خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےحسن کی تخلیق
اردو افسانےاردو تحاریرسعادت حسن منٹو

حسن کی تخلیق

اردو افسانہ از سعادت حسن منٹو

از سائیٹ ایڈمن جنوری 24, 2020
از سائیٹ ایڈمن جنوری 24, 2020 0 تبصرے 414 مناظر
415

حسن کی تخلیق

کالج میں شاہد ہ حسین ترین لڑکی تھی۔ اس کو اپنے حسن کا احساس تھا۔ اسی لیے وہ کسی سے سیدھے منہ بات نہ کرتی اور خود کو مغلیہ خاندان کی کوئی شہزادی سمجھتی۔ اس کے خدوخال واقعی مغلئی تھے۔ ایسا لگتا تھا کہ نور جہاں کی تصویر جو اس زمانے کے مصوروں نے بنائی تھی، اس میں جان پڑگئی ہے۔ کالج کے لڑکے اسے شہزادی کہتے تھے، لیکن اس کے سامنے نہیں، پر اس کو معلوم ہو گیا تھا کہ اسے یہ لقب دیا گیا ہے۔ وہ اور بھی مغرور ہو گئی۔ کالج میں مخلوط تعلیم تھی۔ لڑکے زیادہ تھے اور لڑکیاں کم۔ آپس میں ملتے جلتے، لیکن بڑے تکلف کے ساتھ۔ شاہدہ الگ الگ رہتی۔ اس لیے کہ اس کو اپنے حسن پر بڑا ناز تھا۔ وہ اپنی ہم جماعت لڑکیوں سے بھی بہت ہم گفتگو کرتی تھی۔ کلاس میں آتی تو ایک کونے میں بیٹھ جاتی اور بت سی بنی رہتی۔ بڑا حسین بت۔ اس کی بڑی بڑی سیاہ آنکھیں جن پر گھنی پلکوں کی چھاؤں رہتی تھی، ساکت وصامت رہتیں۔ لڑکے اسے دیکھتے اور جی ہی جی میں بہت کڑھتے کہ یہ حسن خاموش کیوں ہے، اس قدر منجمد کس لیے ہے اسے تو متحرک ہونا چاہیے۔ اس کا رنگ گورا تھا۔ بہت گورا جس میں تھوڑی سی غلط روی بھی گھلی ہوئی تھی۔ اگر یہ نہ ہوتی تو شکر کی بنی ہوئی پتلی تھی جو دیوالی کے تہوار پر بکا کرتی ہیں۔ اس میں مٹھاس تھی، لیکن وہ ظاہر یہ کرنا چاہتی تھی کہ بڑی کڑویلی کسیلی ہے۔ کالج میں اس کا رویہ ہی کچھ اس قسم کا تھا کہ ہر وقت نیم کی نبولی بنی رہتی تھی۔ ایک دن اس کے ایک ہم جماعت لڑکے نے جرأت سے کام لے کر اس سے کہا۔

’’حضور۔ خاکساری میں اپنی جگہ دے کرکبھی کسی کو سرفراز توکریں!‘‘

اس نے کوئی جواب نہ دیا۔ دوسرے دن اس طالب علم کو پرنسپل نے بلایا اور اسے نکال باہر کیا۔ اس حادثے کے بعد تمام لڑکے محتاط ہو گئے۔ انھوں نے شاہدہ کودیکھنا ہی چھوڑ دیا کہ مبادا ان کا وہی حشر ہو، جو اس طالب علم کا ہوا۔ شاہدہ اب بی۔ اے میں تھی۔ خوبصورت ہونے کے علاوہ کافی ذہین تھی۔ اس کے پروفیسر اس کی ذہانت اور خوبصورت سے بڑے مرعوب تھے۔ پرنسپل کی چہیتی تھی۔ اس لیے کہ وہ اس کی بڑی بہن کے بڑے لڑکے کی بیٹی تھی۔ کالج میں چہ میگوئیاں ہوتی ہی رہتی ہیں۔ شاہدہ کے متعلق قریب قریب ہر روز طالب علموں میں باتیں ہوتی تھیں۔ وہ اس کے متعلق کوئی بری رائے قائم نہیں کر پاتے تھے، اس لیے کہ اس کا کریکٹر بڑا مضبوط تھا۔ ٹک شاپ میں باتیں ہوتیں اور شاہدہ کا حسن زیر بحث ہوتا۔ سب سوچتے کہ یہ حسین قلعہ کون سر کرے گا۔ شاہدہ کو، جیسا کہ سب کو معلوم تھا، صرف خوبصورت چیزیں پسند تھیں۔ وہ کسی بدصورت چیز کو برداشت نہیں کرسکتی تھی۔ ایک دن کلاس میں ایک لڑکے کی رینٹھ بہہ رہی تھی۔ شاہدہ نے جب اس کی طرف دیکھا تو فوراً اٹھ کر چلی گئی۔ وہ بڑی نفاست پسند تھی۔ اس کو وہ ہرچیز کھلی تھی جو بدنما ہو۔ کالج میں ایک لڑکی جمیلہ تھی۔ بڑی بدصورت، مگر شاہدہ کے مقابلے میں کہیں زیادہ ذہین۔ اس کو وہ نفرت کی نگاہوں سے دیکھتی تھی۔ ویسے وہ اس کی ذہانت کی قائل تھی اور کوئی رشک محسوس نہیں کرتی تھی۔ کالج کے سب لڑکے سوچتے تھے کہ شاہدہ اگر حسین نہ ہوتی تو کتنا اچھا ہوتا۔ وہ اس سے بات چیت تو کرسکتے۔ مگر وہ اپنے حسن کے غرور میں سرشار رہتی اور کسی کومنہ ہی نہیں لگاتی تھی۔ ایک دن کالج میں ہنگامہ سا برپا ہو گیا۔ ایک لڑکا جس کے والد کی تبدیلی ہو گئی تھی، اس کالج میں داخلہ لینے کے لیے آیا۔ لڑکوں اور لڑکیوں نے اسے دیکھا اور ششدر رہ گئے۔ وہ شاہدہ سے زیادہ خوبصورت تھا۔ اس کا نام شاہد تھا۔ اس کو داخلہ مل گیا۔ جس کلاس میں شاہدہ تھی، اسی میں شاہد تھا۔ اتفاق کی بات ہے کہ جب شاہد پہلے روز کلاس روم میں آیا تو شاہدہ موجود نہیں تھی۔ اس کو زکام ہو گیا تھا اور اس کے باعث اس نے دو روز کے لیے چھٹی لے لی تھی۔ دو دن کے بعد جب شاہد کالج کے باغ میں ٹہل رہا تھا تو اس نے دیکھا کہ ایک خوبصورت، مگر بے جان سی مورت آرہی ہے۔ اس نے اپنی کتابیں بینچ پر رکھیں اور آگے بڑھا۔ شاہدہ نے اسے دیکھا۔ وہ اس کی خوبصورتی سے متاثر ہوئی اور تھوڑی دیر کے لیے اس کے قدم رک گئے۔ زمین گیلی تھی، کیچڑ سی ہورہی تھی۔ شاہد جب اس کی طرف بڑھا تو وہ گھبرا سی گئی۔ اس گھبراہٹ میں اس کا پاؤں پھسلا اور وہ اوندھے منہ زمین پر گر پڑی۔ شاہد نے لپک کر اسے اٹھایا۔ شاہدہ کے ٹخنے میں موچ آگئی تھی، مگر اس نے مسکرا کر کہا۔

’’شکریہ۔ آپ کون ہیں؟‘‘

شاہد نے جواب دیا۔

’’خادم!‘‘

’’آپ خادم تو دکھائی نہیں دیتے۔ ‘‘

’’کیا دکھائی دیتا ہوں۔ بعض اوقات صحیح شکلیں غلط دکھائی دیا کرتی ہیں۔ ‘‘

شاہدہ کو یہ بات پسند آئی۔ اس کے ٹخنے میں درد ہورہا تھا مگر وہ اسے چند لمحوں کے لیے بھول گئی۔

’’آپ کا نام؟‘‘

’’شاہد‘‘

شاہدہ نے سوچا کہ شاید وہ اس کا نام سن چکا ہے اور شرارت کے طور پر شاہد بن رہا ہے۔

’’آپ غلط کہہ رہے ہیں۔ ‘‘

’’آپ کالج کے رجسٹر سے اس کی تصدیق کرسکتی ہیں۔ ‘‘

’’آپ اس کالج میں پڑھتے ہیں؟‘‘

’’جی ہاں۔ آپ یہاں کیسے چلی آئیں؟‘‘

’’واہ۔ میں بھی تو یہیں پڑھتی ہوں۔ ‘‘

’’کس کلاس میں؟‘‘

’’بی اے میں؟‘‘

’’میں بھی تو بی اے میں ہوں۔ ‘‘

’’جھوٹ۔ آپ تو مالی معلوم ہوتے ہیں۔ ‘‘

’’اس شکل کے آدمی واقعی مالی معلوم ہوتے ہیں۔ لیکن افسوس ہے کہ میں نے ابھی تک کوئی پھول نہیں توڑا۔ ‘‘

’’پھول کیا توڑنے کے لیے ہوتے ہیں۔ انھیں تو صرف سونگھنا چاہیے۔ ‘‘

شاہد ایک لحظہ کے لیے خاموش ہو گیا۔ پھر اس نے سنبھل کر کہا۔

’’میں آپ کو سونگھ رہا ہوں۔ ‘‘

شاہدہ بھنا گئی۔

’’آپ بڑے بدتمیزہیں۔ ‘‘

شاہد نے بینچ پرسے کتابیں اٹھاتے ہوئے مسکرا کر کہا۔

’’میں نے آپ کو توڑا تو نہیں۔ صرف سونگھ لیا ہے۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ آپ کی پنکھڑیوں میں سے غرور کی بو آتی ہے۔ اوہ، معاف کیجیے گا، غرور میں کرسکتا ہوں لیکن مردوں کے ساتھ۔ میں بھی ایک پھول ہوں، پر آپ کلی ہیں۔ میں آپ سے مقابلہ نہیں کرسکتا۔ ‘‘

شاہدہ اپنا ٹخنہ پکڑے بیٹھی تھی۔ ایک دم کراہنے لگی۔

’’ہائے۔ ہائے، بڑا درد ہورہا ہے۔ ‘‘

شاہد نے اس سے اجازت طلب کی۔

’’کیا میں اسے دبا دوں؟‘‘

’’دبائیے۔ خدا کے لیے دبائیے۔ ‘‘

شاہد نے اس کے موچ آئے ہوئے ٹخنے پر اس طور پر مساس کیا کہ پندرہ منٹ کے اندر اندر شاہدہ کا درد دور ہو گیا۔ اس واقعے کے بعد کالج میں وہ دونوں خالی پیریڈوں میں اکٹھے باہر جاتے اور باغ میں بیٹھ کر جانے کیا باتیں کرتے رہتے۔ شاید وہ یہ کوشش کررہے تھے کہ دونوں گیلی زمین پر پھسلیں اور ان کے دل کے ٹخنوں میں موچ آجائے اور وہ ساری زندگی ان کو سہلاتے رہیں۔ دونوں نے بی۔ اے پاس کرلیا۔ بڑے اچھے نمبروں پر۔ شاہدہ کے نمبر شاہد کے مقابلے میں پانچ زیادہ تھے۔ اس نے اس کا بدلہ لینا چاہا۔

’’شاہدہ! میں یہ پانچ نمبر ابھی لیے لیتا ہوں۔ ‘‘

’’کیسے‘‘

شاہد نے اس کو پہلی مرتبہ اپنی گود میں اٹھایا اور اس کو پانچ مرتبہ چوم لیا۔ شاہدہ نے کوئی اعتراض نہ کیا، وہ بہت خوش ہوئی۔ لیکن تھوڑی دیر کے بعد اس نے شاہد سے بڑی سنجیدگی سے کہا۔

’’ہمارے نمبر پورے ہو گئے۔ لیکن آج کے اس واقعے کے بعد میں نے فیصلہ کرلیا ہے کہ آپ کی میری شادی ہوجانی چاہیے۔ میں اپنے ہونٹ اب کسی اور کے ہونٹوں سے آلودہ نہیں کروں گی۔ ‘‘

شاہد بہت خوش ہوا۔ اسے یقین ہی نہیں تھا کہ اس کی دلی آرزو کبھی پوری ہو گی۔ اس نے اسی خوشی میں پانچ نمبراور حاصل کرلیے اور شاہدہ سے کہا۔

’’میری جان! میں اسی امید میں تو اب تک جیتا رہا ہوں۔ ‘‘

شاہدہ کے والدین نے اس کی شادی کی ایک جگہ بات چیت کی، مگر شاہدہ نے صاف صاف انکار کردیا کہ وہ کسی بدصورت مرد سے رشتہ ازدواج قائم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ بہت جھگڑے ہوئے۔ آخر شاہدہ نے بتایا کہ وہ اپنے ہم جماعت شاہد کو، جو بہت خوش شکل ہے، پسند کرتی ہے۔ اس کے علاوہ کسی اور مرد کو اپنی رفاقت میں نہیں لے گی۔ اس کے ماں باپ شاہد کے والدین سے ملے۔ بڑے شریف اور متمول آدمی تھے۔ روشن خیال بھی۔ شاہد کو جب انھوں نے دیکھا تو بہت خوش ہوئے۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے ولایت جارہا تھا، لیکن اس کی خواہش تھی کہ پہلے شادی کرے اور اپنی بیوی کو ساتھ لے کر جائے تاکہ وہ بھی باہر کی دنیا دیکھے۔ جب والدین رضا مند ہو گئے تو ان کی شادی ہو گئی۔ وہ بہت خوش تھا۔ پہلی رات شاید نے اپنی بیوی سے کہا۔

’’ہمارا بچہ۔ لڑکی ہو یا لڑکا۔ جب پیدا ہو گا تو اسے دنیا دیکھنے آئے گی۔ ‘‘

شاہدہ نے پوچھا۔

’’کیوں؟‘‘

شاہد ہنسا۔

’’میری جان! تم اتنی حسین ہو۔ میں بھی کچھ بدشکل نہیں۔ ہمارا بچہ یقیناً ہم دونوں سے کہیں زیادہ خوبصورت ہو گا۔ ‘‘

ہنی مون منانے کے لیے وہ سوئٹزرلینڈ چلے گئے۔ وہ یہاں چار مہینے رہے۔ اس کے بعد لندن چلے گئے۔ جہاں شاہد کو پی، ایچ، ڈی کی ڈگری لینا تھی۔ شاہد کے باپ میاں ہدایت اللہ کی وہاں ایک کوٹھی تھی جو ان کی آمد سے پہلے ہی خالی کرالی گئی۔ شاہدہ بہت خوش تھی اور شاہد بھی، اس لیے کہ وہ ایک بچے کی آمد کا انتظار کررہے تھے۔ شاہدکہتا تھا۔

’’ہمارا بچہ اتنا حسین اور خوبصورت ہو گا کہ اس کا جواب نہ ہو گا۔ ‘‘

شاہدہ کہتی۔

’’خدا نظر بد سے بچائے۔ ضرور گل گوتھنا سا ہو گا۔ ‘‘

پورے دن ہوئے تو بچہ ہونے کے آثار پیدا ہوئے۔ شاہد نے اپنی بیوی کو میٹرنٹی ہوم میں داخل کرادیا۔ لیبر وارڈ کے باہر شاہد بڑے اضطراب میں ادھرسے ادھر ٹہل رہا تھا۔ اس کی نظروں کے سامنے ایک ایسے بچے کی تصویر تھی جس کے خدوخال اس کے اور اس کی بیوی کے آپس میں بڑے حسین طور پر مدغم ہو گئے ہوں۔ لیبر وارڈ سے نرس باہر آئی۔ شاہد نے لپک کر اس سے پوچھا۔

’’خیریت ہے؟‘‘

’’جی ہاں!‘‘

’’لڑکا ہوا یا لڑکی؟‘‘

نرس پریشان سی تھی۔ اس نے صرف اتنا کہا۔

’’پتہ نہیں لڑکا ہے یا لڑکی۔ پر ہم نے ایسا بچہ کبھی نہیں دیکھا۔ ‘‘

شاہد نے خوش ہو کرپوچھا۔

’’بہت خوبصورت ہے نا؟‘‘

نرس نے منہ بنا کر جواب دیا۔

’’بڑی اگلی ہے۔ اس کے سر پر ایسا معلوم ہوتا ہے سینگ ہیں۔ دانت بھی ہیں۔ ناک بڑی ٹیڑھی ہے۔ دو آنکھیں ہیں پر ایک آنکھ ایسا لگتا ہے ماتھے پر بھی ہے۔ تم لوگ اتنے خوبصورت ہو کر کیسے بچے پیدا کرتا ہے؟‘‘

شاہد اپنے بچے کو دیکھنے کے لیے نہ گیا۔ لیکن دوسرے دن میٹرنٹی ہوم میں ٹکٹ لگا دی گئی کہ جو آدمی چاہے، اس عجیب الخلقت بچے کودیکھ سکتا ہے۔

سعادت حسن منٹو

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • اور ہم تمہیں لازماً آزمائیں گے
  • بیشک ۔ دُعا تقدیر کو بدل دیتی ہے
  • نبی اُمّیﷺ بحیثیت معلم
  • جب ہم پاکستانی بن کرسوچیں گے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
حافظ حسین دین
پچھلی پوسٹ
حجامت

متعلقہ پوسٹس

برمی لڑکی

اپریل 21, 2019

نقوشِ وجود

دسمبر 11, 2024

شہر کی سیر

جولائی 31, 2022

سرائیکی وسیب کا عشق ممنوع

دسمبر 7, 2019

نیا عزم

جون 10, 2024

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

فرشتہ

جنوری 15, 2020

بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

مئی 15, 2026

پیرن

جنوری 24, 2020

انسان ہوں پیالہ و ساغر نہیں ہوں میں

جنوری 29, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

کرونا وائرس: کیسے اور کہاں تک...

مارچ 19, 2020

دیمک بہتر یا کیڑا؟

اکتوبر 27, 2020

عرصئہ دہر کی جُھلسی ہوئی ویرانی...

اپریل 21, 2017
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں