خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباسرائیکی وسیب کا عشق ممنوع
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمز

سرائیکی وسیب کا عشق ممنوع

عارف رمضان جتوئی کا ایک اردو کالم

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 7, 2019
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 7, 2019 0 تبصرے 373 مناظر
374

سرائیکی وسیب کا عشق ممنوع

معزز علاقہ کے بیٹے کی شادی تھی۔ سرائیکی وسیب کے افراد بڑی تعداد میں جمع تھے۔ "سرائیکی جھومر” (ڈانس) کا وقت ہونے والا تھا۔ گاﺅں کے ماحول میں رات کی تاریکی ڈائن کی طرح پورے وسیب پر چھا چکی تھی۔ خاموشی میں پتے کے کھڑکھنے کی آواز بھی سنی جاسکتی تھی۔ شادی والے گھر میں قمقمے جگ مگ کررہے تھے۔ مختصر انتظار کے بعد ایک بڑی سی گاڑی معزز علاقہ کے گھر کے گیٹ پر رکی۔ تین ہیولے اترے اور لڑھ کھڑاہتے ہوئے گیٹ سے اندر داخل ہوگئے۔ انٹری کے ساتھ ہی سیٹیوں اور شور کی ایک بلند آواز ابھری اور خاموشی کا دل چیرتی ہوئی گاﺅں کے ماحول میں تحلیل ہوگئی۔
مصنوعی سازوں میں ترتیب دیے گئے ڈھول کی آواز نے شرکا محفل کو اپنے سحر میں جکڑنا شروع کردیا۔ ڈھول کے ساتھ کچھ مزید سازوں نے ساتھ دیا تو پورے ماحول میں جیسے تازگی کی لہر دوڑ گئی ۔ سرائیکی گانے کی گونج کے ساتھ ہی گھنگرووں کی چھنکار بھی شامل ہوچکی تھی۔ کچھ جوانوں کے باتمیز حوصلے اب جواب دے چکے تھے۔ محفل میں صنف نازک کے روپ میں تھرکتے 3 اجسام کے ساتھ وہ بھی اب بے ڈھنگے انداز میں جھوم رہے تھے۔ پچھلی رات میں شادی کے کھانے کے لیے جلنے والی آگ کے کوئلوں کی طرح محفل بھی بجھتی چلی گئی۔
رات گئے محفل کی رونق بننے والے ان غیر مناسب نوجوانوں کی صبح کچھ دیر سے ہوئی۔ بزرگ جلدی اٹھ چکے تھے۔ لعنتیں تو گویا ان پر رات ہی کو پڑی ہوں گی مگر صبح نہار منہ بڑوں سے بھی لعنتیں کھانے کے بعد گویا دن کا آغاز ہوا۔ پورا دن معزز علاقہ کی محفل اور تھرکتے جسموں پر تبصروں میں گزرا۔ کسی نے صرف تعریف اور کسی نے خوب تعریف کی۔ گویا پیاسے جوانوں کی تسکین کا بندوبست کیا گیا تھا۔ وہ تو خوش تھے مگر سرائیکی وسیب کہیں کھڑا اپنی بے حرمتی پر کڑھ رہا تھا۔ اسے آج اپنے ہونے پر شرمندگی محسوس ہورہی تھی۔ اس نے کئی بار سوچا کہ وہ تو کبھی ایسا نہ تھا مگر معزز وسیب نے اب اسے ویسا قرار دیے دیا تھا۔ یہ ایک رات کی بات نہیں اب تو یہ سرائیکی وسیب کا معمول بنتی جارہی ہیں۔
وقت وقت کی بات ہے کہ جب وی سی آر کو کپڑے میں چھپا کر رات کے پچھلے پہر کسی گمنام کمرے میں رکھ کر چار نوجوان کچھ معقول فلمیں دیکھتے تھے اس پر ڈر بھی رہتا تھا کہ کہیں کوئی دیکھ نہ لے اور اب حال یہ ہے کہ سرعام محفل سجے اور بے ڈھنگے لباس میں صنف نازک کی شبیہ کو بھوکے پیاسے لڑکوں کے سامنے چھوڑ دیا گیا۔ پوری رات وہ نازک ان کی نظروںکا سامنا کرتیں عادت پیسے جمع ہوتے رہتے۔ روحیں کانپتی رہیں اور بدروحین محظوظ ہوتی رہیں۔ لُکا چُھپی کی محبت اب عیاں دکھنے لگی ہے۔ بزرگوں کا خوف تو جاتا ہی رہا الٹا تعظیم بھی ختم ہونے لگی ہے۔
ان حالات کی بنیادی وجہ سرائیکی وسیب نہیں بلکہ وسیب میں جینے والے کچھ نفوس ہیں۔ سرائیکی وسیب وہ معاشرہ ہے کہ جہاں اٹھنے، بیٹھنے، چلنے، پھرنے اور بولنے تولنے کے طور طریقے سب کچھ سیکھائے اور بتائے جاتے ہیں۔ سرائیکی میں وسیب معاشرے اور ماحول کو کہا جاتا ہے۔ جس میں مٹھاس ہے، محبت اور اپنائیت ہے۔ جس میں حیا ہے۔ تمیز ہے اور لحاظ، مروت ہے۔ جس میں بہن بیٹی کی قدر اور نظروں کا جھکاﺅ ہے مگر اس خوبصورت وسیب کو غیر مناسب بننے والی فلموں، ڈراموں اور گانوں پر غیرضروری فلمائے گئے سین کے ذریعے سے گدلا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
کسی بھی برادری کے لیے سب سے زیادہ اہمیت اس کا وسیب اور سماج رکھتا ہے۔ یہ سماج ہی اس کی پہچان بنتا ہے۔ سماج کے اصول و ضوابط میں کئی اہم ترین مسائل کا حل پنہاں ہوتا ہے۔ سرائیکی برادری کا اپنا وسیب تو ہے ممکن ہے اس کی کوئی پہچان بھی ہو البتہ وہ کہیں نظر نہیں آتی۔ نہ کبھی کسی نے اسے اجاگر کرنے کی کوشش کی اور نہ ہی اس کی بہتری کے لیے کوئی تگ و دو کی گئی۔ وجہ نمایاں تھی کہ برادری کے بڑوں میں اخلاص کی کمی رہی اور ابھی تک جاری ہے۔ خودغرضی کے لبادے میں لپٹے یہ بڑے محافل میں وسیب کے حسن کی دھجیاں تو بکھیر سکتے ہیں مگر اس کو سہارا دے کر جلا نہیں بخش سکتے۔
میڈیا کے ذریعے مرتے وسیب کو زندگی دی جاسکتی تھی مگر سرائیکی میڈیا کا دور تک کوئی نام و نشان نہیں ہے اور کبھی تھا یا اب ہے تو وہ بھی ثانوی حیثیت کی حدتک ہے۔ جہاں تک سرائیکی شوبز انڈسٹری کے کردار کی بات ہے تو انہوں نے نہ صرف سرائیکی وسیب کو بدنام کیا بلکہ بدنامی کی ان اتاہ گہرائیوں میں پہنچایا جس کے بعد سرائیکی عوام جب اپنے گھر سے باہر نکلتے ہیں تو خود کو سرائیکی کہلوانے سے قدرے گھبراتے ہیں۔ وجہ ایک تو شوبز کے اوٹ پٹانگ ٹائپ کے گانوں پر فلمائے گئے گھٹیا اور سطحی سین ہیں اور دوسرا کچھ افراد کی جہالت جن میں تربیت کی کمی ہی نہیں بلکہ تربیت کے نام سے ناواقفیت ہے۔
اب ان کی تربیت کا بندوبست تو وسیب میں ہوتا وہاں کی تربیت یہ ہے کہ معززین علاقہ اپنے گھروں میں باہر سے لڑکیاں منگوا کر نچواتے ہیں اور عشق ممنوع کا درس دیتے ہیں۔ تربیت کی دوسری جگہ میڈیا تھا۔ میڈیا تو ہے نہیں اور جو ہے اس کا انداز یہ ہے کہ اوٹ پٹانگ اور شرم و حیا سے عاری سین دکھائے جائیں۔ نوجوانوں کی پیاس کو اس قدر بھڑکایا جائے کہ کسی بھی اس طرح کے سین کو دیکھنے کے بعد لازمی اطلاع ملے آج پھر کوئی کلی مسلی گئی۔ اس سے تھوڑا کم کرلیں تو یہ بتایا کہ باپ اور ماں کا رشتہ کسی نائی اور موچی سے قطعی طور پر زیادہ نہیں ہے۔ ایسے ایسے ڈرامے پیش کیے جائیں جن میں نظامی کے کردار اپنے ہی والدین پر لعنتیں کرتے ہوئے بچوں کو تربیت کا درس دیتے ہوں۔ گالم گلوچ کا ایسا سبق سکھایا جائے کہ بچے ایک ہی سانس میں 50-60 گالیاں بکیں اور سب کہیں واہ واہ کیا بات ہے ہمارا بچہ بہت تیز ہے۔
گزشتہ روز گھر سے کراچی کے لیے نکلا تو بس ڈرائیور نے تسکین قلب کے لیے بس میں کچھ سرائیکی گانے لگا رکھے تھے۔ گانوں پر فلمائے گئے سین بس میں لٹکی ایل سی ڈی پر نمایاں تھے۔ سین دیکھتے ہوئے کئی بار احساس ہوا کہ کہیں بس میں کوئی خاتون تو نہیں بیٹھی۔ حالات یہ ہیں کہ جس وسیب میں عشق ممنوع کا درس نہ صرف دیا جاتا تھا بلکہ وہ گھر کے ہر معزز نوجوان کے رگ و پے میں موجود ہوتا تھا۔ اپنے وسیب اور ثقافت کا احترام اور اس کی اصلی حالت میں بحالی سرائیکی وسیب کے لیے اس وقت بہت ضروری ہے۔ ثقافت کے احیاءکے لیے کام کرنے والی تنظیموں کو بھی اپنا بھرپور کردارادا کرنا ہوگا۔
خدارا ! سرائیکی شوبز کے لیے کوئی سنسر بورڈ تشکیل دیا جائے۔ انہیں تمیز اور تہذیب کا دائرہ کار دیا جائے۔ اگر معاشرے کو زیادتی اور ہراسانی جیسے واقعات سے بچانا ہے تو بے ہنگم فلمیں، گندے سین اور عشق و معشوقی کے نام پر ہیجان انگیزیوں کا سدباب کرنا بے حد ضروری ہے۔ گالم گلوچ اور غیر مہذب مکالموں پر مبنی فلموں اور ڈراموں پر پابندی عاید کی جائے اور ضابطہ اخلاق طے کیا جائے۔ سرائیکی وسیب میں تعلیم کی کمی کو پورا کرنے میں شاید ہم کبھی کامیاب ہوبھی جائیں تو یہ تعلیم کی جنگ ہم تربیتی محاذ پر آکر ہار بیٹھیں گے۔ وہ تربیتی محاذ یہی غیراخلاقی میڈیا ہے

تحریر: عارف رمضان جتوئی، کراچی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • فَریب دَر آتَش
  • فيه ذكركم
  • غم مجھے کرنے لگے
  • تیرا وعدہ جھوٹا نکلا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
پشاور سے لاہور تک
پچھلی پوسٹ
گل عباس

متعلقہ پوسٹس

سبیلِ شفق

دسمبر 10, 2024

دورِ حاضر میں ادب کی افادیت اور معاشرتی تشکیل

مارچ 7, 2026

کوئی تو ہو جو ہمیں خوف سے رہائی دے

نومبر 27, 2021

اتنی حیرت سے دیکھتا کیا ہے

اکتوبر 27, 2020

اپنی ہی صدا سنوں کہاں تک

نومبر 12, 2019

ادب کی روشنی میں اُردو

اکتوبر 14, 2025

روح دیکھی ہے کبھی؟

جنوری 2, 2022

بند کمرے میں کوئی میرے

اکتوبر 12, 2025

ہم اپنی دھن میں مگن لوگ

جنوری 5, 2025

ہلکی دھڑکنیں

دسمبر 3, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

حضرت عثمان غنیؓ کی مظلومانہ شہادت

جولائی 24, 2022

مہنگائی کا طوفان

دسمبر 17, 2021

چچا چھکّن نے جھگڑا چکایا

اگست 22, 2022
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں