410
اس نے جب مجھ سے بچھڑنے کا ارادہ کر لیا
چھوڑنے کا تب اسے میں نے بھی وعدہ کر لیا
بھول کر ساری خطائیں اس حسیں جلاد کی
آزما کر ضبط کو دل بھی کشادہ کر لیا
ساری تصویریں لگا دیں سارے فیشن بھی کیے
تجھ سے بچھڑے تو سنوانا بھی زیادہ کر لیا
چھوڑ کے ساری دعائیں ترک کر کے سب علاج
ورد اسم یار ھی سے استفادہ کر لیا
جو میری نفرت کا بھی حقدار بن سکتا نہ تھا
پیار ایسے شخص سے حد سے زیادہ کر لیا
ساری شاخوں سے یہاں تسلیم پتے گر گئے
سارے پھولوں کو ھوا نے بے لبادہ کر لیا
تسلیم اکرام
