خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامعبدالستار ایدھی
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزرحمت عزیز خان

عبدالستار ایدھی

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 7, 2025
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 7, 2025 0 تبصرے 141 مناظر
142

عبدالستار ایدھی: فرد سے ادارے تک کا سفر

پاکستان کی سماجی اور خدمت خلق کے شعبے میں چند ہی نام ایسے ہیں جو کسی عہد کی علامت بن جاتے ہیں۔ عبدالستار ایدھی انہی شخصیات میں شامل ہیں۔ وہ نہ صرف ایک فرد تھے بلکہ ایک رویہ، ایک فکر اور ایک فلاحی تحریک کا نام بھی تھے۔
ایدھی کا تعلق برطانوی ہندوستان کے گجرات کے میمن گھرانے سے تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب برصغیر میں تجارت، مذہب اور خدمتِ خلق کا ایک مخصوص امتزاج میمن برادری کی تمیز سمجھا جاتا تھا۔ تقسیمِ ہند نے لاکھوں لوگوں کو اجاڑ دیا۔ اسی اضطراب میں ایک نوجوان ایدھی بھی کراچی پہنچے۔ ہجرت کا کرب اور انسانوں کو بے یار و مددگار دیکھ کر ان کے اندر وہ فلاحی احساس بیدار ہوا جس نے بعد میں پورے ملک کو بدل کر رکھ دیا۔
اس پس منظر سے پتہ چلتا ہے کہ ایدھی کی خدمتِ خلق کسی سرکاری منصب یا مذہبی ادارے کی پیداوار نہیں تھی۔ یہ ایک ذاتی تجربے سے جنم لینے والا انسانی درد تھا۔abdul sattar edhi
1957کی ایشیائی فلو کی وبا ایدھی کے لیے فیصلہ کن موڑ تھی۔ پاکستان کے پاس ریاستی سطح پر اتنے وسائل نہ تھے کہ اس ہنگامی صورت حال کو سنبھال سکے۔ ایسے میں ایک عام انسان نے سڑک پر بیٹھ کر لوگوں کی مدد شروع کی۔ یہی وہ عمل تھا جس نے پہلی ایمبولینس، پہلے ڈسپنسری اور پھر بڑے فلاحی نیٹ ورک کی بنیاد رکھی۔
ایدھی کا اندازِ قیادت روایتی نہیں تھا۔ وہ خود کفالت، سادگی اور جواب دہی پر یقین رکھتے تھے۔ انہوں نے دفتر، گاڑی یا پروٹوکول نہیں اپنایا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شفافیت پر کبھی انگلی نہیں اٹھی۔ پاکستان جیسے معاشرے میں یہ بات غیر معمولی ہے کہ ایک اتنا بڑا ادارہ مکمل طور پر عوامی عطیات سے چلتا ہو اور اس کے کارناموں کی سچائی پر کوئی اختلاف نہ ہو۔
آج ایدھی فاؤنڈیشن دنیا کی سب سے بڑی رضاکارانہ ایمبولینس سروس چلا رہی ہے۔ یہ وہ شناخت ہے جو کئی دہائیوں پر محیط مستقل مزاجی کا ثمر ہے۔
ایدھی کے فلاحی کام کو بلقیس ایدھی کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں سمجھا جا سکتا۔ انہوں نے بے سہارا بچوں، نومولود کی گود لینے کے نظام، خواتین کے شیلٹرز اور زچگی مراکز میں وہ کردار ادا کیا جس نے اس تحریک کو انسانی سطح پر مضبوط بنایا۔
پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں ناجائز بچے مار دیے جاتے تھے، وہاں بلقیس ایدھی نے "جھولا” رکھ کر ایک نئی روایت قائم کی یعنی زندگی کو بچانے کی روایت۔ پاکستان کی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ ریاست نے ہمیشہ فلاحی کاموں کے لیے نجی شعبے کا سہارا لیا۔ لیکن ایدھی نے ریاست کا متبادل نہیں، ریاست کی کوتاہیوں کی نشاندہی کی۔ وہ مذہبی انتہا پسندی کے مخالف تھے مگر مذہب دشمن نہیں تھے۔ ان کا ایمان عمل تھا، قول نہیں۔ اسی اصولی موقف نے انہیں معاشرے میں ایک اخلاقی اتھارٹی بنا دیا۔
ایدھی کی کامیابی کا راز "غیر سیاسی خدمت” تھا۔ انہوں نے کسی جماعت، فرقے یا طبقے کو ترجیح نہیں دی۔ یہی آفاقیت انہیں دوسرے فلاحی کارکنوں سے ممتاز کرتی ہے۔
ایدھی نے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں امدادی کام کیے۔ ایتھوپیا کے قحط زدہ علاقے ہوں یا امریکہ میں طوفانِ کیٹرینا، انہوں نے خدمت کی سرحد کبھی پاکستان تک محدود نہیں رکھی۔ اسی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر انہیں متعدد اعزازات ملے۔
نوبیل انعام نہ ملنا ایک الگ بحث ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کا مقام اس سے بڑا تھا۔ انہیں دنیا نے ایک ایسے انسان کے طور پر یاد رکھا جو کسی نظریے، کسی قومیت، کسی مذہب کی قید میں نہیں تھا۔
ایدھی صرف خدمت گزارک ہی نہیں تھے بلکہ وہ ایک ضدی، جرات مند اور اصول پسند شخص بھی تھے۔ وہ کرپٹ مذہبی تنظیموں، مسلکی اداروں اور سیاسی مفادات پر مبنی فلاحی پراجیکٹس کے کھلے ناقد تھے۔
ان کا لباس، ان کی جھونپڑی، ان کی دو جوڑی کپڑے یہ سب علامتیں تھیں کہ فلاحی کام دولت سے نہیں، نیت سے ہوتا ہے۔
ایدھی کے انتقال کے بعد یہ سوال اور بھی اہم ہو گیا ہے کہ کیا ایک ایسی شخصیت دوبارہ پیدا ہو سکتی ہے؟ کیا ایدھی فاؤنڈیشن اپنی اصل روح برقرار رکھ سکتی ہے؟
تاریخی تجربے میں یہ حقیقت دکھائی دیتی ہے کہ بڑے ادارے اکثر بانی کے بعد کمزور ہوتے ہیں۔ تاہم ایدھی فاؤنڈیشن تاحال فعال ہے، مگر اس کے سامنے معاشی اور سماجی چیلنج موجود ہیں۔
ایدھی کے انتقال نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستانی معاشرے میں ان کے درجے کی کوئی متبادل اخلاقی قیادت موجود نہیں۔عبدالستار ایدھی نے پاکستانی معاشرے کو دکھایا کہ خدمت حکومت کی محتاج نہیں ہوتی۔ انہوں نے ثابت کیا کہ ایک فرد نیت اور مسلسل جدوجہد سے پورا نظام بدل سکتا ہے۔ تاریخی، اخلاقی اور سماجی سطح پر ایدھی ایک ایسا باب ہیں جسے پاکستان کی اجتماعی تاریخ سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا ورثہ صرف ادارے کی صورت نہیں بلکہ ایک فکری پیغام کی شکل میں موجود ہے۔ انسان کی خدمت سب سے بڑی عبادت ہے۔ اللہ کریم عبدالستار ایدھی کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین

ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • اشعار کی صحت کے متعلق چوتھا کالم
  • ڈاکٹر عبدالقدیر خان
  • کہیں دیر نہ ہو جاۓ
  • تعلیمی نظام کہاں جا رہا ہے؟
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
معصوم پری
پچھلی پوسٹ
نسیم دشت

متعلقہ پوسٹس

بیشک ۔ دُعا تقدیر کو بدل دیتی ہے

مئی 16, 2020

نئی جہت

مارچ 1, 2024

اندھیری شب کی مسافت پہ

جون 2, 2026

پیکاسو کی بیوہ

مارچ 10, 2020

اتفاقیہ ملاقات

دسمبر 13, 2024

میں اکثر سوچتی ہوں

جون 28, 2020

زندگی کے مسئلوں کا حل نکلنا چاہیے

اپریل 24, 2020

کفن چور

دسمبر 7, 2025

موچنا

نومبر 16, 2016

حضرت یسع علیہ السلام

مئی 21, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ماحول دوست رویے اور نوجوانوں کی...

مارچ 14, 2026

سودا

ستمبر 18, 2022

کھوٹے سکے یا کھرے اعمال

جون 15, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں