خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامکفن چور
آپ کا سلاماردو تحاریرتحقیق و تنقیدشہزاد نیّرؔمقالات و مضامین

کفن چور

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 7, 2025
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 7, 2025 0 تبصرے 89 مناظر
90

میں سوچا کرتا تھا کفن چور کو ایسی کیا مجبوری ہوتی ہو گی کہ سب سے چھپ کر ، رات کے اندھیرے میں ، پہلے وہ مشقت سے منوں مٹی ہٹائے، پھر تختے نکالے۔ فوت شدہ جسم کو ظاہر کرے۔ پھر لرزہ خیز کام کرے یعنی مردے کے جسم سے کفن اتارے اور لے جا کر بیچ دے اور ہر کسی کی لعنت ملامت کا ہدف بنے۔
نظم "کفن چور” میں شاعر سماج کے اس خوف ناک کردار کے ساتھ کھڑے ہو کر اس کے نقطہء نظر سے سامنے دیکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
جناب نصیر احمد اب کینیڈا (ملٹن) میں مقیم ہیں ۔
انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے انگریزی ادبیات میں ماسٹرز کیا۔ 25 سال قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں ملازمت کے بعد ڈی جی کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔
انہوں نے مذکورہ نظم کا نہایت گہرائی سے تجزیہ کیا ہے۔
نظم اور ان کی فکر انگیز تجزیاتی تحریر پیش ہے۔ دیکھیے کیسے کیسے اہم زاویے سامنے آئے ہیں ۔
شہزاد نیر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” کفن چور ”
کچھ نہیں گھر میں مرے کچھ بھی نہیں
کوئی کپڑا کہ حرارت کو بدن میں رکھتا
لقمہ ء نان ِ جویں ، خون کو دھکا دیتا
من کو گرماتا سکوں ، تن سے لپٹتا بستر
کچھ نہیں، کچھ بھی نہیں، کچھ بھی نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کو جسم سے چپکاتی ہوئی سرد ھوا
جسم کے بند مساموں میں اترتی ٹھنڈک
سنگِ مر مر سی ہوئیں خون ترستی پوریں
ہاتھ لرزاں تھے ، امیدوں نے مگر تھام لیا
پاؤں چلتے ہی رہے شہر ِخموشاں کی طرف
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پردہ ء خاک میں لپٹے ہوئے بے جان وجود
باعث ِننگ ِ زمیں یوں مگر اک بات بتا
جسم مٹی ہو تو کپڑوں کی ضرورت کیا ھے؟
دیکھ پیوند ِ زمیں ! میرے تن ِ عریاں پر
داغ ِ افلاس کا پیوند ۔۔
اجازت دے دے
مر کے ، مرتے ہوئے انسان کو زندہ کر دے
ایک ملبوس کمانے کی اجازت دے دے
ورنہ بھوکی ہے بہت خاک ، کہاں دیکھے گی
جسم کھا جائے گی ، پوشاک کہاں دیکھے گی ”
( شہزاد نیر )
گفتگو۔
شہزاد نیر کی نظم "کفن چور” دراصل محض ایک شعری تخلیق نہیں، بلکہ انسانی محرومی، وجودی ستم، اور سماجی منافقت کا ایسا دل دہلا دینے والا نوحہ ہے جو قاری کے حواس پر دستک دیتا ہے ۔
یہ تخلیق اپنے اندر فقر و افلاس کے فلسفے، موت کی طنزیہ معنویت، اور انسان کے عزتِ نفس کے زخم کو ایک ہی سانس میں سمیٹ لیتی ہے۔
معنوی تہ داری اور پراثر علامتوں نے اسے درد اشنا مرثیہ بنا دیا ہےا
اس تخلیق کا مرکزی نکتہ فاقہ کشی اور انسانیت کی تذلیل ہے
"کفن چور” دراصل وہ چور نہیں جو قبر سے کپڑا چرا لے بلکہ وہ نظام ہے جو جیتے جاگتے انسان کے جسم سے لباس، اور وقار چھین لیتا ہے.
یہی وجہ ہے کہ یہ بشر کے المیے، ناانصافی، اور اخلاقی زوال کی ایک
سنسنی خیز علامتی تصویر ہے۔
اور ایک ایسے شکستہ ڈھانچے کا عکس ہے جہاں عزت و احترام کی دیواریں دولت کے بے رحم ستونوں پر کھڑی ہیں ۔
یہ فن پارہ بنی آدم کے خوابوں کے اجڑنے کی کتھا ہے ۔ الفاظ میں کرب ہے۔ شاعر خاموش رہ کر ایک سوال اٹھاتا ہے کہ آخر ایسا کون سا سسٹم ہے جو انسان کو اس حد تک گرا دیتا ہے
شہزاد نیر کی زبان میں ایک ایسا جمالیاتی ارتعاش ہے جو سادہ الفاظ میں بھی لرزہ طاری کر دیتا ہے۔
