483
جو بھلے برے کی اٹکل نہ مرا شعار ہوتا
نہ جزائے خیر پاتا نہ گناہ گار ہوتا
مے بے خودی کا ساقی مجھے ایک جرعہ بس تھا
نہ کبھی نشہ اترتا نہ کبھی خمار ہوتا
میں کبھی کا مر بھی رہتا نہ غم فراق سہتا
اگر اپنی زندگی پر مجھے اختیار ہوتا
یہ جو عشق جانستاں ہے یہ وہ بحر بیکراں ہے
نہ سنا کوئی سفینہ کبھی اس سے پار ہوتا
کبھی بھول کر کسی سے نہ کرو سلوک ایسا
کہ جو تم سے کوئی کرتا تمہیں ناگوار ہوتا
ہے اس انجمن میں یکساں عدم و وجود میرا
کہ جو میں یہاں نہ ہوتا یہ ہی کاروبار ہوتا
اسماعیلؔ میرٹھی
