100
کسی دوپہر میں تری گھڑی بھی رکے تو تجھ کو پتہ چلے
کوئی دن ترا کبھی عمر بھر نہ ڈھلے تو تجھ کو پتہ چلے
وہ جو دوست اچھے دنوں میں بھی کبھی کام آیا نہ ہو ترے
وہ چراغ شام کے بعد بھی نہ جلے تو تجھ کو پتہ چلے
تو جو کہہ رہی ہے کہ سہل ہے سفرِ بلندیء عشق بھی
ترا ہاتھ اگر مرے ہاتھ میں نہ رہے تو تجھ کو پتہ چلے
کسی دور جاتے کو دیکھنے میں جو بے بسی ہے جو کرب ہے
ترے ہاتھ میں جو پتنگ ہے یہ کٹے تو تجھ کو پتہ چلے
میں کہاں تھا کیوں نہیں مل سکا ترے ہر گلے کے جواب میں
میں بتا رہا ہوں میں لاش ہوں تو سنے تو تجھ کو پتہ چلے
میں ادائے مدحتِ تیرہ شب جو نہیں ہوا ہوں تو اس لیے
کہ میں وقفِ بادہ و جام ہوں تو پیے تو تجھ کو پتہ چلے
میں نکل رہا تھا جمود سے کوئی کہہ رہا تھا کہ سرفراز
کوئی راستہ ترا راستہ نہ بنے تو تجھ کو پتہ چلے
سرفراز آرش
