105
مجھے کوئی کیوں سمیٹے مری روشنی میں کیا ہے
وہ چراغ رہ گزر ہوں جو پس سحر جلا ہے
کوئی ایسا حادثہ ہو کہ مجھی کو دفن کر دے
جو ترس ترس کے برسے وہ غبار درد کیا ہے
ترے ذہن کا دھواں بھی نہ چھپا سکا وہ منظر
جسے کاٹ کر گرایا وہ شجر وہیں کھڑا ہے
مجھے کیا دکھا رہے ہو مرا داغ نارسائی
مری جستجو سے پوچھو کوئی راستہ بچا ہے
مجھے ڈر ہے آسماں بھی کہیں زد میں آ نہ جائے
تہ خاک جو لہو ہے وہ زمیں کی بد دعا ہے
ترے تیشۂ جنوں سے ہیں لہو لہو چٹانیں
ارے کچھ تو سوچنا تھا تہ سنگ آئنہ ہے
تجھے بھولنے میں شاید مری عمر بیت جائے
تجھے بھولنے سے پہلے مجھے خود کو بھولنا ہے
نہ کہیں کتاب میں ہوں نہ کسی کے دل میں قیصرؔ
میں خیال رائیگاں ہوں مجھے کون سوچتا ہے
قیصرالجعفری
