خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباممکن ہی نہیں میرا مسلماں ہونا!
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

ممکن ہی نہیں میرا مسلماں ہونا!

از سائیٹ ایڈمن نومبر 4, 2020
از سائیٹ ایڈمن نومبر 4, 2020 0 تبصرے 53 مناظر
54

ممکن ہی نہیں میرا مسلماں ہونا!

مسلم دنیا اس وقت انتہائی غم و غصے میں مبتلا ہے،اس بار غم و غصے کی وجہ فرانس کے صدر کا ہمارے پیارے نبی ﷺ کی شان میں کی جانے والی گستاخانہ گفتگو ہے، جو اپنے ملک کے ایک ایسے فرد کی پشت پناہی کیلئے کی گئی ہے جس نے آپ ﷺ کے خاکے بنائے اور شائع بھی کئے۔ دنیا یہ بہت اچھی طرح سے جانتی ہے کہ مسلمان کیسا بھی ہو وہ اپنے نبی پاک ﷺ کی شان میں کسی بھی قسم کی معمولی سے معمولی گستاخی بھی برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں ہے اور وہ اس گستاخ کو کیفرکردار تک پہنچانے کیلئے اپنی جان مال قربان کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔ فرانس وہ ملک ہے جس میں خاتم النبین حضرت محمد ﷺ کی شان میں کی جانے والی گستاخیوں کا ایک سلسلہ چل رہاہے۔ سماجی ذرائع ابلاغ کی بدولت ترکی میں بننے والے ڈراموں تک رسائی ممکن ہوسکی ہے اور انکی اس کاوش کے توسط سے مسلم تاریخ کے روشن پہلوؤں پر سے گرد اڑانے کی ہر ممکن کی جارہی ہے۔ایسا ہی ایک ڈرامائی تشکیل سلطان عبدالحمید خان کے دور ِ خلافت پر بھی ترتیب دیا جا چکا ہے، آپ خلافت عثمانیہ کے آخری خلیفہ اور حیقیقی معنوں میں سچے عاشق رسول ﷺ تھے۔ اس سچائی کے لئے ضروری ہے اور قارئین میں ایمان کی حرارت بڑھانے کیلئے ضروری ہے کہ ایسے دو واقعات یہاں رقم کئے جائیں جو حب رسول ﷺ کی دلیل سمجھے جاسکیں۔ ایک فرد دربار میں حاضرہوتا ہے اور سلطان عبد الحمید خان کو اپنا مقروض کہتا ہے جس پر وزیر اسے سلطان کے سامنے پیش کرتے ہیں استفسار کرنے پر وہ بتاتا ہے کہ گزشتہ رات اس کو نبی پاک ﷺ کی زیارت ہوئی ہے اور آپ ﷺ نے اس سے کہا ہے کہ میرے حمید سے جاکر کہو کہ وہ گزشتہ رات درود پڑھے بغیر سو گیا تھا، اس فرد نے جب سلطان کے سامنے میرے حمید کہا تو سلطان نے باربار پوچھنا شروع کردیا کہ آپ ﷺ نے کیا کہا اور مدعی بتاتا جاتا کہ آپ ﷺ نے کہا میرے حمید،سلطان ہر بار اسے ایک اشرفیوں سے بھری تھیلی پکڑادیتے اور پوچھتے رہتے جب تین چار بار سے زیادہ ہوگیا تو وزیر جو سارا معاملہ بھانپ گیا تھا اس نے مدعی سے کہا اب تمھارا قرض پورا ہوگیا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا تو اسے جانے کو کہا گیا، جس پر سلطان عبدالحمید خان نے اپنے وزیر خاص پاشا کو بتایا کہ کل رات زیادہ دیر کام کرنے کی وجہ سے کام کی جگہ پر ہی کام کرتے کرتے سوگیا تھا اور درود پاک نہیں پڑھ سکا تھا، اور یہ بھی کہا کہ اگر تم مجھے نا روکتے تو شائد میں یہ ساری سلطنت اس مدعی کو دے دیتا۔ دوسرا واقعہ جس کا تعلق فرانس کے موجودہ واقعہ سے بلکل مشابہہ ہے کہ سلطان عبدالحمید خان کو اطلاع ملتی ہے کہ فرانس کے ایک تھیٹر میں آپ ﷺ پر بنائی گئی کو ئی فلم دیکھائی جانے والی ہے، اس بات کا علم ہونا تھا کہ آپ نے فوری طور پر فرانس کے سفیر کو بلانے کا حکم دیا اور اسے تنبیہ کی کہ اگر فرانس نے ایسا کیا جیسا کہ وہ کرنے کا اعلان کر چکا ہے تو پھر جنگ ہوگی۔ اسکے بعد سلطان نے تمام مسلم ممالک کے سربراہان کوجنگ کی تیاری کرنے کیلئے خط بھیجوانا شروع کردئے، سلطان کا کہنا تھا کہ میں ان سے جنگ کرونگا چاہے میری گردن کٹ جائے چاہے میرے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں میں اپنے پیارے نبی ﷺ کے سامنے روزِ قیامت سرخ روح تو ہوسکونگا۔ فرانس خلیفتہ المسلیمن کے غم و غصے کو بھانپ گیا تھا اس نے فوری طور پر اپنے ناپاک ارادے کو موقوف کیا اور آگاہ کیا کہ وہ ایسا نہیں کریگا۔

ایک مسلمان کیلئے آپ ﷺ سے محبت ایمان کا بنیادی جز ہے اور تقاضا کرتا ہے کہ سب قیمتی اور عزیزترین والدین اور اولاد آپ کی محبت پر قربان۔کوئی مسلمان اس بات کی اجازت کسی کو نہیں دیگا کہ کوئی ہمارے پیارے نبی ﷺ کی شان میں ادنی سی بھی گستاخی کرے۔ اس بات سے یہ بات حتمی ہوجاتی ہے کہ ایک مسلمان کا ایمان آپ ﷺ کی سچی محبت کے بغیر مکمل ہی نہیں ہوتا۔ یقینا سلطان عبد الحمید خان ایک با عمل مسلمان ہونگے ایک حقیقی اور سچے عاشق ِ رسول ﷺ ہونگے کہ انکی دھمکی آمیز رویہ نے ہی اس وقت فرانس کی سرکار کو جیسا وہ کرنا چاہ رہے تھے کرنے سے روک دیا، جب حاکم باعمل و با کردار تھا تو تقریباً رعایا بھی عمل و کردار میں کچھ کم نہیں ہوگی اور انہی معاملا ت کا خوف تھا کہ جو غیر مسلموں کے دلوں کو دہلائے رکھتا تھا۔ لیکن بھلا پھر کیا ہوا آہستہ آہستہ ایسے باکردار حکمران ناپید ہوتے چلے گئے اور ایک عالمی سازش کی بدولت مسلمانوں کے دلوں کا رخ دنیاوی زندگی کیلئے رغبت پیدا کرنے والی آسانیوں و آسائشوں کی طرف موڑ دیا گیا او رآسائشوں کے حصول کیلئے حلال اور حرام کے فرق کر تقریباً مٹا ہی دیا گیا ہے، اس فرق کیلئے کھینچی گئی لکیر تیز تیز چلنے والوں کو دیکھائی نہیں دیتی اور تو اور اب شرعی اور مذہبی رکاوٹوں پر رکنے کا وقت کس کے پاس ہے۔ کیا یہ وہ چند وجوہات نہیں ہیں کہ جس کی وجہ سے آج فرانس کے صدر نے پاکستان اور ترکی کو فرانس کے داخلی معاملات میں دخل اندازی کرنے کو منع کردیا ہے، کیا یہ ہماری ایمان کی بد ترین کمزوری نہیں ہے کہ فرانس میں مسلمانوں کیساتھ انتہائی تہذیق آمیز رویہ اختیار کیا جارہا ہے۔ کیا دوارب مسلمانوں کی آبادی بے جان وروح کے انسانوں پر مشتمل ہے، ہم یہ بات قطعی بھول گئے ہیں کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، ہم یہ بھول گئے ہیں کہ ہم سب ایک عمارت کی طرح ہیں اگر ایک اینٹ نکلے گی تو پوری عمارت کے گرجانے کا خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ ہمیں جھوٹ اور بے ایمانی کی دلدل میں دھنسا دیا گیا ہے اور ہم خوشی خوشی دھنستے چلے جارہے ہیں۔ دشمن نے ہمیں اخلاقی کمزور کرنے کا بیڑ ہ سلطان صلاح الدین ایوبی کے دور میں اٹھایا تھا اور اب وہ بہت اچھی طرح سے جان چکے ہیں کہ ہم کتنے کمزور ہوچکے ہیں ہماری صفوں میں میر جعفر اور میر صادق جیسے کی بہتات کردی گئی ہے جو اتنے بڑے مسلئے کی موجودگی میں اپنے سیاسی و معاشی مسائل زیر بحث لائے ہوئے ہیں۔ یہ ہماری ایمان کی کمزوری ہے کہ دشمن ہمارے مدرسوں میں دن دھاڑے ہماری نئی نسل کو بم سے اڑا دیتا ہے تو کبھی گولیوں سے ختم کردیتا ہے۔ہم آج ایک ایسی آزمائش میں ہیں کہ، آج وقت ہم سے تقاضا کر رہا ہے کہ ہم فیصلہ کریں کہ ہمیں دنیاوی پیٹ کی آگ کو بجھانے کو ترجیح دینی ہے یا پھر دائمی زندگی کیلئے جہنم کی آگ کو ٹھنڈا کرنا ہے۔

ایک طرف دنیا ابھی تک کورونا نامی ایک ایسی وباء کی زد میں ہے جس نے انسانی زندگیوں کیساتھ ساتھ مال و دولت بھی لے لی ہیں، بڑے بڑے مستحکم معیشت والے اپنی معیشت سنبھالنے میں مگن ہیں۔ دنیا کورونا سے نمٹنے کیلئے سر جوڑ کر بیٹھی ہے ایک دوسرے کے اقدامات کا جائزہ لے رہی ہے تو دوسری طرف کچھ ایسے ممالک بھی ہیں جو دنیا کونسلی اور مذہبی تقسیم کی طرف دھکیل رہے ہیں۔پاکستان نے ہمیشہ مذہبی منافرت کی نفی کی ہے اور دنیا میں شائد ہی اقلیتوں کو اتنے مساوی حقوق میسر ہوں جو پاکستان میں ہیں۔ پاکستان کی سیاسی و مذہبی جماعتوں کو آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے ملک یاملکوں سے فوری سفارتی تعلقات ختم کرنے کا باضابطہ سرکاری سطح پر اعلان کرنا چاہئے اور جب تک سرکاری سطح پر تمام مسلمانوں سے معافی نہیں مانگی جاتی یہ تعلقات بحال نہیں ہونے چاہئیں کیونکہ آپ ﷺ کی محبت کے بغیرممکن ہی نہیں ہمارا مسلمان کہلانا۔ہم نے اپنی دانست میں اپنے قلم سے قلب کی بات رقم ہی نہیں کی بلکہ قلم سے جہاد کرنے کی کوشش بھی کی ہے ۔

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • سنو مسافر! سرائے جاں کو تمہاری یادیں جلا چکی ہیں
  • زندگی کے مسئلوں کا حل نکلنا چاہیے
  • آل رسول ﷺ کے گھرانے کے دو یتیم بچے
  • یا خدا! تجھ سے دعا ہے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
کوئی کمی سی ہے
پچھلی پوسٹ
کہیں کچھ کم نہیں ہے ، تم نہیں ہو

متعلقہ پوسٹس

جہنم میں لیجانے والے کام

ستمبر 6, 2023

کون وہ گرد اڑاتا ہے

جولائی 5, 2025

اپنے بارے میں جانتی ہے وہ

مئی 28, 2020

گل ریگزار پریشہ اور اس کا محبوب

اگست 16, 2021

خالی پن میں لکھی ایک نظم

اکتوبر 12, 2025

تیری خوشی کے واسطے میں بے وفا ہوا

نومبر 20, 2019

شدّت

نومبر 6, 2020

حجامت

جنوری 24, 2020

تُو زُلف زُلف تھی مگر کھلی نہیں

مئی 19, 2020

لیڈی ڈیانا ،بے نظیر اور حامد میر

اپریل 23, 2014

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے

اسلامی گوشہ

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

” توکل ” کیا ہے

جون 2, 2026

یہ نور کس کا پھیل گیا ہے چمن...

مئی 26, 2026

مظہر ہے کبریا کا علیؑ مرتضیٰ کا نام

مئی 23, 2026

اردو شاعری

زندگی بھر فکر کرتے رہے

جون 2, 2026

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

جون 2, 2026

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان

جون 2, 2026

لمحوں کی قید کاٹ کے صدیوں میں آ...

جون 2, 2026

ممکن نہیں ہے جبر کی بیعت روا مجھے

جون 2, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

جون 3, 2026

ملازمت بہتر یا کاروبار

جون 3, 2026

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

لفظوں کا دیوتا اور سماج کی بے حسی

جون 2, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • کتاب «المتلذذون بالعلم»

    جون 2, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

مہنگائی کا طوفان اور عام آدمی...

اپریل 2, 2026

زندہ رہنے کو بھی لازم ہے

دسمبر 20, 2022

مریدپور کا پیر

دسمبر 12, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں