363
کبھی بدن کبھی بستر بدل کے دیکھا ہے
سکوں کہیں بھی نہیں گھر بدل کے دیکھا ہے
کسی طرح بھی یہ وحشت نظر سے جاتی نہیں
کئی طرح سے وہ منظر بدل کے دیکھا ہے
وہ کون ہے میں جسے خوش نصیب لگتا ہوں
یہ کس نے میرا مقدر بدل کے دیکھا ہے
یونہی تو موجئہ پایاب سے نہیں ڈرتے
شناوروں نے سمندر بدل کے دیکھا ہے
تیرے خیال سے ہٹتا نہیں ہے دھیان مرا
ہر ایک سوچ کا محور بدل کے دیکھا ہے
ملک عتیق
