108
بہت دیر سے ہوا ہے
یہ احساس
کہ اسے تو
احساس ہی نہیں
عمر بھر کا ہے
جس کا ساتھ
ساتھ تو ہے
مگر پاس نہیں
جانے کیا ڈھونڈتاپھرتا ہے
دنیا کے ریگزاروں میں
سنگ تراش تو ہے
گوہر شناس نہیں
ہیں جو ہمارے تمدن کی
درخشاں مثالیں
رنگ اُس میں وہ نہیں
وہ بو باس نہیں
لوٹے گا کبھی وہ
مان کر اپنی خطائیں
سوچتی تو ہوں
مگر ایسی کوئی امید
کوئی آس نہیں
فرمایا میرے *مالک* نے
ہیں دونوں
اک دوسرے کا لباس
میں اس کا لباس ہوں
وہ میرا لباس نہیں
اسماء. بتول
