100
ان سے کہیں کہ چپ رہیں سو بار چپ رہیں
کیوں کر رہے ہیں شور یوں بے کار چپ رہیں
ہم بھی خموشی اوڑھ کے چپ چاپ سو گئے
تب سے ہمارا گھر درودیوار چپ رہیں
خلوت میں خامشی کی یوں عادت نا ڈالیے
ایسا نہ ہوکہ ہم سرِ بازار چپ رہیں
کچھ بھی کہا تو یہ نہ ہو ہو جائیں وہ خفا
کرتا ہوںمیں دعا کہ مرے یار چپ رہیں
دیکھا ہے ہم نے درد کو رنگین روپ میں
سو ہم سے گفتگو میں اداکار چپ رہیں
صیاد کہہ رہا ہے پرندے نہ بول پائیں
اور یہ بھی چاہتا ہے کہ اشجار چپ رہیں
پہلے کہا کہ بولنا سیکھو اے میرے دوست
اب بولنے پہ کہتے خبردار چپ رہیں
دھڑکن کی لے میں چھپ گئی سعدی کی سسکیاں
ان کا یہ حکم تھا سرِدربار چپ رہیں
سعادت علی سعدی
