385
گزرے دن رات بھول جاتے ہیں
لوگ ہر بات بھول جاتے ہیں
جن کی عزت کرو وہی اکثر
اپنی اوقات بھول جاتے ہیں
لوگ زر کو سلام کرتے ہیں
پیشہ و ذات بھول جاتے ہیں
جن کے کاندھوں پہ بوجھ ہو گھر کا
ان کو دن رات بھول جاتے ہیں
ٹوہ لیتے ہوئے کسی کی ہم
اپنی حرکات بھول جاتے ہیں
ظاہری حسن دیکھنے والے
حسنِ عادات بھول جاتے ہیں
جن کو مل جائے پیار کٹیا میں
وہ محلات بھول جاتے ہیں
منزہ سیّد