ابتدا میں "کچھ نہیں گھر میں مرے کچھ بھی نہیں” کی تکرار محض لفظی نہیں بلکہ ایک روحانی اور ذہنی خلا کی بازگشت ہے۔
یہ تکرار ایک خالی پیٹ کی صدا، خالی کمرے کی گونج، اور بے نور ضمیر کی سسکتی اواز بن کر ابھرتی ہے ۔اور پورے متن میں سنسناتی رہتی ہے۔
"سنگِ مرمر سی ہوئیں خون ترستی پوریں”
یہ خاک اور خون کے درمیان الجھا ہوا سوال ہے کہ اگر جسم مٹی ہو جانا ہے تو "کفن” جیسی ظاہری شے کی حاجت کیوں؟یہ سوال محض ایک شخصی پکار نہیں، بلکہ معاشرتی ساخت پر فرد کے احتجاج کی صورت میں سامنے آتا ہے
"داغِ افلاس کا پیوند” — ایک انوکھا استعارہ ہے جو لباس کے مادّی تصور کو اخلاقی و جسمانی پیوندکاری میں بدل دیتا ہے۔
زندہ فقیر، مردہ امیر سے مخاطب ہے — مگر اس مکالمے میں سوال کا انداز اتنا گہرا ہے کہ قاری کو احساس ہوتا ہے جیسے زندگی خود موت سے کپڑا مانگ رہی ہو۔ جسم کی برہنگی کے استعارے میں پورے نظام کی عریانی جھلکتی ہے۔
مردہ کے کفن سے زندہ جسم کے لیے لو مانگنا دراصل اس تلخ حقیقت کا اظہار ہے کہ یہاں موت بھی زندگی پر فوقیت رکھتی ہے۔ اس تصور میں طنز کی ایک خاموش لہر مخفی ہے
عام طور پر جب ہم "کفن چور” کا لفظ سنتے ہیں تو ذہن میں ایک خوفناک، لالچی، سفاک چہرہ ابھرتا ہے، جو مُردوں کی حرمت پامال کرتا ہے۔ لیکن جب شہزاد نیر اس کردار کو اپنے شعری آئینے میں دکھاتے ہیں، تو وہ چہرہ خوف سے معصومیت اور بے بسی میں بدل جاتا ہے
یہ وہ شخص ہے جو بھوک سے مر رہا ہے، لیکن پھر بھی سانس لیتے ہوئے
فرد کے دروازے پر دستک دینے کی جرأت نہیں رکھتا۔ اسے اشرف المخلوقات کے رد عمل سے اتنا خوف ہے کہ وہ بے جان کے قریب جانا زیادہ محفوظ سمجھتا ہے
اور وحشت زدہ، پناہ کی تلاش میں قبر میں اُترتا ہے۔
یہ روایت اور کلچر پر اپنی شکست کا اعتراف ہے۔
کفن چور اس قبر کے پاس آ کر
گویا اپنے ہی انجام سے کپڑا مانگ رہا ہے۔ یہ منظر انسانی ہراس کی انتہائی سطح کو ظاہر کرتا ہے۔ جب معاشرہ اتنا ظالم اور غیر محفوظ ہو جائے
کہ انسان زندوں سے زیادہ مُردوں پر اعتماد کرنے لگے
کپڑا اردو شاعری میں ہمیشہ وقار اور پردے کی علامت رہا ہے۔
“کمانے” کا استعمال بہت اہم ہے۔ شاعر نے یہاں “چرانے” نہیں کہا، بلکہ کہا
"کمانے کی اجازت دے دے”
یہاں ایک اخلاقی موڑ آتا ہے۔ کفن چور نہیں چاہتا کہ وہ ڈاکہ ڈالے، بھیک مانگے، کسی کو لُوٹے۔
وہ چاہتا ہے عزت کے ساتھ، اپنے ہاتھوں کی محنت سے
ہلکی سی تمازت حیات کمائے۔
لفظ “کمانے” اس نظم کا طاقتور اخلاقی ادراک ہے۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر وہ نہیں چاہتا کہ بھیک مانگے، ڈاکہ ڈالے یا چوری کرے تو شاعر نے اس نظم کا عنوان "کفن چور” کیوں رکھا ۔ دراصل یہ نام اس کو لوگوں نے نے دیا ہے (شاعر نے نہیں دیا) ۔
آخر وہ ملبوس کے لیے کفن کا ہی انتخاب کیوں کرتا ہے جبکہ کفن ہمیشہ مّردوں کو پہنایا جاتا ہے۔ یہاں ایک باریک نقطہ یہ ہے کہ وہ کردار خود کو ایک مردہ ہی تصور کرتا ہے۔اور معاشرہ بھی اسے زندہ انسانوں میں شمار کرنے کے لیے تیار نہیں۔
یہ تخلیق اپنی نوعیت میں منیر نیازی کے داخلی کرب،
فیض کی مزاحمت،منٹو کی بے رحمانہ سچائی،چیخوف کی انسانی ہمدردی،اور جدید نظم کے وجودی دکھ
سب کو سرد قبر کی مٹی میں جمع کر کے نئے معنی تخلیق کرتی ہے۔
یہ نظم اپنی تاثیر اور گہرائی کے باوجود کچھ فنی، اسلوبی، اور ساختی کمزوریاں رکھتی ہے۔
نظم تین حصوں پر مشتمل ہے
پہلا حصہ محرومی اور افلاس کی تصویر ہے، دوسرا حصہ سرد رات اور قبرستان کی منظرکشی، تیسرا حصہ مردہ جسم سے مکالمہ۔
یہ تینوں حصے اپنے طور پر خوبصورت ہیں، مگر ایک فکری تسلسل اور فنی توازن میں کمی کا احساس ہوتا ہے۔
قاری کو ایسا لگتا ہے کہ شاعر نے “احساس کے بہاؤ” میں نظم لکھی ہے،
پہلے حصے سے دوسرے حصے کا انتقال (Transition) ہموار نہیں۔
لمحہ بھر کے لیے نظم کی داخلی ترتیب ٹوٹتی محسوس ہوتی ہے۔
۔
“لقمۂ نانِ جویں، خون کو دھکا دیتا”
یہاں لفظ “دھکا دیتا” زبان میں ایک غیر شاعرانہ سختی پیدا کرتا ہے۔
اسی طرح “من کو گرماتا سکوں، تن سے لپٹتا بستر” میں
لفظوں کی نرمی کے باوجود علامتی عمق کم ہے
“کفن” بعض جگہ جسمانی لباس کا استعارہ بنتا ہے،
دوسری جگہ سماجی وقار کا،
اور آخری حصے میں زندگی کے رزق کا۔
یعنی شاعر نے ایک ہی علامت کو مختلف مواقع پر مختلف معنوں میں برتا ہے،
جس سے فکری ابہام (Conceptual Ambiguity) پیدا ہوتا ہے۔
یہ ابہام شعری حسن میں کبھی اضافہ کرتا ہے، لیکن بعض جگہ مرکزی خیال کی وحدت کو دھندلا دیتا ہے۔
کچھ حصوں میں شاعرانہ آہنگ برقرار ہےاور کچھ حصوں میں بیانیہ نثر کا سا آہنگ ملتا ہے۔
کسی جگہ لفظوں کا انتخاب معمولی سا مصنوعی اور منظرنامہ محدود لگتا ہے ۔ زبان اور لہجے میں کہیں کہیں فطری روانی کی کمی کا احساس ہوتا ہے
۔یہ جذبے کی آگ میں ڈھلی ہوئی تخلیق ہے
اس کی طاقت اسی جذباتی شدت میں ہے،
مگر یہی شدت بعض اوقات فکر اور اظہار کی ہم آہنگی کو متاثر کرتی ہے۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ
"کفن چور” ایک جمالیاتی طوفان ہے ،
جس میں جذبات کی بجلی چمکتی ہے،
مگر بعض جگہ نظم کی ساخت کے ستون لرزتے محسوس ہوتے ہیں۔
یہ کمزوریاں کسی بھی بڑی نظم کے لیے فطری ہیں
یہ اس کے حسن کو ماند نہیں کرتیں، مگر ان کا جائزہ لینا قاری کو زیادہ گہرائی سے سمجھنے میں مدد دیتا ہے
” گناہ سے نفرت، گناہگار سے محبت”
کافی عرصہ پہلے کہیں یہ جملہ پڑھا تھا تو اسی وقت روح میں اتر گیا اور اب تک خون کی طرح رگوں میں محو گردش ہے۔
یہی روحانی رویہ رشی، منی، ولی، اولیاء ،صوفیا کرام اور دانشوورں کا
مشترک پیغام رہا ہے،
اس تخلیق میں بھی یہی ازلی فلسفہ جگمگا رہا ہے:
یہاں بھی خطا کار کے لیے دل میں محبت کی لو جلتی ہے۔ اور اسے بدی کے پردے سے ہٹا کر مجبوری کے پس منظر میں دکھایا ہے۔
شاعر کی نفرت "کفن چور” سے نہیں،
بلکہ اس ہیئت زر سے ہے۔
وہ نہیں کہتا کہ چوری درست ہے —
بلکہ وہ یہ کہتا ہے کہ
اگر معاشرہ کسی کو زندہ رہنے کا حق نہیں دیتا تو وہ
خاک سے کفن بھی چھین لے گا۔
یہ "کفن چور” کوئی قبیح چہرہ نہیں،
یہ ہمارا ہی عکس ہے، وہ ہم میں سے ہر شخص ہے
جو کبھی بھوک، کبھی ننگ، کبھی محرومی میں
اپنے ضمیر کا سودا کرتا ہے۔شاعر نے اس کردار کو
نہ تو ہیرو بنایا، نہ ولن بلکہ بشر خاکی بنایا۔
وہ کہتا ہے
“باعثِ ننگِ زمیں ہوں مگر اک بات بتا…”
یہ خوداحتسابی ہےاور اعترافِ جرم بھی،
مگر ساتھ ہی یہ تکریم آدمیت کی التجا بھی ہے۔
انسانیت اسی وقت مکمل ہوتی ہے جب ہم مظلوم کی آنکھوں سے دنیا کو دیکھنے لگیں۔
یہ نظم ذہن میں کئی سوال چھوڑ جاتی ہے
کیا جرم وہ ہے جو ہاتھ کرتے ہیں، یا وہ جو نظام کرواتا ہے؟
شاعر ان سوالات کے جواب نہیں دیتا، بلکہ قاری پر چھوڑ دیتا ہے اور ہم سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ محبت اور ہمدردی ہی وہ راستے ہیں جن پر چل کر ہم اپنی تہذیب کو انسان دوست بنا سکتے ہیں۔
شاعر کا پیغام صاف ہے
ہمیں برائی کے اسباب ختم کرنے ہوں گے، نہ کہ قصور وار کو مٹا دینا
یہی وہ مقام ہے جہاں شاعر
“گناہ سے نفرت، گناہگار سے محبت” کے فلسفے کو
ایک نئی، انتہائی انسانی معنویت میں زندہ کرتا ہے۔
فکر کی یہ جہت ، مخلوق خدا سے عملی اور بامعنی محبت کرنے کی لگن عطا کرتی ہے۔
”
نصیر احمد
کینیڈا

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ذات کا سناٹا
  • بیگم اور AI کا ٹیکنالوجی ٹکراؤ
  • سی پیک کی سیاست
  • حجامت
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
اعداد و شمار میں نہیں تھے
پچھلی پوسٹ
تشنہ لبی میں گزری ہے یہ زندگی بہت

متعلقہ پوسٹس

نَفَسِ آفرینش

مئی 26, 2025

نتھلی نہیں ہے گویا رخِ ماہ تاب پر

دسمبر 8, 2025

برفاب

جون 21, 2020

داغؔ کے کلام میں حمد و نعت

دسمبر 4, 2019

انتہاری

جنوری 8, 2022

زندگی کی سب سے بڑی خواہش

جنوری 4, 2022

روح میں درد کی تاثیر اٹھا لائے ہیں

جون 22, 2026

بے روزگاری کا چیلنج

اکتوبر 3, 2025

گردش

جون 3, 2023

کرونا ویکسین اور غلط فہمیاں

ستمبر 5, 2021

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز

اسلامی گوشہ

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

اردو شاعری

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

اگست 30, 2026

ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

تیسری ہندکو کانفرنس

اگست 24, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط

    اگست 30, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

نئے سال کا پہلا کالم محبت...

جنوری 1, 2019

گورکن

فروری 6, 2026

عالم تمام حلقۂ دامِ فراڈ ہے

جون 3, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں