خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباپروین شاکر: خوشبو کی شاعری
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزپروین شاکررحمت عزیز خان

پروین شاکر: خوشبو کی شاعری

از رحمت عزیز خان نومبر 24, 2025
از رحمت عزیز خان نومبر 24, 2025 0 تبصرے 77 مناظر
78

پروین شاکر: خوشبو کی شاعری
(24 نومبر یوم پیدائش پر خصوصی تحریر)
ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی

اردو شاعری کی تاریخ میں وہ خواتین شاعرہ بہت کم ہیں جنہوں نے کم وقت میں اپنی پہچان اس شدت سے قائم کی کہ ان کے بعد آنے والی نسلیں انہیں ایک عہد کی علامت سمجھنے لگیں۔ پروین شاکر انہی میں سے ایک بہترین شاعرہ تھیں۔ وہ صرف شاعرہ ہی نہیں تھیں، بلکہ ایک پوری سماجی، فکری اور نسائی روایت کی نئی تشکیل کا ذریعہ بھی بنیں۔ ان کی شاعری نے اردو غزل کے لہجے کو نئی سمت دی اور عورت کی داخلی خیالات کو پہلی بار اس کھلے پن، نرمی اور بے ساختگی کے ساتھ بیان کیا جس کی مثال جدید اردو شاعری میں کم ملتی ہے۔
پروین شاکر 24 نومبر 1952 کو کراچی میں ایک علمی اور ادبی گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد شاکر حسین ثاقب خود بھی شاعر تھے، جس نے پرویز شاکر کی ادبی شخصیت کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا۔ تقسیمِ ہند کے بعد نئے وطن مملکت خداداد پاکستان میں شناخت کی تلاش، شہری زندگی کی بنتی بگڑتی صورت حال اور متوسط طبقے کے مسائل یہ ساری فضا پروین کی شخصیت کے ساتھ ساتھ ان کی شاعری میںParveen Shakir بھی رچی بسی نظر آتی ہے۔
ان کی تعلیم نہایت متنوع رہی۔ انگریزی ادب، لسانیات، انتظامی علوم اور بعد میں ہارورڈ سے ماسٹرز کی ڈگری یہ سفر بتاتا ہے کہ وہ محض جذبے کی ہی شاعرہ نہیں تھیں بلکہ ایک گہری فکری بنیاد بھی رکھتی تھیں۔
سن ستر کی دہائی اردو غزل کے لیے ایک نئے تجرباتی دور کا آغاز تھی۔ فیض، جمیل الدین عالی، جون ایلیا، احمد مشتاق اور قتیل شفائی جیسے شعرا اپنی اپنی آوازوں کے ساتھ موجود تھے۔ اس منظرنامے میں ایک نئی نوجوان شاعرہ کا آنا آسان نہیں تھا۔ لیکن ان کی کتاب خوشبو (1976) نے منظر ہی بدل دیا۔
اس مجموعے نے یہ واضح کر دیا کہ ایک نرم لہجے میں کہی گئی بات کبھی کبھی سب سے زیادہ مؤثر ہوتی ہے۔ عورت کا احساس، عورت کی زبان اور عورت کی داخلی بے چینی کو پہلی بار اتنی سادگی اور نفاست سے بیان کیا گیا کہ پوری نسل نے اس کی طرف توجہ کی۔
پروین شاکر کی غزل روایت اور احساس کا نیا امتزاج بھی جابجا ملتا ہے۔ پروین شاکر کی غزل کلاسیکی روایت سے جڑی ہوئی ہے، لیکن اس میں ایک نیا لہجہ ہے۔ استعارے وہی ہیں مثلاً چاند، پھول، خوشبو، بارش، تتلی وغیرہ لیکن ان کے معنی بدل گئے۔ محبوب کے بجائے محبوبہ کی داخلی کیفیات موضوع بن گئیں۔
ان کی غزل کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ وہ عورت کو موضوع نہیں بناتیں بلکہ اسے خود مصنف بھی بناتی ہیں۔
نسائی ضمیر کا براہِ راست استعمال، نرمی کے ساتھ احتجاج اور جذبات کے اظہار میں جھجھک سے انکار یہ وہ خصوصیات ہیں جو پروین شاکر کی غزل کو ممتاز بناتی ہیں۔
مثال کے طور پر “وہ تو خوشبو ہے” والا شعر محض رومانی کیفیت ہی نہیں، بلکہ جذباتی تعلق میں طاقت کے عدم توازن کی نشاندہی بھی ہے۔
اگر غزل ان کی پہچان ہے تو آزاد نظم ان کا اصل تجربہ گاہ ہے۔ یہاں انہیں کسی عروضی پابندی نے محدود نہیں کیا۔ اسی لئے ان کی آزاد نظموں میں موضوعات نہایت وسیع ہیں جن میں سماجی نابرابری، عورت پر معاشرتی دباؤ، جنسی استحصال، معاشی ظلم، سیاسی اور طبقاتی منافقت، جدید شہری زندگی کی بے حسی وغیرہ وغیرہ شامل ہیں۔
"اسٹیل ملز ورکر” جیسی نظمیں صرف ادب نہیں بلکہ ایک سماجی دستاویز بھی ہیں۔ یہاں محبت کی نہیں، پسینہ بہاتے عام آدمی کی بات کی گئی ہے جو ترقی کے نام پر قربان ہو جاتا ہے۔

اسی طرح "وی آر آل ڈاکٹر فاسٹس” میں طاقت اور دولت کے کھیل کو بے نقاب کیا گیا ہے۔
پروین شاکر نے انگریزی الفاظ کا استعمال بھی بے جھجک کیا، جسے بعض ناقدین نےParveen Shakir انہیں اعتراض کا نشانہ بنایا، لیکن ان کا اصرار تھا کہ شہری عورت کی زندگی انہی الفاظ کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے زبان کو حقیقت سے جوڑ کر پیش کیا، نہ کہ روایت کی خاطر اسے جامد رکھا۔
ان کی شاعری میں جہاں محبت کا ذکر ملتا ہے وہاں عورت اور سماج کا بھی زکر ملتا ہے۔ پروین شاکر شاعری کے موضوعات کی تہہ داری سب سے منفرد ہے۔ پروین شاکر کی شاعری کا سب سے بنیادی پہلو عورت کے احساسات کی صداقت ہے۔ وہ محبت کو رومانیت کے پردے میں چھپاتی نہیں، بلکہ اس کی تکلیف، اس کی فوری کیفیت اور اس کی سماجی قیمت دونوں کو ساتھ لے کر چلتی ہیں۔
ان کی شاعری میں تین واضح محور دکھائی دیتے ہیں جن میں سرفہرست عورت کی داخلی دنیا ہے۔ محبت، بے وفائی، تنہائی، انتظار، خوف، امید یہ سارے جذبات پروین شاکر کی شاعری کا بنیادی حصہ ہیں۔ وہ ان احساسات کو پوری ایمانداری کے ساتھ لکھتی ہیں۔
ان کی شاعری میں عورت کا سماجی مقام بھی واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ طلاق، تنہائی، معاشرتی عدم اعتماد، اور مردانہ معاشرے کا جبر یہ سارے موضوعات اس شدت کے ساتھ پہلی بار کسی شاعرہ نے اٹھائے وہ پروین شاکر ہیں۔
انہوں نے جدید شہری زندگی کی پیچیدگیاں بھی بیان کی ہیں۔ دفتر، کارپوریشن، مہنگائی، تھکن، رش اور سیاسی بے چینی یہ سب کچھ پروین شاکر کی نظموں میں دکھائی دیتا ہے۔ وہ عورت کو صرف محبت کرنے والی ہستی کے طور پر پیش نہیں کرتیں، بلکہ ایک مکمل سماجی وجود کے طور پر پیش کرتی ہیں۔
پروین شاکر کے اسلوب میں چند بنیادی خصوصیات نمایاں ہیں جن میں نرم، پُرتاثیر اور شگفتہ لہجہ، استعاروں کا تخلیقی استعمال، اشاریت اور علامتوں کی تہہ دار
جذبات کی براہِ راست ترجمانی،زبان کی سادگی جو گہری معنویت رکھتی ہے، شہری زند گی کے جدید حوالوں کا استعمال وغیرہ وغیرہ۔ ان کے ہاں جذبات کبھی غیر ضروری پھیلاؤ کا شکار نہیں ہوتے۔ مختصر مصرع، سادہ ترکیب اور پُراثر تصویر یہی ان کا فنی اصول ہے۔
اردو تنقید نے پروین شاکر کو ہمیشہ سنجیدگی سے لیا۔ ان کے بارے میں تین بڑے نقطۂ نظر ملتے ہیں جن میں وہ جدید اردو غزل میں نسائی آواز کی سب سے مضبوط نمائندہ ہیں۔
ان کی غزل میں جذباتیت کہیں کہیں زیادہ ہے، لیکن اس کی صداقت سے انکار ممکن نہیں۔
آزاد نظم میں ان کی فکری گہرائی زیادہ نمایاں ہے بنسبت غزل کے۔
ان کے اثرات کی وسعت اس بات سے اندازہ لگائی جا سکتی ہے کہ آج کئی شاعرہ اپنے لہجے میں ان کے رنگ کی جھلک رکھتی ہیں، مگر اصل تخلیقی قوت صرف پروین شاکر کے پاس تھی۔
26 دسمبر 1994 کا حادثہ اردو ادب کے لئے ایسا سانحہ تھا جس نے ایک پورا عہد ادھورا چھوڑ دیا۔ وہ صرف 42 برس کی تھیں۔ ان کی موت نے ان کی شخصیت کے گرد ایک دائمی افسانوی فضا پیدا کر دی۔
ان کے بعد قائم ہونے والا پروین شاکر ادبی میلہ اور ان کے نام سے دی جانے والی ادبی خدمات کے اعزاز کی روایت اس بات کی علامت ہے کہ ان کا اثر اب بھی کم نہیں ہوا۔
پروین شاکر کی شاعری صرف الفاظ کا مجموعہ ہی نہیں، بلکہ ایک پوری نسل کی داخلی کائنات کی ترجمان بھی ہے۔ انہوں نے اردو غزل کو نیا لہجہ دیا، آزاد نظم کو نئی سمت دی اور عورت کو وہ زبان دی جس سے وہ اپنی کہانی خود سنانے کے قابل ہو گئی۔
ان کا ادبی سفر مختصر ضرور ہے، لیکن اس میں ایسی گہرائی اور وسعت ہے کہ آنے والی نسلیں انہیں جدید اردو شاعری کا سنگِ میل سمجھتی رہیں گی۔ پروین شاکر اپنے اسلوب، فکر، درد اور حسنِ بیان کے ساتھ آج بھی ہمارے ادب کا زندہ حوالہ ہیں۔ الله انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے آمین۔

ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • بھُٹو تُم سے نہیں مرے گا
  • جو بھی ہوتا ہے تِرا حال گُزارا کر لے
  • یہ کِس ڈھب کے اجالے ہو رہے ہیں
  • چھین کر میری ہر خوشی مجھ سے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
رحمت عزیز خان

اگلی پوسٹ
نہیں کھانے کا گھر میں
پچھلی پوسٹ
خواجہ غلام فرید

متعلقہ پوسٹس

راضی

اکتوبر 30, 2020

مجھے بناتا ہے میری جیسی نہیں بناتا

ستمبر 14, 2020

تو ہے کہ جس کے واسطے

نومبر 16, 2025

لیلۃ القدر – ایک رات اور پوری زندگی

مارچ 9, 2026

میرا بچہ

مارچ 22, 2020

حرفِ تسلی

جنوری 24, 2020

آدم بو

نومبر 26, 2020

آنکھ کھلتے ہی خواب یاد آیا

جنوری 30, 2020

تنہائیِ شب

دسمبر 25, 2025

تمہارے ہجر کا انجام خوب صورت ہے

ستمبر 19, 2023

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز

اسلامی گوشہ

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

اردو شاعری

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

اگست 30, 2026

ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

تیسری ہندکو کانفرنس

اگست 24, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط

    اگست 30, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

مسیحا

فروری 5, 2020

راہ چلتے کو یہ اعزاز نہیں...

جنوری 17, 2021

دہلیز کا آخری وعدہ

مارچ 9, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں