115
بے سبب اچھے لگے تازہ گلاب
جب کبھی مجھ کو ملے تازہ گلاب
یوں بیاضِ دل میں رکھیں گے اُنھیں
جس طرح کوئی رکھے تازہ گلاب
موسمِ گل پوش اترا چار سُو
عشق میں بھیجے گئے تازہ گلاب
شاخِ ماضی سے نہ لائے جا سکے
روزِ فردا کے لئے تازہ گلاب
موتیے کی بات ہی کچھ اور تھی
پھر بھی زلفوں میں سجے تازہ گلاب
اُن کی یادوں میں غزل ہم نے کہی
ہاتھ میں تھامے ہوئے تازہ گلاب
منزّہ سیّد
