خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباترجیحات
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزعابد خان لودھی

ترجیحات

عابد خان لودھی کا ایک اردو کالم

از سائیٹ ایڈمن مئی 8, 2020
از سائیٹ ایڈمن مئی 8, 2020 0 تبصرے 821 مناظر
822

ترجیحات

قیام پاکستان سے اب تک حکمرانوں کی ترجیحات قومی دائرے میں نہیں آسکیں۔ وجہ یہ ہے ایک سوچ کے مطابق لوگوں کو اس طرح دبا کر رکھو کہ یہ اپنے مسائل میں ڈوبے رہیں اور اقتدار کی طرف انکی توجہ نہ آسکے دوسری سوچ کہ ایسے کام کئے جائیں کہ کمشن کا انبار ان کے حصے میں آئے عوام مریں یا جئیں اس سے ان کا کوئی عمل دخل نہیں تیسری سوچ کے مطابق اقتدار پر قبضہ کے لئے ہر جائز اور نا جائز طریقہ استعمال کیا جائے۔ سیاست ایسا کاروبار ہے جس میں نقصان ہے ہی نہیں مثلا بیسیوں لوگ میری نظر میں ایسے ہے جو سیاست سے پہلے درمیانے درجے سے تعلق رکھتے تھے اورہمارے حلقہ احباب میں سے ہیں آج کم از کم ارب پتی ہو گئے ہیں۔ تو ایسے کاروبار کو کوئی کیسے خیر آباد کہے گا۔ ہمارے حکمران آج تک پاکستان میں جذبہ قومیت پیدا نہیں کرسکے آج بھی ہم غیر پاکستانی ہیں۔
لیڈر اور سیاستدان میں فرق ہوتا ہے۔سیاست دان پیسے بناتے ہیں اور وہ اس مشن میں سو فیصد کامیاب ہیں۔لیڈر قومیں بناتے ہیں۔لیڈر کی مثال ہمارے آقا محمدﷺ کی ہے۔ مملکت کا سربراہ اور خود کا خزانہ خالی ۔ وصال کے وقت کفن تک کا بندوبست نہیں تھا۔ سپہ سالار تھے لیکن رسولﷺ کی دیوار پرنو تلواریں لٹکی ہوئی تھیں۔ جنگ خندق میں ایک صحابی نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ بھوک لگی ہوئی ہے آپﷺنے فرمایا پیٹ پر پتھر باندھ لو اور اپنے پیٹ سے کپڑا اٹھا کر اسے دکھایا آپﷺ نے دو پتھر باندھے ہوئے تھے۔ خلیفۃ المسلمین عمربن خطابؓسے ایک وفد ملنے آیا انہوں نے کہاں خلیفہ سے ملنا ہے ایک شخض نے بتایا وہ انکا گھر ہے جب وہ گھر کے قریب گے تو تمام دروازے کھلے تھے یعنی ڈیوڑی تھی نہ دربان ہر شخض کو کھلے عام آنے کی اور اپنا مدعا بیان کرنے کی اجازت تھی۔ خلیفہ گھر میں موجود نہ تھے کسی اور سے دریافت کیا تو پتہ چلا کے وہ باغ میں ہیں وفد وہاں پہنچا اور دیکھا کہ وہ ایک درخت کے سائے تلے آرام فرما رہے ہیں جس کا مطلب یہ تھا کہ پوری قوم کو ان پر اعتماد ہے۔انہوں نے کہا کہ انہیں دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔کہ قوم کو ان سے کوئی شکایت نہ ہے کہ ان کا سربراہ اکیلے میں آرام فرما رہے تھے حضرت علیؓ سوکھی روٹی پانی میں ڈبوکرکھا رہے تھے ایک مفلس نے فریاد کی مجھے بھوک لگی ہے فرمایا وہ سامنے گھر میں لنگر تقسیم ہو رہا ہے۔ وہ وہاں گیا اور لنگر کھایا بعد میں تقسیم کار سے درخواست کی کہ مجھے تھوڑا سا لنگر چاہیے وہاں ایک بابا جی سوکھی روٹی پانی میں بھگوکر کھا رہے ہیں انہوں نے فرمایا یہ گھر ان کا ہی ہے میں ان کا بیٹاحسینؓ ہوں اور وہ میرے بابا علیؓ ہیں۔
غریب ِشہر ترستا ہے اک نوالے کو امیر شہرکے کتے بھی راج کرتے ہیں
ایک دفعہ حضرت عمرفاروقؓ کسی کام سے جا رہے تھے۔ ایک سیاح کو پتہ چلا کہ وہ مسلمانوں کے امیر ہیں۔ تو وہ یہ دیکھ کر بہت حیران ہوا بھا گا بھا گا آپ ؓ کے پاس پہنچااور پوچھا۔آپ مسلمانوں کے امیر ہیں۔ آپ ؓ نے جواب دیا ۔ میں ان کا امیر نہیں بلکہ ان کا محافظ ہوں۔ سیاح نے پوچھا۔ آپ اپنے ساتھ حفاظتی دستہ کیوں نہیں رکھتے۔ آپ نے جواب دیا عوام کا یہ کام نہیں کہ وہ میری حفاظت کریں۔یہ تو میرا کام ہے میں ان کی حفاظت کروں۔
حضرت عمر بن عبدالعزیز عید الفطر سے ایک روز قبل منصب خلافت کی ذمہ داریاں سر انجام دے رہے تھے کہ بیوی نے آ کر کہا کہ صبح عید ہے اور بچے نئے کپڑوں کی ضد کر رہے ہیں۔ اور گھر میں ان کا کوئی نیا کپڑا نہیں۔ اہلیہ کی بات سن کر ایک پریشانی لاحق ہو گئی بیت المال کے انچارج کو ایک رقعہ لکھا کہ اگر مجھے آئندہ ماہ کی تنخواہ پیشگی دیدیں۔تو میں نہایت ممنون ہو ں گا۔ خازن نے رقعہ کی پشت پر لکھ بھیجا۔ اگر امیر المومنین آئندہ ماہ زندہ رہنے کی ضمانت دے دیں تو میں پیشگی تنخواہ دینے کو تیار ہوں۔ جواب پڑھ کر اہلیہ سے فرمایارقم کا بندوبست نہیں ہو سکا لہٰذا پرانے کپڑوں کو دھو لواور کل بچے وہی دہلے ہوئے کپڑے پہن کر عید کریں گے۔
سلطان صلاح الدین ایوبی نے فرمایا جب حکمران اپنی سکیورٹی محسوس کرنے لگیں تو سمجھ لوکے وہ حکمرانی کے قابل نہیں رہے ۔عمرؓ راتوں کو لوگوں کی خبر رکھتے تھے آج ہمارے ہاں لیڈرکوئی نہیں سیاست دان ہیں مسلمانوں میں حکمرانی سپہ سالار کرتے آئے ہیں جمہوریت مغربی طرز حکومت ہے۔ جس کے بارے میں حکیم الامت شاعر مشرق نے فرمایا۔
جمہوریت اک طرزِحکومت ہے کہ جس میں ۔ بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے
جمہوریت کے ابلیس ہیں ارباب سیاست ۔ اب میری ضرورت نہیں تہہ افلاک
لیڈر عوام۔پبلک اور رعایا کے لئے کام کرتے ہیں۔ سیاستدان اور حکمران اپنے لئے کام کرتے ہیں۔ وہ لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے دن رات صرف کر دیتے ہیں۔ ان کی ترجیحات مندرجہ بالا سے واضع ہو گئی ہیں۔ اور آج کی ترجیحات کیا ہیں۔ درج ذیل ہیں۔
ہر سال ہمارے ملک کو سیلاب کی تباہ کاریوں کی وجہ سے بڑا جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ہم سیلاب سے متعلق اقدام کا سوچنا شروع کر دیتے ہیں۔سیلاب کے بعد ہم سوچتے ہیں۔کہ آئندہ لائحہ عمل کیا کرنا چاہئے۔ چند روز کے بعد ہماری ترجیحات پھر وہی۔جیسے تھے۔
میٹرو بس بڑی ضروری ہے مگر اس کے بغیر زندہ رہا جاسکتا تھا اس کی اہمیت سیلاب زدہ علاقوں سے زیادہ نہیں جہاں ہر سال کروڑوں عربوں کا نقصان ہوتا ہے بے شمار انسانی جانیں جاتی ہیں۔ حکمران اور نوکر شاہی پورا ملک لوٹ لوٹ کر کھا رہے ہیں اب ان کو سمجھناچاہیے کہ اہمیت کس کام کو دینی چاہیے ۔ میٹرو بس یا سیلاب زدگان کے جانو مال کی حفاظت کرنا۔بند بنانا اورپانی کا ذخیرہ کرنا فرض اولین ہونا چاہئے۔ ہمارے شہر سیالکوٹ میں 10 منٹ بارش کے بعدآدھاشہر پانی میں ڈوب جاتا ہے مگرہماری توجہ ٹف ٹائل پر ہے۔کیونکہ اگر نالے صاف ہونگے تووہ لوگوں کو نظر نہیں آئیں گے۔ کہ ہم نے کام کیا ہے مگر ٹف ٹائیل نظر آتی ہے لہذا ہم اس کام کو ترجیح دیں گے جس میں کمیشن بھی ہو اورکام بھی نظر آئے۔
سیالکوٹ کا پانی زہرآلودبن چکا ہے آپ سب اس بات سے بخوبی واقف ہونگے کہ پانی کا نل کھولوٹب میں پانی بھر دو ایک دو گھنٹے بعد نیچے مٹی کی تہہ نظر آئے گی یہ پانی جانوروں کے استعمال کے قابل نہیں جو ہم پی رہے ہیں شہر میں زیادہ فلٹر نصب نہیں ہم نے اپنے فلٹر کا پانی چیک کروایاہے اس میں لکھا ہے کہ یہ پانی پینے کے قابل نہیں یہ حکمرانوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ کہ جو مال ہمارے خون پسینے کی کمائی سے اکٹھا ہوتا ہے۔ اس کو مال مفت دل بے رحم کی طرح اڑا دیا جاتا ہے۔ اس کی تازہ مثال درج ذیل ہے۔
کچھ عرصہ پہلے پل ایک نیکا پورہ سے چرچ روڈ تک سڑک کے درمیان میں 36 عدد خوبصورت مغلیہ دور ڈیزائن والے کھمبے لگائے گئے۔ ان پر بہت دلکش اور خوبصورت گلوب نصب تھے جو رات کو جلتے تھے۔کتنی افسوس ناک بات ہے کہ ان کھمبوں کو اتارکر ان کی جگہ نئے کھمبے لگانے کا ٹھیکہ دے دیا گیا ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ بالکل صحیح کھمبے اور گلاب نیلام ہوئے یا نواز دئے گئے۔ اور نئے ٹھیکے میں کس کو نوازہ گیا۔ پرانے کھمبوں کی بنیادوں کو بھی نیست و نابود کیا جا رہا ہے۔ اور نئی بنیادوں پر نئے کھمبے لگائے جا رہے ہیں۔میرے خیال میں اس کی قطعی کوئی ضرورت نہ تھی۔ خدارا خوش کے ناخن لو اور اس غریب عوام کے خون پسینے کے مال کو بے دردی سے مت لٹاؤ۔
اہل اقتدار کے سوچنے کی بات ہے۔ ضرورت صاف پانی کی ہے کہ ٹف ٹائیل کی۔ کھمبوں کی تبدیلی کی ہے یا نکاس کی۔ میٹرو بس کی ہے یا دریاوٗں پر بند تعمیر کرنے اور پانی ذخیرہ کرنے کی۔

عابد خان لودھی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • غزہ اور گمشدہ اُمتِ مسلمہ!
  • سو اب دیوار کے اندر سے پھر اک در نکالوں گی
  • ذہن و دل میں بیٹھ کر
  • جب پڑے آنکھ, ہاتھ, کنکر پر
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
جب عشق کا رستہ دیکھا تھا
پچھلی پوسٹ
کس مصیبت میں پڑ گئی ہے ہوا

متعلقہ پوسٹس

کوئی کمی سی ہے

نومبر 3, 2020

دل پہ تالہ نہ کوئی اور

مارچ 8, 2025

احمد ندیم قاسمی

جولائی 11, 2024

گلہری کہ ناری

دسمبر 10, 2019

پاکستان میں دہشت گردی کا ابھار

فروری 7, 2026

تحفظ ناموس رسالتؐ اور رعب مسلم

نومبر 13, 2020

مِصری کی ڈلی

جنوری 16, 2020

پاکستانی فوج کی داستان

مارچ 20, 2026

بن کے دلدار ترے حق میں گواہی دی ہے

جولائی 7, 2020

چمپا اُداس ہے کہیں بیلا اداس ہے

مئی 22, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

اُردو منقبت کی روایت

جنوری 1, 2023

ادبی تخلیق اور ادبی تنقید

مئی 27, 2024

بڑے گھر کی بیٹی

دسمبر 10, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں