خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباممکن ہی نہیں میرا مسلماں ہونا!
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

ممکن ہی نہیں میرا مسلماں ہونا!

از سائیٹ ایڈمن نومبر 4, 2020
از سائیٹ ایڈمن نومبر 4, 2020 0 تبصرے 70 مناظر
71

ممکن ہی نہیں میرا مسلماں ہونا!

مسلم دنیا اس وقت انتہائی غم و غصے میں مبتلا ہے،اس بار غم و غصے کی وجہ فرانس کے صدر کا ہمارے پیارے نبی ﷺ کی شان میں کی جانے والی گستاخانہ گفتگو ہے، جو اپنے ملک کے ایک ایسے فرد کی پشت پناہی کیلئے کی گئی ہے جس نے آپ ﷺ کے خاکے بنائے اور شائع بھی کئے۔ دنیا یہ بہت اچھی طرح سے جانتی ہے کہ مسلمان کیسا بھی ہو وہ اپنے نبی پاک ﷺ کی شان میں کسی بھی قسم کی معمولی سے معمولی گستاخی بھی برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں ہے اور وہ اس گستاخ کو کیفرکردار تک پہنچانے کیلئے اپنی جان مال قربان کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔ فرانس وہ ملک ہے جس میں خاتم النبین حضرت محمد ﷺ کی شان میں کی جانے والی گستاخیوں کا ایک سلسلہ چل رہاہے۔ سماجی ذرائع ابلاغ کی بدولت ترکی میں بننے والے ڈراموں تک رسائی ممکن ہوسکی ہے اور انکی اس کاوش کے توسط سے مسلم تاریخ کے روشن پہلوؤں پر سے گرد اڑانے کی ہر ممکن کی جارہی ہے۔ایسا ہی ایک ڈرامائی تشکیل سلطان عبدالحمید خان کے دور ِ خلافت پر بھی ترتیب دیا جا چکا ہے، آپ خلافت عثمانیہ کے آخری خلیفہ اور حیقیقی معنوں میں سچے عاشق رسول ﷺ تھے۔ اس سچائی کے لئے ضروری ہے اور قارئین میں ایمان کی حرارت بڑھانے کیلئے ضروری ہے کہ ایسے دو واقعات یہاں رقم کئے جائیں جو حب رسول ﷺ کی دلیل سمجھے جاسکیں۔ ایک فرد دربار میں حاضرہوتا ہے اور سلطان عبد الحمید خان کو اپنا مقروض کہتا ہے جس پر وزیر اسے سلطان کے سامنے پیش کرتے ہیں استفسار کرنے پر وہ بتاتا ہے کہ گزشتہ رات اس کو نبی پاک ﷺ کی زیارت ہوئی ہے اور آپ ﷺ نے اس سے کہا ہے کہ میرے حمید سے جاکر کہو کہ وہ گزشتہ رات درود پڑھے بغیر سو گیا تھا، اس فرد نے جب سلطان کے سامنے میرے حمید کہا تو سلطان نے باربار پوچھنا شروع کردیا کہ آپ ﷺ نے کیا کہا اور مدعی بتاتا جاتا کہ آپ ﷺ نے کہا میرے حمید،سلطان ہر بار اسے ایک اشرفیوں سے بھری تھیلی پکڑادیتے اور پوچھتے رہتے جب تین چار بار سے زیادہ ہوگیا تو وزیر جو سارا معاملہ بھانپ گیا تھا اس نے مدعی سے کہا اب تمھارا قرض پورا ہوگیا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا تو اسے جانے کو کہا گیا، جس پر سلطان عبدالحمید خان نے اپنے وزیر خاص پاشا کو بتایا کہ کل رات زیادہ دیر کام کرنے کی وجہ سے کام کی جگہ پر ہی کام کرتے کرتے سوگیا تھا اور درود پاک نہیں پڑھ سکا تھا، اور یہ بھی کہا کہ اگر تم مجھے نا روکتے تو شائد میں یہ ساری سلطنت اس مدعی کو دے دیتا۔ دوسرا واقعہ جس کا تعلق فرانس کے موجودہ واقعہ سے بلکل مشابہہ ہے کہ سلطان عبدالحمید خان کو اطلاع ملتی ہے کہ فرانس کے ایک تھیٹر میں آپ ﷺ پر بنائی گئی کو ئی فلم دیکھائی جانے والی ہے، اس بات کا علم ہونا تھا کہ آپ نے فوری طور پر فرانس کے سفیر کو بلانے کا حکم دیا اور اسے تنبیہ کی کہ اگر فرانس نے ایسا کیا جیسا کہ وہ کرنے کا اعلان کر چکا ہے تو پھر جنگ ہوگی۔ اسکے بعد سلطان نے تمام مسلم ممالک کے سربراہان کوجنگ کی تیاری کرنے کیلئے خط بھیجوانا شروع کردئے، سلطان کا کہنا تھا کہ میں ان سے جنگ کرونگا چاہے میری گردن کٹ جائے چاہے میرے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں میں اپنے پیارے نبی ﷺ کے سامنے روزِ قیامت سرخ روح تو ہوسکونگا۔ فرانس خلیفتہ المسلیمن کے غم و غصے کو بھانپ گیا تھا اس نے فوری طور پر اپنے ناپاک ارادے کو موقوف کیا اور آگاہ کیا کہ وہ ایسا نہیں کریگا۔

ایک مسلمان کیلئے آپ ﷺ سے محبت ایمان کا بنیادی جز ہے اور تقاضا کرتا ہے کہ سب قیمتی اور عزیزترین والدین اور اولاد آپ کی محبت پر قربان۔کوئی مسلمان اس بات کی اجازت کسی کو نہیں دیگا کہ کوئی ہمارے پیارے نبی ﷺ کی شان میں ادنی سی بھی گستاخی کرے۔ اس بات سے یہ بات حتمی ہوجاتی ہے کہ ایک مسلمان کا ایمان آپ ﷺ کی سچی محبت کے بغیر مکمل ہی نہیں ہوتا۔ یقینا سلطان عبد الحمید خان ایک با عمل مسلمان ہونگے ایک حقیقی اور سچے عاشق ِ رسول ﷺ ہونگے کہ انکی دھمکی آمیز رویہ نے ہی اس وقت فرانس کی سرکار کو جیسا وہ کرنا چاہ رہے تھے کرنے سے روک دیا، جب حاکم باعمل و با کردار تھا تو تقریباً رعایا بھی عمل و کردار میں کچھ کم نہیں ہوگی اور انہی معاملا ت کا خوف تھا کہ جو غیر مسلموں کے دلوں کو دہلائے رکھتا تھا۔ لیکن بھلا پھر کیا ہوا آہستہ آہستہ ایسے باکردار حکمران ناپید ہوتے چلے گئے اور ایک عالمی سازش کی بدولت مسلمانوں کے دلوں کا رخ دنیاوی زندگی کیلئے رغبت پیدا کرنے والی آسانیوں و آسائشوں کی طرف موڑ دیا گیا او رآسائشوں کے حصول کیلئے حلال اور حرام کے فرق کر تقریباً مٹا ہی دیا گیا ہے، اس فرق کیلئے کھینچی گئی لکیر تیز تیز چلنے والوں کو دیکھائی نہیں دیتی اور تو اور اب شرعی اور مذہبی رکاوٹوں پر رکنے کا وقت کس کے پاس ہے۔ کیا یہ وہ چند وجوہات نہیں ہیں کہ جس کی وجہ سے آج فرانس کے صدر نے پاکستان اور ترکی کو فرانس کے داخلی معاملات میں دخل اندازی کرنے کو منع کردیا ہے، کیا یہ ہماری ایمان کی بد ترین کمزوری نہیں ہے کہ فرانس میں مسلمانوں کیساتھ انتہائی تہذیق آمیز رویہ اختیار کیا جارہا ہے۔ کیا دوارب مسلمانوں کی آبادی بے جان وروح کے انسانوں پر مشتمل ہے، ہم یہ بات قطعی بھول گئے ہیں کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، ہم یہ بھول گئے ہیں کہ ہم سب ایک عمارت کی طرح ہیں اگر ایک اینٹ نکلے گی تو پوری عمارت کے گرجانے کا خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ ہمیں جھوٹ اور بے ایمانی کی دلدل میں دھنسا دیا گیا ہے اور ہم خوشی خوشی دھنستے چلے جارہے ہیں۔ دشمن نے ہمیں اخلاقی کمزور کرنے کا بیڑ ہ سلطان صلاح الدین ایوبی کے دور میں اٹھایا تھا اور اب وہ بہت اچھی طرح سے جان چکے ہیں کہ ہم کتنے کمزور ہوچکے ہیں ہماری صفوں میں میر جعفر اور میر صادق جیسے کی بہتات کردی گئی ہے جو اتنے بڑے مسلئے کی موجودگی میں اپنے سیاسی و معاشی مسائل زیر بحث لائے ہوئے ہیں۔ یہ ہماری ایمان کی کمزوری ہے کہ دشمن ہمارے مدرسوں میں دن دھاڑے ہماری نئی نسل کو بم سے اڑا دیتا ہے تو کبھی گولیوں سے ختم کردیتا ہے۔ہم آج ایک ایسی آزمائش میں ہیں کہ، آج وقت ہم سے تقاضا کر رہا ہے کہ ہم فیصلہ کریں کہ ہمیں دنیاوی پیٹ کی آگ کو بجھانے کو ترجیح دینی ہے یا پھر دائمی زندگی کیلئے جہنم کی آگ کو ٹھنڈا کرنا ہے۔

ایک طرف دنیا ابھی تک کورونا نامی ایک ایسی وباء کی زد میں ہے جس نے انسانی زندگیوں کیساتھ ساتھ مال و دولت بھی لے لی ہیں، بڑے بڑے مستحکم معیشت والے اپنی معیشت سنبھالنے میں مگن ہیں۔ دنیا کورونا سے نمٹنے کیلئے سر جوڑ کر بیٹھی ہے ایک دوسرے کے اقدامات کا جائزہ لے رہی ہے تو دوسری طرف کچھ ایسے ممالک بھی ہیں جو دنیا کونسلی اور مذہبی تقسیم کی طرف دھکیل رہے ہیں۔پاکستان نے ہمیشہ مذہبی منافرت کی نفی کی ہے اور دنیا میں شائد ہی اقلیتوں کو اتنے مساوی حقوق میسر ہوں جو پاکستان میں ہیں۔ پاکستان کی سیاسی و مذہبی جماعتوں کو آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے ملک یاملکوں سے فوری سفارتی تعلقات ختم کرنے کا باضابطہ سرکاری سطح پر اعلان کرنا چاہئے اور جب تک سرکاری سطح پر تمام مسلمانوں سے معافی نہیں مانگی جاتی یہ تعلقات بحال نہیں ہونے چاہئیں کیونکہ آپ ﷺ کی محبت کے بغیرممکن ہی نہیں ہمارا مسلمان کہلانا۔ہم نے اپنی دانست میں اپنے قلم سے قلب کی بات رقم ہی نہیں کی بلکہ قلم سے جہاد کرنے کی کوشش بھی کی ہے ۔

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • کھجور ٹانک، دوا اور غذا
  • افغانستان میں دہشت گردی کا نیا خطرہ
  • کتبہ
  • پاکستانی معاشرے میں طلاق کا بڑھتا رُجحان
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
کوئی کمی سی ہے
پچھلی پوسٹ
کہیں کچھ کم نہیں ہے ، تم نہیں ہو

متعلقہ پوسٹس

بڑی مشکل سے اُٹھ کر جا رہا ہوں

جنوری 19, 2020

آخری مورچہ، اولین عزم

اکتوبر 11, 2025

کبھی بدن کبھی بستر بدل کے دیکھا ہے

دسمبر 15, 2019

عجب اپنی کہانی ہوگئی ہے

مارچ 12, 2025

اخلاقی زوال

مارچ 8, 2026

پیار جو اک حسین سپنا تھا

جون 27, 2025

ہوا میں جلتے چراغ رکھنا

اکتوبر 20, 2025

وہ تجھ کو دے گا کھانا

نومبر 10, 2025

بے سبب اچھے لگے تازہ گلاب

جنوری 17, 2025

جھکی جھکی آنکھیں

جنوری 17, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

رزم۔ حق میں وہ اکیلا بھی ہے لشکر...

جولائی 1, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اردو شاعری

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ...

جولائی 16, 2026

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا...

جولائی 15, 2026

کلام خاص نوجوانوں کے لیے

جولائی 12, 2026

وہ بچپن کا دور جب ہم کھیلا کرتے...

جولائی 9, 2026

تجھے مجھ سے جدائی کی اجازت ہے

جولائی 9, 2026

اردو افسانے

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

اردو کالمز

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

قلم کا سفر

جولائی 14, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

عورت

جولائی 7, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • قلم کا سفر

    جولائی 14, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

مشک وعنبر کی میں جینے کی...

نومبر 7, 2021

حیات ایسے گزاری جارہی ہے

اکتوبر 24, 2025

خدانے اپنے شواہد پہ سوچنے دیا...

جون 8, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں