خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےپشاور سے لاہور تک
اردو افسانےاردو تحاریرسعادت حسن منٹو

پشاور سے لاہور تک

اردو افسانہ از سعادت حسن منٹو

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 7, 2019
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 7, 2019 0 تبصرے 349 مناظر
350

پشاور سے لاہور تک

وہ انٹر کلاس کے زنانہ ڈبے سے نکلی‘ اس کے ہاتھ میں چھوٹا سا اٹیچی کیس تھا۔ جاوید پشاور سے اسے دیکھتا چلا آ رہا تھا۔ راولپنڈی کے اسٹیشن پر گاڑی کافی دیر ٹھہری تو وہ ساتھ والے زنانہ ڈبے کے پاس سے کئی مرتبہ گزرا۔ لڑکی حسین تھی ۔جاوید اس کی محبت میں گرفتار ہو گیا۔ اس کی ناک کی پھننگ پر چھوٹا سا تل تھا‘۔گالوں میں ننھے ننھے گڑھے تھے جو اس کے چہرے پر بہت بھلے لگتے تھے۔ راولپنڈی اسٹیشن پر اس لڑکی نے کھانا منگوایابڑے اطمینان سے ایک ایک نوالہ اٹھا کر اپنے منہ میں ڈالتی رہی۔ جاویددور کھڑا یہ سب کچھ دیکھتا رہا۔اس کا جی چاہتا تھا کہ وہ بھی اس کے ساتھ بیٹھ جائے اور دونوں مل کر کھانا کھائیں۔ وہ یقیناًاس کے پاس پہنچ جاتا مگر مصیبت یہ تھی کہ ڈبہ زنانہ تھا۔ عورتوں سے بھرا ہوا۔یہی وجہ ہے کہ جرات نہ کر سکا۔
لڑکی نے کھانا کھانے کے بعد ہاتھ دھوئے جو بہت نازک تھے۔ لمبی لمبی مخروطی انگلیاں جن کو اس نے اچھی طرح صاف کیا اور اٹیچی کیس سے تولیہ نکال کر اپنے ہاتھ پونچھے ۔پھر اطمینان سے اپنی سیٹ پر بیٹھ گئی۔ جاوید گاڑی چلنے تک اس کی طرف دیکھتا رہا۔ آخر اپنے ڈبے میں سوار ہو گیا اور اسی لڑکی کے خیالوں میں غرق ہو گیا۔ معلوم تو یہ ہوتا ہے کہ بڑے اچھے گھرانے کی ہے۔ دونوں کلائیوں میں قریب قریب بارہ بارہ سونے کی چوڑیاں ہوں گی۔ کانوں میں ٹاپس بھی تھے ،دو انگلیوں میں،اگر میرا اندازہ غلط نہیں‘ ہیرے کی انگوٹھیاں ہیں‘ لباس بہت عمدہ‘ ساٹن کی شلوار‘ ٹفٹیا کی قمیص‘ شنون کا دوپٹہ۔ حیرت ہے کہ گھٹیا درجے میں کیوں سفر کر رہی ہے؟ پشاور سے آئی ہے وہاں کی عورتیں تو سخت پردہ کرتی ہیں لیکن یہ برقعے کے بغیر وہاں سے گاڑی میں سوار ہوئی اور اس کے ساتھ کوئی مرد بھی نہیں نہ کوئی عورت ۔اکیلی سفر کر رہی ہے۔آخر یہ قصہ کیا ہے ؟ میرا خیال ہے پشاور کی رہنے والی نہیں وہاں کسی عزیز سے ملنے گئی ہو گی مگر اکیلی کیوں ؟ کیا اسے ڈر نہیں لگا کہ اٹھا کر لے جائے گا کوئی ایسے تنہا حسن پر تو ہر مرد جھپٹا مارنا چاہتا ہے۔ پھر جاوید کو ایک اندیشہ ہوا کہ شادی شدہ تو نہیں؟ وہ دراصل دل میں تہیہ کر چکا تھا کہ اس لڑکی کا پیچھا کرے گا اور رومان لڑا کر اس سے شادی کرے گا۔ وہ حرام کاری کا بالکل قائل نہیں تھا۔
کئی ا سٹیشن آئے اور گزر گئے اسے صرف راولپنڈی تک جانا تھا کہ وہاں ہی اس کا گھر تھا مگر وہ بہت آگے نکل گیا۔ ایک اسٹیشن پر چیکنگ ہوئی جس کے باعث اسے جرمانہ ادا کرنا پڑا مگر اس نے اس کی کوئی پروا نہ کی۔ ٹکٹ چیکر نے پوچھا۔آپ کو کہاں تک جانا ہے؟جاوید مسکرایا ۔جی؟ ابھی تک معلوم نہیں۔ آپ لاہور کا ٹکٹ بنا دیجیے کہ وہی آخری سٹیشن ہے۔ٹکٹ چیکر نے اسے لاہور کا ٹکٹ بنا دیا روپے وصول کیے اور دوسرے سٹیشن پر اتر گیا۔ جاوید بھی اترا کہ ٹرین کو ٹائم ٹیبل کے مطابق پانچ منٹ ٹھہرنا تھا۔ ساتھ والے کمپارٹمنٹ کے پاس گیا۔وہ لڑکی کھڑکی کے ساتھ لگی دانتوں میں خلال کر رہی تھی ۔جاوید کی طرف جب اس نے دیکھا تو اس کے دل و دماغ میں چیونٹیاں دوڑنے لگیں۔اس نے محسوس کیا کہ وہ اس کی موجودگی سے غافل نہیں ہے ۔سمجھ گئی ہے کہ وہ بار بار صرف اسے ہی دیکھنے آتا ہے۔ جاوید کو دیکھ کر وہ مسکرائی۔اس کا دل باغ باغ ہو گیا مگر جاوید فرط جذبات کی وجہ سے فوراً وہاں سے ہٹ کر اپنے ڈبے میں چلا گیا اور رومانوں کی دنیا کی سیر کرنے لگا اس کو ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اس کے آس پاس کی تمام چیزیں مسکرا رہی ہیں۔
ٹرین کا پنکھا مسکرا رہا ہے کھڑکی سے باہر تار کے کھمبے مسکرا رہے ہیں انجن کی سیٹی مسکرا رہی ہے اور وہ بدصورت مسافر جو اس کے ساتھ بیٹھا تھا اس کے موٹے موٹے ہونٹوں پر بھی مسکراہٹ ہے اس کے اپنے ہونٹوں پر مسکراہٹ نہیں تھی لیکن اس کا دل مسکرا رہا تھا۔ اگلے اسٹیشن پر جب وہ ساتھ والے کمپارٹمنٹ کے پاس گیا تو وہ لڑکی وہاں نہیں تھی۔ اس کا دل دھک سے رہ گیا۔کہاں چلی گئی ؟ کہیں پچھلے اسٹیشن پر تو نہیں اتر گئی جہاں اس نے ایک مسکراہٹ سے مجھے نوازا تھا؟ نہیں نہیں غسل خانے میں ہو گی۔ وہ واقعی غسل خانے ہی میں تھی۔ ایک منٹ کے بعد وہ کھڑکی میں نمودار ہوئی۔ جاوید کو دیکھ کر مسکرائی اور ہاتھ کے اشارے سے اس کو بلایا۔ جاوید کانپتا لرزتا کھڑکی کے پاس پہنچا اس لڑکی نے بڑی مہین اور سریلی آواز میں کہا ایک تکلیف دینا چاہتی ہوں آپ کو۔مجھے دو سیب لا دیجیے۔یہ کہہ کر اس نے اپنا پرس نکالا اور ایک روپے کا نوٹ جاوید کی طرف بڑھا دیا۔ جاوید نے جو اس غیرمتوقع بلاوے سے قریب قریب برق زدہ تھا ایک روپے کا نوٹ پکڑ لیا لیکن فوراً اس کے ہوش و حواس برقرار ہو گئے۔
نوٹ واپس دے کر اس نے اس لڑکی سے کہا آپ یہ رکھیے میں سیب لے آتا ہوں۔ اور پلیٹ فارم پر اس ریڑھی کی طرف دوڑا جس میں پھل بیچے جاتے تھے ۔اس نے جلدی جلدی چھ سیب خریدے کیونکہ وسل ہو چکی تھی۔ دوڑا دوڑا وہ اس لڑکی کے پاس آیا اس کو سیب دیے اور کہا معاف کیجیے گا وسل ہو رہی تھی اس لیے میں اچھے سیب چن نہ سکا۔لڑکی مسکرائی وہی دلفریب مسکراہٹ گاڑی حرکت میں آئی۔ جاوید اپنے کمپارٹمنٹ میں داخل ہوتے کانپ رہا تھا لیکن بہت خوش تھا اس کو ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ اس کو دونوں جہاں مل گئے ہیں۔ا س نے اپنی زندگی میں کبھی کسی سے محبت نہیں کی تھی ۔لیکن اب وہ اس کی لذّت سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ اس کی عمر پچیس برس کے قریب تھی ۔
اس نے سوچا کہ اتنی دیر میں کتنا خشک رہا ہوں۔ آج معلوم ہوا ہے کہ محبت انسان کو کتنی تروتازہ بنا دیتی ہے وہ سیب کھا رہی ہو گی لیکن اس کے گال تو خود سیب ہیں۔میں نے جو سیب اس کو دیے ہیں کیا وہ ان کو دیکھ کر شرمندہ نہیں ہوں گے۔ وہ میری محبت کے اشاروں کو سمجھ گئی جب ہی تو وہ مسکرائی اور اس نے مجھے ہاتھ کے اشارے سے بایا اور کہا کہ میں اسے سیب لا دوں۔ مجھ سے اگر وہ کہتی کہ گاڑی کا رخ پلٹ دوں تو اس کی خاطر یہ بھی کر دیتا۔ گو مجھ میں اتنی طاقت نہیں لیکن محبت میں آدمی بہت بڑے بڑے کام سرانجام دے سکتا ہے فرہاد نے شیریں کے لیے پہاڑ کاٹ کر نہر نہیں کھودی تھی؟ میں بھی کتنا بیوقوف ہوں اس سے اور کچھ نہیں تو کم از کم یہی پوچھ لیا ہوتا کہ تمھیں کہاں تک جانا ہے خیر میں لاہور تک کا ٹکٹ تو بنوا چکا ہوں ہر اسٹیشن پر دیکھ لیا کروں گا۔ ویسے وہ اب مجھے بن بتائے جائے گی بھی نہیں شریف خاندان کی لڑکی ہے میرے جذبہ محبت نے اسے کافی متاثر کیا ہے سیب کھا رہی ہے۔
کاش کہ میں اس کے پاس بیٹھا ہوتا ۔ہم دونوں ایک سیب کو بیک وقت اپنے دانتوں سے کاٹتے اس کا منہ میرے منہ سے کتنا قریب ہوتا۔ میں اس کے گھر کا پتہ لوں گا ذرا اور باتیں کر لو۔پھر راولپنڈی پہنچ کر امی سے کہوں گا کہ میں نے ایک لڑکی دیکھ لی ہے اس سے میری شادی کر دیجییے۔وہ میری بات کبھی نہیں ٹالیں گی بس ایک دو مہینے کے اندر اندر شادی ہو جائے گی۔ اگلے سٹیشن پر جب جاوید اسے دیکھنے گیا تو وہ پانی پی رہی تھی‘ وہ جرات کر کے آگے بڑھا اور اس سے مخاطب ہو آپ کو کسی اور چیز کی ضرورت ہو تو فرمائیے ۔ لڑکی مسکرائی دلفریب مسکراہٹ ۔مجھے سگریٹ لا دیجیے۔ جاوید نے بڑی حیرت سے پوچھا آپ سگریٹ پیتی ہیں ؟وہ لڑکی پھر مسکرائی ۔جی نہیں یہاں ایک عورت ہے’ پردہ دار‘ اس کو سگریٹ پینے کی عادت ہے ۔اوہ ! میں ابھی لایا کس برانڈ کے سگریٹ ہوں ؟میرا خیال ہے وہ گولڈ فلیگ پیتی ہے۔میں ابھی حاضر کیے دیتا ہوں ۔یہ کہہ کر جاوید اسٹال کی طرف دوڑا ‘ وہاں سے اس نے دو پیکٹ لیے اور اس لڑکی کے حوالے کر د یے۔اس نے شکر یہ اس عورت کی طرف سے ادا کیا جو سگریٹ پینے کی عادی تھی۔ جاوید اب اور بھی خوش تھا کہ اس لڑکی سے ایک اور ملاقات ہو گئی مگر اس بات کی بڑی الجھن تھی کہ وہ اس کا نام نہیں جانتا تھا ۔اس نے کئی مرتبہ خود کو کوسا کہ اس نے نام کیوں نہ پوچھا۔
اتنی باتیں ہوتی رہیں لیکن وہ اس سے اتنا بھی نہ کہہ سکا ”آپ کا نام ؟“ اس نے ارادہ کر لیا کہ اگلے سٹیشن پر جب گاڑی ٹھہرے گی تو وہ اس سے نام ضرور پوچھے گا اسے یقین تھا کہ وہ فوراً بتا دے گی کیونکہ اس میں قباحت ہی کیا تھی۔ اگلا سٹیشن بہت دیر کے بعد آیا اس لیے کہ فاصلہ بہت لمبا تھا۔ جاوید کو بہت کوفت ہو رہی تھی ۔اس نے کئی مرتبہ ٹائم ٹیبل دیکھا۔گھڑی بار بار دیکھی اس کا جی چاہتا تھا کہ انجن کو پر لگ جائیں تاکہ وہ اڑ کر جلدی اگلے اسٹیشن پر پہنچ جائے۔ گاڑی ایک دم رک گئی ۔معلوم ہوا کہ انجن کے ساتھ ایک بھینس ٹکرا گئی ہے وہ اپنے کمپارٹمنٹ سے اتر کر ساتھ والے ڈبے کے پاس پہنچا مگر لڑکی اپنی سیٹ پر موجود نہیں تھی۔ مسافروں نے مری کٹی ہوئی بھینس کو پٹری سے ہٹانے میں کافی دیر لگا دی۔ اتنے میں وہ لڑکی جو غالباً دوسری طرف تماشا دیکھنے میں مشغول تھی آئی اور اپنی سیٹ پر بیٹھ گئی جاوید پر جب اس کی نظر پڑی تو مسکرائی وہی دلفریب مسکراہٹ۔ جاوید کھڑکی کے پاس گیا ۔مگر اس کا نام پوچھ نہ سکا۔ لڑکی نے اس سے کہا یہ بھینسیں کیوں گاڑی کے نیچے آ جاتی ہیں ؟ جاوید کو کوئی جواب نہ سوجھا گاڑی چلنے والی تھی ۔اس لیے وہ اپنے کمپارٹمنٹ میں چلا گیا۔
کئی اسٹیشن آئے مگر وہ نہ اترا۔ آخر لاہور آ گیا۔پلیٹ فارم پر جب گاڑی رکی تو وہ جلدی جلدی باہر نکلا ۔ لڑکی موجود تھی۔جاوید نے اپنا سامان نکلوایا اور اس سے جس نے ہاتھ میں اٹیچی کیس پکڑا ہوا تھا کہا لائیے ! یہ اٹیچی کیس مجھے دے دیجیے ۔اس لڑکی نے اٹیچی کیس جاوید کے حوالے کر دیا۔ قلی نے جاوید کا سامان اٹھایا اور دونوں باہر نکلے تانگہ لیا۔ جاوید نے اس سے پوچھا آپ کو کہاں جانا ہے ۔لڑکی کے ہونٹوں پر وہی دلفریب مسکراہٹ پیدا ہوئی جی! ہیرا منڈی ۔جاوید بوکھلا سا گیا ۔کیا آپ وہاں رہتی ہیں ؟لڑکی نے بڑی سادگی سے جواب دیا جی ہاں میرا مکان دیکھ لیںآج رات میرا مجرا سننے ضرور آئیے گا۔جاوید پشاور سے لے کر لاہور تک اپنا مجرا سن چکا تھا۔اس نے اس طوائف کو اس کے گھر چھوڑا اور اس تانگے میں سیدھا لاریوں کے اڈے پہنچا اور راولپنڈی روانہ ہو گیا۔

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ایک عجیب وحشت
  • ایک پیچیدہ حقیقت
  • مزدوری
  • اقبال کی فکر اور غلطی ہائے مضامیں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
بادشاہت کا خاتمہ
پچھلی پوسٹ
سرائیکی وسیب کا عشق ممنوع

متعلقہ پوسٹس

پاکستان میں دہشت گردی کا ابھار

فروری 7, 2026

الزامات کا سیاست سے گہرا تعلق!

نومبر 17, 2020

میاں، بیوی اور واہگہ

اپریل 9, 2018

روشن ستارہ

جون 28, 2020

موج دِین

جون 11, 2016

آخری مورچہ، اولین عزم

اکتوبر 11, 2025

اولاد کی پیدائش اور کہنی کی چوٹ

فروری 12, 2019

مسئلہ کشمیر

دسمبر 9, 2025

ہالی ووڈ کا فریب – تیسری قسط

جنوری 19, 2025

دل کے مسائل اور بلڈ پریشر ایورویدک میں

اپریل 28, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • امتیاز الحق امتیاز کا شعری مجموعہ

    اگست 7, 2026
  • پیر نصیر الدین نصیر کی نعتیہ شاعری

    اگست 7, 2026
  • درد کی سرحد سے دل بھی

    اگست 7, 2026
  • ماٹی قدم کریندی یار

    اگست 7, 2026
  • دل لگی یاد آئے گی

    اگست 7, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید

اسلامی گوشہ

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

صفر کا مہینہ اعلی حضرت کا مہینہ

جولائی 23, 2026

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

اردو شاعری

درد کی سرحد سے دل بھی

اگست 7, 2026

دل لگی یاد آئے گی

اگست 7, 2026

دیے تھے ہم تو ماند سے

اگست 7, 2026

دل حویلی میں سدا بیٹھی رہیں چمگادڑیں

اگست 7, 2026

سب جانتا ہوں راز مگر کھولتا نہیں

اگست 1, 2026

اردو افسانے

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

اردو کالمز

ماٹی قدم کریندی یار

اگست 7, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اگست 3, 2026

مخلوق خدا سے محبت

جولائی 29, 2026

متن کے تعاقب میں

جولائی 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • امتیاز الحق امتیاز کا شعری مجموعہ

    اگست 7, 2026
  • پیر نصیر الدین نصیر کی نعتیہ شاعری

    اگست 7, 2026
  • درد کی سرحد سے دل بھی

    اگست 7, 2026
  • ماٹی قدم کریندی یار

    اگست 7, 2026
  • دل لگی یاد آئے گی

    اگست 7, 2026
  • دیے تھے ہم تو ماند سے

    اگست 7, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

تلقارمس

جون 9, 2020

کوئی آواز

جنوری 30, 2023

ڈائجسٹ کی کہانیاں

اپریل 1, 2023
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں