518
نہ کوئی ممنوعہ دانہ کھانا نہ خوف دل میں اتارنا تھا
جو ہم نے پہلا گنہ کیا تھا کسی کی نقلیں اتارنا تھا
جدید دنیا میں آنے والوں کی پہلی مڈبھیڑ ہم سے ہوتی
ہمارے یونٹ کا کام ان کے بدن سے مہریں اتارنا تھا
خدا نہ ہوتا تو کاروان جہاں میں اپنی جگہ نہ بنتی
کہ ان دنوں میں ہمارا پیشہ سفر میں نظریں اتارنا تھا
شجر میں کشتی، گھٹا میں چہرے ہمی نے دیکھے کہ اپنا مصرف
فروغ کوزہ گری کی خاطر ورق پہ شکلیں اتارنا تھا
ہمارے لوگوں نے باہمی مشورے سے مل کر بجھا دیے تھے
وہ دیپ جن کے حسب نسب میں زمیں پہ صبحیں اتارنا تھا
ہماری گھڑیوں پہ شام ہونے میں، پانچ بجنے میں دن پڑے تھے
سو ہم کو چھٹی سے پہلے تیشے کو اپنے دل میں اتارنا تھا
کسی کے لہجے کی چاٹ ایسی لگی کہ اپنا شعار آرش
مکالمے کے جنوں میں خود پر اداس نظمیں اتارنا تھا
سرفراز آرش
