107
پہلے ذرا محاسبۂ ذات بھی تو ہو
دنیا پڑی ہے گھر سے شروعات بھی تو ہو
سمجھے ہیں سب انا کے دھندلکے کو روشنی
شمعیں کہاں جلاؤں کہیں رات بھی تو ہو
پنہاں ہے آنسوؤں میں سراغ شگفت گل
صحرائے بے ضمیر میں برسات بھی تو ہو
اک مسئلے کے بعد نیا مسئلہ ہے روز
کچھ معتبر یہ گردش حالات بھی تو ہو
چہرے سے دل کا حال پڑھیں اور رو بھی لیں
جس سے ملے ہیں اس سے ملاقات بھی تو ہو
مشکل نہیں ہواؤں میں جلنے لگیں چراغ
شب زاد راستوں میں ترا ساتھ بھی تو ہو
میں تبصرہ کروں نہ خدا کی زمین پر
ٹھوکر لگے بنا گزر اوقات بھی تو ہو
لمحوں کی مٹھیوں میں ہے صدیوں کی روشنی
لیکن نظر میں وقت کی اوقات بھی تو ہو
قیصرالجعفری
