھرے گا تب بھی میرے ایک رونگٹے تک نہیں پہنچے گا۔‘

اس قصے میں یہی سب سے اہم موڑ ہے۔ جس نے بھی حسن بانو کو اس تمام زر و جواہر سمیت حاصل کرنا ہے وہ ان سوالوں کے جواب ڈھونڈ کر لائے۔ ”

”یہ تو عام سی بات ہے۔ کہانی شروع ہی یہاں سے ہوتی ہے۔ “ وہ میری بات کاٹ کر بولی۔

”جسے تم قصہ گوئی کا عام پہلو کہہ رہی ہو وہی سب سے اہم بات ہے۔ بس تم مجھے ایک جواب دو۔ قصے کو خوش رنگ بنانے کے لیے اکیلی حسن بانو ہی کافی نہیں تھی، ساتھ زر و جواہر کو کیوں شامل کیا گیا؟ سات پشتوں کا خزانہ جو کہ اسے وراثت میں ملا تھا۔ سات بادشاہتوں کا خزانہ، جو حق تعالیٰ نے اس کے واسطے چھپا کر رکھا تھا اور ان میں سب سے اہم مرغابی کے انڈے کے برابر کا سچا موتی بھی۔“

وہ پورے انہماک سے سن رہی تھی۔ کہنے لگی

”جب تمہاری طرف سے شادی کا پیغام ملا تو میں تمہیں ایک عام مرد سمجھی تھی۔ میرے بھائی نے کہا تھا کہ تم بہت گہرے انسان ہو۔ مجھے اس کی بات سچ محسوس ہوتی ہے۔ لگتا ہے کہ تم عورت جاتی کو بہت اچھی طرح جانتے ہو۔ اس قصے سے کیسا عجیب سوال نکال لائے ہو۔ سات سوالوں سے بھی خطرناک۔ اس سوال کا تم ہی جواب دو۔“

”جنگل جہاں حسن بانو کو زر و جواہر کا وہ خزانہ ملتا ہے جس کی حفاظت سانپ بچھو کر رہے ہوتے ہیں، جہاں کبھی کسی انسان کا داخلے کا اذن نہیں ملا، شہزادی کا دل ہے۔ اس بالی عمر کی لڑکی کا دل ناداں خزائن عامرہ سے بھرا ہوا ہے لیکن اس میں کوئی ارمان نہیں بستا۔ اس کا جسم بھی ایک خزانہ ہے جس میں اسے خود کوئی دلچسپی نہیں کیونکہ حسن بانو کو اس کی قیمت کا اندازہ ہی نہیں۔ یہ حسن و جمال سات پشتوں سے اس کے ساتھ چلا آ رہا ہے اور ہفت اقلیم کے قیمتی خزانے بھی اس میں شامل ہو جاتے ہیں۔ سات سلطنت کی یہ دولت قدرت کا دیا ہوا مرصع جوبن ہے۔

جب شیطان صفت لوگوں کو اس خزانے کا علم ہوتا ہے وہ اس بھولی بھالی لڑکی کو مختلف روپ دھار کر لوٹنے چلے آتے ہیں۔

وہ سارا خزانہ سمیٹ کر خود کو اپنے باپ کے گھر میں مقید کر لیتی ہے۔ خود کو محفوظ کر لیتی ہے کہ اس تک کسی شیطان کا ہاتھ نہ پہنچ سکے۔ اب وہ سمجھدار ہو گئی ہے۔ دنیا بھر سے شہزادے اور امرا دولت حسن کی تعریف سن کر دوڑے چلے آتے ہیں۔ اس کی شرط بڑی کڑی ہے کہ وہ یہ خزانہ اس کے حوالے کرے گی جو سات مشکل سوالات کے جواب ڈھونڈ کر لائے گا۔ ”

وہ مست نظروں سے میری طرف دیکھ رہی تھی۔ میں خاموش ہوا تو پوچھنے لگی،

”تم نے تو کہا تھا کہ خزانے میں سب سے اہم وہ موتی تھا جس کا سائز مرغابی کے انڈے برابر تھا۔ اس حجم کا موتی کہاں سے ملتا ہے؟ کیا یہ بھی کوئی علامت ہے؟“

”حسن بانو ہو یا تم یا کوئی بھی عورت، یہ حسن، یہ جوانی، یہ چست جلد، یہ بنفشی رنگ و رونق سب خزانے ہیں۔ یہ مردوں کی نسبت زیادہ دلآویز جلد جس کے بارے میں تم نے بھی کہا تھا

’کوئی اسے ایسا رہنے بھی تو دے‘
سب زر و جواہر ہیں۔ وہ بڑا سا موتی جس کے برابری کوئی گوہر آبدار نہیں کر سکتا، عورت کی عصمت ہے۔

وہ منہ کھولے میری طرف تک رہی تھی۔ مکمل خاموشی سے۔ کافی دیر کے بعد اٹھی اور میرا بازو تھام لیا۔ کہنے لگی
”تم اتنی دیر کے بعد مجھے کیوں ملے ہو! مجھے تو اپنے بارے میں علم ہی نہیں تھا۔ تم نے مجھے انمول بنا دیا۔“

”بالکل صحیح کہا، آغاز شباب میں حسن بانو یا کسی بھی لڑکی کو اس دولت کا علم نہیں ہوتا۔“

پھر وہ خاموش ہو گئی۔ چپ چاپ، کچھ سوچ رہی تھی۔ اس کے چہرے کے رنگ بدل رہے تھے، آہستہ آہستہ افسردگی کی پیلاہٹ حاوی ہو رہی تھی۔

کہنے لگی، ”مجھے تو کچھ علم نہیں تھا۔ لیکن ان سب باتوں کا تمہیں کیسے علم ہوا؟ کیا تم مجھ سے پہلے بھی؟“

وہ خاموش ہو گئی۔ ماحول پر یکم دم اداسی چھا گئی۔
میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا، صرف یہ کہہ سکا
”تم غلط سمجھی ہو۔“
وہ افسردہ سی کھڑی رہی۔ میں نے آگے بڑھ کر اس کی کمر کو اپنے حلقے میں لے لیا۔

”کہانی کا اختتام ابھی نہیں ہوا اور تم سوگوار ہو گئی ہو۔ تمہیں علم ہونا چاہیے کہ دیو مالائی داستانوں کا اختتام المیہ نہیں ہوتا۔ ہماری کہانی بھی رنگ طرب میں ڈوب کر چلنی ہے۔ تم کیوں ملول ہو رہی ہو؟“

تھوڑی اداسی کم ہوئی۔ وہ نظریں اٹھا کر میری آنکھوں میں جھانکنے لگی، جیسے سچ جھوٹ کی پہچان کر رہی ہو۔ پوچھنے لگی،

” تمھاری کھانی کا اختتام کیا ہے؟“
”حسن بانو کا سب سے اہم سوال ہی تھا۔
’وہ موتی جو مرغابی کے انڈے کے برابر بالفعل موجود ہے اس کی جوڑی پیدا کرے۔ ‘

اسے پکا یقین ہے کہ اس موتی کا جوڑ موجود ہے۔ تم بھی جان لو، یہ موتی شہزادہ منیر شامی کی محبت ہے جو اسے خاک چھانتے، فقط آرزوئے وصال لیے اس کے در تک لے آتی ہے۔ حاتم طائی یہ موتی حسن بانو کے سامنے رکھتا ہے تو وہ کہتی ہے

’اب تم میرے باپ کی جگہ ہو اگر وہ میرے شوہر ہونے کے لائق ہو تو مجھے کچھ عذر نہیں۔ ‘

میری پیاری صدف! منیر شامی کی طرح میری محبت بھی تمہاری عصمت کے طول و عرض اور ارتفاع میں تو برابر نہیں لیکن بالفعل ہم پلہ ہے۔ ”

وہ خوش ہو کر میرے ساتھ چمٹ گئی۔ تھوڑی دیر بعد جدا ہو کر منہ چڑانے لگی اور بولی

”مجھے اس بات کا پھر بھی دکھ ہے کہ میرا شوہر مجھے جاننے سے پہلے بھی جیتا تھا۔ اسے رشک کہہ لیں یا حسد، میں تمہارے علم کو نا انصافی پر مبنی قرار دیتی ہوں۔ تم کو یہ موقع ملنا ہی نہیں چاہیے تھا کہ مجھ سے پہلے بھی جیو اور تمہیں مجھ سے پہلے بھی ایسی باتوں کا علم ہو۔“

سیّد محمد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • خاص تھا لیکن جہاں میں عام رہنا تھا مجھے
  • لرزاں ہیں ابھی دیکھ کے باہر کی اداسی
  • تعبیر دیکھی , نیند کی الجھن سے ڈر گیا
  • کہی ہے پھر بھی اب تک ان کہی ہے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ادب،ناول اور معاشرے کا باہم اتصال
پچھلی پوسٹ
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے فضائل ومناقب

متعلقہ پوسٹس

نظمِ معریٰ اشکِ

مئی 29, 2024

شبِ نیلوفر

دسمبر 13, 2024

بلوچستان کا امن اور علیحدگی پسند تحریکیں

اگست 28, 2025

نگاہوں سے ترے دل میں

ستمبر 26, 2025

انشاء کا اعظمی کو پہلا خط

نومبر 28, 2019

رائیگاں گفتگو کو دفن کریں

مارچ 5, 2020

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

ہجر کی رت کا طرفدار بھی ہو سکتا ہے

مئی 9, 2020

شاید درِ یقین پہ رسائی کا وقت ہے

جنوری 9, 2020

جو میری سمت چا کر

اگست 5, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

مس مالا

دسمبر 6, 2019

سخن جو خود سے کِیا تیرے...

جون 13, 2020

گیارہویں شریف کا مبارک مہینہ

اکتوبر 15, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں