خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےجی آیا صاحب
اردو افسانےاردو تحاریرسعادت حسن منٹو

جی آیا صاحب

اردو افسانہ از سعادت حسن منٹو

از سائیٹ ایڈمن جنوری 15, 2020
از سائیٹ ایڈمن جنوری 15, 2020 0 تبصرے 337 مناظر
338

جی آیا صاحب

باورچی خانے کی دھندلی فضا میں بجلی کا ایک اندھا قمقمہ چراغِ گور کی مانند اپنی سرخ روشنی پھیلا رہا تھا۔ دھوئیں سے اٹی ہوئی دیواریں ہیبتناک دیووں کی طرح انگڑائیاں لیتی ہوئی معلوم ہو رہی تھیں۔ چبوترے پر بنی ہوئی انگیٹھیوں میں آگ کی آخری چنگاریاں ابھر ابھر کر اپنی موت کا ماتم کر رہی تھیں۔ ایک برقی چولھے پر رکھی ہوئی کیتلی کا پانی نہ معلوم کس چیز پر خاموش ہنسی ہنس رہا تھا۔ دور کونے میں، پانی کے نل کے پاس ایک چھوٹی عمر کا لڑکا بیٹھا برتن صاف کرنے میں مشغول تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ انسپکٹر صاحب کا نوکر تھا۔

برتن صاف کرتے وقت یہ لڑکا کچھ گنگنا رہا تھا، یہ الفاظ ایسے تھے جو اسکی زباں سے بغیر کوشش کے نکل رہے تھے۔

"جی آیا صاحب، جی آیا صاحب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بس ابھی صاف ہو جاتے ہیں صاحب۔”

ابھی برتنوں کو راکھ سے صاف کرنے کے بعد انہیں پانی سے دھو کر قرینے سے رکھنا بھی تھا، اور یہ کام جلدی سے نہ ہو سکتا تھا۔ لڑکے کی آنکھیں نیند سے بند ہوئی جا رہی تھیں۔ سر سخت بھاری ہو رہا تھا مگر کام کئے بغیر آرام، یہ کیونکر ممکن تھا۔

برقی چولھا بدستور ایک شور کے ساتھ نیلے شعلوں کو اپنے حلق سے اگل رہا تھا۔ کیتلی کا پانی اسی انداز میں کھل کھلا کر ہنس رہا تھا۔

دفعتاً لڑکے نے نیند کے ناقابلِ مغلوب حملے کو محسوس کرتے ہوئے اپنے جسم کو ایک جنبش دی اور "جی آیا صاحب، جی آیا صاحب” گنگناتا ہوا پھر کام میں مشغول ہو گیا۔

دیوار گیروں پر چنے ہوئے برتن اس لڑکے کو ایک غیر مختتم ٹکٹکی لگائے دیکھ رہے تھے۔ پانی کے نل سے روزانہ ایک ہی واقعہ دیکھ قطروں کی صورت میں آنسو ٹپ ٹپ گر رہے تھے۔ بجلی کا قمقمہ حیرت سے اس لڑکے کی طرف دیکھ رہا تھا۔ کمرے کی فضا سسکیاں بھرتی ہوئی معلوم ہو رہی تھی۔

"قاسم ۔۔۔۔۔۔۔ قاسم”

"جی آیا صاحب” لڑکا جو انہی الفاظ کی گردان کر رہا تھا۔ بھاگا ہوا اپنے آقا کے پاس گیا۔

انسپکٹر صاحب نے کمبل سے منہ نکالا، اور لڑکے پر خفا ہوتے ہوئے کہا۔ "بیوقوف کے بچے، آج پھر یہاں صراحی اور گلاس رکھنا بھول گیا ہے۔”

"ابھی لایا صاحب ۔۔۔۔۔۔ ابھی لایا صاحب۔”

کمرے میں صراحی اور گلاس رکھنے کے بعد وہ ابھی برتن صاف کرنے کے لیے بیٹھا ہی تھا کہ پھر اسے کمرے سے آواز آئی۔

"قاسم ۔۔۔۔۔۔۔ قاسم”

"جی آیا صاحب” قاسم بھاگتا ہوا اپنے آقا کے پاس گیا۔

"بمبئی کا پانی کس قدر خراب ہے۔ جاؤ پارسی کے ہوٹل سے سوڈا لیکر آؤ۔ بس بھاگے ہوئے جاؤ، سخت پیاس لگ رہی ہے۔”

قاسم بھاگا ہوا گیا اور پارسی کے ہوٹل سے جو گھر سے قریباً نصف میل کے فاصلے پر واقع تھا، سوڈے کی بوتل لے آیا اور اپنے آقا کو گلاس میں ڈال کر دی۔

"اب تم جاؤ، مگر اس وقت تک کیا کر رہے ہو، برتن صاف نہیں ہوئے کیا؟”

"ابھی صاف ہو جاتے ہیں صاحب۔”

"اور ہاں، برتن صاف کرنے کے بعد میرے سیاہ بوٹ کو پالش کر دینا مگر دیکھنا احتیاط رہے، چمڑے پر کوئی خراش نہ آئے، ورنہ ۔۔۔۔۔۔۔۔”

قاسم کو "ورنہ” کے بعد کا جملہ بخوبی معلوم تھا۔ "بہت اچھا صاحب” کہتے ہوئے وہ باورچی خانہ میں واپس چلا گیا، اور برتن صاف کرنا شروع کر دیے۔

اب نیند اسکی آنکھوں میں سمٹی چلی آ رہی تھی۔ پلکیں آپس میں ملی جا رہی تھیں، سر میں سیسہ اتر رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ یہ خیال کرتے ہوئے کہ صاحب کے بوٹ ابھی پالش کرنے ہیں۔ قاسم نے اپنے سر کو زور سے جنبش دی، اور وہی راگ الاپنا شروع کر دیا۔

"جی آیا صاحب، جی آیا صاحب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بوٹ ابھی صاف ہو جاتے ہیں صاحب۔”

مگر نیند کا طوفان ہزار بند باندھنے پر بھی نہ رکا۔ اب اسے محسوس ہونے لگا کہ نیند ضرور غلبہ پا کر رہے گی۔ لیکن ابھی برتنوں کو دھو کر انہیں اپنی اپنی جگہ پر رکھنا باقی تھا۔ اس وقت ایک عجیب خیال اسکے دماغ میں آیا۔ "بھاڑ میں جائیں برتن، اور چولھے میں جائیں بوٹ۔۔۔۔کیوں نہ تھوڑی دیر اسی جگہ پر سو جاؤں، اور پھر چند لمحات آرام کرنے کے بعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

اس خیال کو باغیانہ تصور کرتے ہوئے قاسم نے ترک کر دیا اور برتنوں پر جلدی جلدی راکھ ملنا شروع کر دی۔

تھوڑی دیر کے بعد جب نیند پھر غالب آئی تو اسکے جی میں آیا کہ ابلتا ہوا پانی اپنے سر پر انڈیل لے اور اسطرح اس غیر مرئی طاقت سے جو اسکے کام میں حارج ہو رہی تھی، نجات پائے، مگر اتنا حوصلہ نہ پڑا۔

بصد مشکل منہ پر پانی کے چھینٹے مار مار کر اس نے برتنوں کو بالآخر صاف کر ہی لیا۔ یہ کام کرنے کے بعد اس نے اطمینان کا سانس لیا۔ اب وہ آرام سے سو سکتا تھا۔ اور نیند۔۔۔۔۔۔۔۔وہ نیند، جس کے لیے اسکی آنکھیں اور دماغ شدت سے انتظار کر رہے تھے، اب بالکل نزدیک تھی۔

باورچی خانے کی روشنی گل کرنے کے بعد قاسم نے باہر برآمدے میں اپنا بستر بچھایا اور لیٹ گیا۔ اور اس سے پہلے کہ نیند اسے اپنے آرام دہ بازوؤں میں تھام لے، اسکے کان "بوٹ، بوٹ” کی آوازوں سے گونج اٹھے۔

"بہت اچھا صاحب، ابھی پالش کرتا ہوں” بڑبڑاتا ہوا قاسم بستر سے اٹھا۔ جیسے اسکے آقا نے ابھی بوٹ روغن کرنے کے لیے حکم دیا ہے۔

ابھی قاسم بوٹ کا ایک پیر بھی اچھی طرح پالش کرنے نہ پایا تھا کہ نیند کے غلبے نے اسے وہیں پر سلا دیا۔

سورج کی خونیں کرنیں اس مکان کے شیشوں سے نمودار ہوئیں۔۔۔۔۔۔۔۔قاسم کی کتابِ حیات میں ایک اور پُر از مشقت باب کا اضافہ ہو گیا۔

صبح جب انسپکٹر صاحب نے اپنا نوکر باہر برآمدے میں بوٹوں کے پاس سویا ہوا دیکھا تو اسے ٹھوکر مار کر جگاتے ہوئے کہا۔ "یہ سور کی طرح یہاں بیہوش پڑا ہے اور مجھے خیال تھا کہ اس نے بوٹ صاف کر لئے ہونگے۔۔۔۔۔۔۔نمک حرام۔۔۔۔۔۔۔ابے قاسم۔”

"جی آیا صاحب۔”

قاسم کے منہ سے اتنا ہی نکلا تھا کہ اس نے اپنے ہاتھ میں بوٹ صاف کرنے کا برش دیکھا۔ فوراً ہی اس معاملے کو سمجھتے ہوئے اس نے لرزتی ہوئی آواز میں کہا۔

"میں سو گیا تھا صاحب، مگر۔۔۔۔۔مگر بوٹ ابھی پالش ہو جاتے ہیں صاحب۔۔۔۔۔۔۔”

یہ کہتے ہوئے اس نے جلدی جلدی بوٹ کو برش سے رگڑنا شروع کر دیا۔

بوٹ پالش کرنے کے بعد اس نے اپنا بستر تہہ کیا اور اسے اوپر کے کمرے میں رکھنے چلا گیا۔

"قاسم”

"جی آیا صاحب”

قاسم بھاگا ہوا نیچے آیا اور اپنے آقا کے پاس کھڑا ہو گیا۔

"دیکھو، آج ہمارے یہاں مہمان آئینگے۔ اس لئے باورچی خانے کے تمام برتن اچھی طرح صاف کر رکھنا۔۔۔۔۔۔فرش بھی دھلا ہوا ہونا چاہیئے، اسکے علاوہ تمھیں ملاقاتی کمرے کی تصویروں، میزوں اور کرسیوں کو بھی صاف کرنا ہو گا۔۔۔۔۔۔۔سمجھے، مگر خیال رہے میری میز پر ایک تیز دھار چاقو پڑا ہوا ہے، اسے مت چھیڑنا۔ میں اب دفتر جا رہا ہوں مگر یہ کام دو گھنٹے سے پہلے ہو جانا چاہیئے۔”

"بہت بہتر صاحب”

انسپکٹر صاحب دفتر چلے گئے۔ قاسم باورچی خانہ صاف کرنے میں مشغول ہو گیا۔

ڈیڑھ گھنٹے کی انتھک محنت کے بعد اس نے باورچی خانے کے تمام کام کو ختم کر دیا۔ اور ہاتھ پاؤں صاف کرنے کے بعد جھاڑن لیکر ملاقاتی کمرے میں چلا گیا۔

وہ ابھی کرسیوں کو جھاڑن سے صاف کر رہا تھا کہ اسکے تھکے ہوئے دماغ میں ایک تصویر سی کھچ گئی۔ کیا دیکھتا ہے کہ اسکے گرد و پیش برتن ہی برتن پڑے ہیں اور پاس ہی راکھ کا ایک ڈھیر لگ رہا ہے۔ ہوا زوروں پر چل رہی ہے جس سے وہ راکھ اڑ اڑ کر فضا کو خاکستری بنا رہی ہے۔ یکا یک اس ظلمت میں ایک سرخ آفتاب نمودار ہوا جس کی کرنیں خون آشام برچھیوں کی طرح ہر برتن کے سینے میں گھس گئیں۔ زمین خون سے شرابور ہو گئی۔۔۔۔۔۔۔فضا خوشی کے قہقہوں سے معمور ہو گئی۔

قاسم یہ منظر دیکھ کر گھبرا گیا اور اس وحشت ناک خواب سے بیدار ہو کر "جی آیا صاحب، جی آیا صاحب” کہتا ہوا پھر اپنے کام میں مشغول ہو گیا۔

تھوڑی دیر کے بعد اسکی آنکھوں کے سامنے ایک اور منظر رقص کرنے لگا۔ اب اسکے سامنے چھوٹے چھوٹے لڑکے آپس میں کوئی کھیل کھیل رہے تھے۔ دفعتاً آندھی چلنا شروع ہوئی، جسکے ساتھ ہی ایک بدنما اور بھیانک دیو نمودار ہوا، جو ان سب لڑکوں کو نگل گیا۔۔۔۔۔۔۔۔قاسم نے خیال کیا کہ وہ دیو اسکے آقا کے ہم شکل تھا۔ گو قد و قامت کے لحاظ سے وہ اس سے کہیں بڑا تھا۔ اب اس دیو نے زور زور سے ڈکارنا شروع کیا۔۔۔۔۔قاسم سر سے پیر تک لرز گیا۔

ابھی تمام کمرہ صاف کرنا تھا اور وقت بہت کم رہ گیا تھا۔ چنانچہ قاسم نے جلدی جلدی کرسیوں پر جھاڑن مارنا شروع کر دیا۔ ابھی وہ کرسیوں کا کام ختم کرنے کے بعد میز صاف کرنے جا رہا تھا کہ اسے یکا یک خیال آیا۔ "آج مہمان آ رہے ہیں۔ خدا معلوم کتنے برتن صاف کرنے پڑیں گے اور یہ نیند کمبخت ستا رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔مجھ سے تو کچھ بھی نہ ہو سکے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

یہ سوچتے وقت وہ میز پر رکھی ہوئی چیزوں کو پونچھ رہا تھا کہ اچانک اسے قلمدان کے پاس ایک کھلا ہوا چاقو نظر آیا۔۔۔۔۔وہی چاقو جسکے متعلق اسکے آقا نے کہا تھا کہ بہت تیز ہے۔

چاقو کا دیکھنا تھا کہ اسکی زبان پر یہ لفظ خود بخود جاری ہو گئے۔ "چاقو۔۔۔۔۔۔تیز دھار چاقو۔۔۔۔۔۔یہی تمھاری مصیبت کو ختم کر سکتا ہے۔”

کچھ اور سوچے بغیر قاسم نے تیز دھار چاقو اٹھا اپنی انگلی پر پھیر لیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب وہ شام کے وقت برتن صاف کرنے کی زحمت سے بہت دور تھا۔ اور نیند۔۔۔۔۔۔۔پیاری، پیاری نیند اب اسے بآسانی نصیب ہو سکتی تھی۔

انگلی سے خون کی سرخ دھار بہہ رہی تھی۔۔۔۔۔سامنے والی دوات کی سرخ روشنائی سے کہیں چمکیلی۔ قاسم اس خون کی دھار کو مسرت بھری آنکھوں سے دیکھ رہا تھا اور منہ میں یہ گنگنا رہا تھا۔ "نیند، نیند۔۔۔۔۔۔پیاری نیند۔”

تھوڑی دیر کے بعد وہ بھاگا ہوا اپنے آقا کی بیوی کے پاس گیا جو زنان خانے میں بیٹھی سلائی کر رہی تھی۔ اور اپنی زخمی انگلی دکھا کر کہنے لگا۔ "دیکھئے بی بی جی۔۔۔۔۔۔”

"ارے قاسم یہ تو نے کیا کیا؟۔۔۔۔۔۔۔کمبخت صاحب کے چاقو کو چھیڑا ہو گا تو نے۔”

"بی بی جی۔۔۔۔۔بس میز صاف کر رہا تھا اور اس نے کاٹ کھایا۔” قاسم ہنس پڑا۔

"ابے سور اب ہنستا ہے، ادھر آ، میں اس پر کپڑا باندھ دوں۔ مگر اب بتا تو سہی، آج یہ برتن تیرا باپ صاف کرے گا؟”

قاسم اپنی فتح پر زیرِ لب مسکرا رہا تھا۔

انگلی پر پٹی بندھوا کر قاسم پھر کمرے میں آ گیا اور میز پر پڑے ہوئے خون کے دھبے صاف کرنے کے بعد خوشی خوشی اپنا کام ختم کر دیا۔

"اب اس نمک حرام باورچی کو برتن صاف کرنے ہونگے۔۔۔۔۔۔ضرور صاف کرنے ہونگے۔۔۔۔۔کیوں میاں مٹھو۔” قاسم نے انتہائی مسرت میں کھڑکی میں لٹکے ہوئے طوطے سے دریافت کیا۔

شام کے وقت مہمان آئے اور چلے گئے۔ باورچی خانے میں صاف کرنے والے برتنوں کا ایک طومار سا لگ گیا۔ انسپکٹر صاحب قاسم کی زخمی انگلی دیکھ کر بہت برسے۔ اور جی کھول کر گالیاں دیں، مگر اسے مجبور نہ کر سکے، شاید اس لیئے کہ ایک بار انکی اپنی انگلی میں قلم تراش کی نوک چبھ جانے سے بہت درد محسوس ہوا تھا۔

آقا کی خفگی آنے والی مسرت نے بھلا دی اور قاسم کودتا پھاندتا ہوا اپنے بستر میں جا لیٹا۔ تین چار روز تک وہ برتن صاف کرنے کی زحمت سے بچا رہا، مگر اسکے بعد انگلی کا زخم بھر آیا۔۔۔۔۔۔اب پھر وہی مصیبت نمودار ہو گئی۔

"قاسم، صاحب کی جرابیں اور قمیص دھو ڈالو۔”

"بہت اچھا بی بی جی۔”

"قاسم اس کمرے کا فرش کتنا بدنما ہو رہا ہے۔ پانی لا کر ابھی صاف کرو، دیکھنا کوئی داغ دھبہ باقی نہ رہے۔”

"بہت اچھا صاحب”

"قاسم شیشے کے گلاس کتنے چکنے ہو رہے ہیں۔ انہیں نمک سے صاف کر دو۔”

"جی اچھا صاحب”

"قاسم طوطے کا پنجرہ کس قدر غلیظ ہو رہا ہے، اسے صاف کیوں نہیں کرتے۔”

"ابھی کرتا ہوں بی بی جی”

"قاسم ابھی خاکروب آتا ہے، تم پانی ڈالتے جانا، وہ سیڑھیوں کو دھو ڈالے گا۔”

"بہت اچھا صاحب”

"قاسم ذرا بھاگ کر ایک آنے کا دہی تو لے آنا۔”

"ابھی چلا بی بی جی۔”

پانچ چھ روز اسی قسم کے احکام سننے میں گزر گئے۔ قاسم کام کی زیادتی اور آرام کے قحط سے تنگ آگیا۔ ہر روز اسے نصف شب تک کام کرنا پڑتا اور پھر علی الصباح چار بجے کے قریب بیدار ہو کر ناشتے کے لیے چائے تیار کرنی پڑتی۔ یہ کام قاسم کی عمر کے لڑکے کے لیے بہت زیادہ تھا۔

ایک روز انسپکٹر صاحب کی میز صاف کرتے وقت اسکے ہاتھ خود بخود چاقو کی طرف بڑھے، اور ایک لمحے کے بعد اسکی انگلی سے خون بہہ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔انسپکٹر صاحب اور انکی بیوی قاسم کی یہ حرکت دیکھ کر بہت خفا ہوئے۔ چنانچہ سزا کی صورت میں اسے شام کا کھانا نہ دیا گیا، مگر وہ اپنی ایجاد کردہ ترکیب کی خوشی میں مگن تھا۔۔۔۔۔۔۔ایک وقت روٹی نہ ملی۔ انگلی پر معمولی سا زخم آگیا مگر برتنوں کا انبار صاف کرنے سے نجات مل گئی۔۔۔۔۔۔یہ سودا کچھ برا نہ تھا۔

چند دنوں کے بعد اسکی انگلی کا زخم ٹھیک ہو گیا، اب پھر کام کی وہی بھر مار شروع تھی۔ پندرہ بیس روز گدھوں کی سی مشقت میں گزر گئے۔ اس عرصے میں قاسم نے بارہا ارادہ کیا کہ چاقو سے پھر اپنی انگلی زخمی کر لے۔ مگر اب میز پر سے وہ چاقو اٹھا لیا گیا اور باورچی خانے والی چھری کند تھی۔

ایک روز باورچی بیمار پڑ گیا اب اسے ہر وقت باورچی خانے میں موجود رہنا پڑتا، کبھی مرچیں پیستا، کبھی آٹا گوندھتا، کبھی کوئلوں کو جلا دیتا۔ غرض صبح سے لیکر آدھی رات تک اسکے کانوں میں "ابے قاسم یہ کر، ابے قاسم وہ کر” کی صدا گونجتی رہتی۔

باورچی دو روز تک نہ آیا۔۔۔۔۔۔قاسم کی ننھی جان اور ہمت جواب دے گئی، مگر سوائے کام کے اور چارہ ہی کیا تھا۔

ایک روز اسکے آقا نے اسے الماری صاف کرنے کو کہا۔ جس میں ادویات کی شیشیاں اور مختلف چیزیں پڑی ہوئی تھیں۔ الماری صاف کرتے وقت اسے ڈاڑھی مونڈنے کا ایک بلیڈ نظر آیا۔ بلیڈ کو پکڑتے ہی اس نے اپنی انگلی پر پھیر لیا۔ دھار تھی بہت تیز اور باریک، انگلی میں دور تک چلی گئی، جس سے بہت بڑا زخم بن گیا۔

قاسم نے بہت کوشش کی کہ خون نکلنا بند ہو جائے مگر زخم کا منہ بڑا تھا، وہ نہ تھما۔۔۔۔۔۔۔سیروں خون پانی کی طرح بہہ گیا۔ یہ دیکھ کر قاسم کا رنگ کاغذ کی مانند سپید ہو گیا۔ بھاگا ہوا اپنے آقا کی بیوی کے پاس گیا۔

"بی بی جی میری انگلی میں صاحب کا استرا لگ گیا ہے۔”

جب انسپکٹر صاحب کی بیوی نے قاسم کی انگلی کو تیسری مرتبہ زخمی دیکھا، فوراً معاملے کو سمجھ گئی۔ چپ چاپ اٹھی اور کپڑا نکال کر اسکی انگلی پر باندھ دیا اور کہا۔ "قاسم، اب تم ہمارے گھر میں نہیں رہ سکتے۔”

"وہ کیوں بی بی جی”

"یہ صاحب سے دریافت کرنا”

صاحب کا نام سنتے ہی قاسم کا رنگ اور بھی سپید ہو گیا۔

چار بجے کے قریب انسپکٹر صاحب دفتر سے گھر آئے اور اپنی بیوی سے قاسم کی نئی حرکت سن کر اسے فوراً اپنے پاس بلایا۔

"کیوں میاں، یہ انگلی کو ہر روز زخمی کرنے کے کیا معنی ہیں؟”

قاسم خاموش کھڑا رہا۔

"تم نوکر یہ سمجھتے ہو کہ ہم لوگ اندھے ہیں اور ہمیں بار بار دھوکہ دیا جا سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔اپنا بستر بوریا دبا کر ناک کی سیدھ میں یہاں سے بھاگ جاؤ، ہمیں تمھارے جیسے نوکروں کی ضرورت نہیں۔۔۔۔۔۔۔سمجھے۔”

"مگر۔۔۔۔۔۔۔مگر صاحب”

"صاحب کا بچہ۔۔۔۔۔۔۔۔بھاگ جا یہاں سے، تیری بقایا تنخواہ کا ایک پیسہ بھی نہیں دیا جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔اب میں اور کچھ نہیں سننا چاہتا۔”

قاسم روتا ہوا کمرے سے باہر چلا گیا۔ طوطے کی طرف حسرت بھری نگاہوں سے دیکھا۔ طوطے نے بھی خاموشی میں اس سے کچھ کہا اور اپنا بستر لیکر وہ سیڑھیوں سے نیچے اتر گیا۔ مگر دفعتاً کچھ خیال آیا اور بھاگا ہوا اپنے آقا کی بیوی کے پاس گیا اور درد انگیز آواز میں اتنا کہہ کر "سلام بی بی جی۔۔۔۔۔۔میں ہمیشہ کے لیے آپ سے رخصت ہو رہا ہوں” وہاں سے رخصت ہو گیا۔

خیراتی ہسپتال میں ایک نوخیز لڑکا درد کی شدت سے لوہے کے پلنگ پر کروٹیں بدل رہا ہے۔ پاس ہی دو ڈاکٹر بیٹھے ہیں۔

ان میں سے ایک ڈاکٹر اپنے ساتھی سے مخاطب ہوا۔ "زخم خطرناک صورت اختیار کر گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہاتھ کاٹنا پڑے گا۔”

"بہت بہتر۔”

یہ کہتے ہوئے دوسرے ڈاکٹر نے اپنی نوٹ بُک میں اس مریض کا نام درج کیا۔۔۔۔۔۔۔۔ایک چوبی تختے پر جو چارپائی کے سرہانے لٹکا ہوا تھا، مندرجہ ذیل الفاظ لکھے تھے۔

نام: محمد قاسم ولد عبدالرحمٰن (مرحوم)

عمر: دس سال

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • بدشگونی کا چکر
  • لیلۃ القدر – ایک رات اور پوری زندگی
  • چڑ چڑانے کی بات کرتے ہو۔۔۔۔!!!
  • روشنی کا راستہ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
فوبھا بائی
پچھلی پوسٹ
موذیل

متعلقہ پوسٹس

سکون کی تلاش

جون 13, 2025

یہ ہفتہ کیسے گزرے گا

مئی 24, 2024

وہ جو قرض اک تھا زبان پر

فروری 20, 2020

طارق فتح کیسے پیدا ہوتا ہے ؟

مارچ 27, 2019

آخری مورچہ، اولین عزم

اکتوبر 11, 2025

جنتی بیوی

نومبر 25, 2025

حکومت، حکمراں اور طریقۂ حکمرانی

اپریل 4, 2026

گرمٹیہ

جنوری 31, 2021

کتے

دسمبر 13, 2019

بھتیجی کی ضد

اگست 7, 2022

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ڈیجیٹل معیشت اور ہمارا بدلتا ہوا...

نومبر 21, 2025

ویرا

جنوری 3, 2020

کتے

دسمبر 13, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں