462
آپ سے انس ہوا چاہتا ہے
پھر کوئی باب کھلا چاہتا ہے
میرے احباب میں کر دو یہ خبر
وہ بھی اب میرا ہوا چاہتا ہے
عقل ہی کو نہیں ندرت مرغوب
دل بھی انداز نیا چاہتا ہے
ہم نئی دوستی کے قائل تھے
کوئی دشمن کا پتہ چاہتا ہے
جو کھٹکتا ہے ایک عالمؔ کو
وہ بھی لوگوں کی دعا چاہتا ہے
افروز عالم
