555
تری اداسی مرے دکھ رقم نہیں ہیں دوست
ہمارے ہجر کے قصے میں ہم نہیں ہیں دوست
نظر کا دائرہ پیروں تلک ہی رہ جائے
ہم اپنے بوجھ سے اتنے بھی خم نہیں ہیں دوست
تمام دن مرا اشعار میں گزرتا ہے
اگرچہ گھر میں کبوتر بھی کم نہیں ہیں دوست
وہ دوسروں کے غم۔دل میں دخل دیتے ہیں
جو اپنی اپنی اداسی میں ضم نہیں ہیں دوست
تری خوشی کی ہمیں بھی خوشی تو ہے لیکن
ہماری آنکھیں مسرت سے نم نہیں ہیں دوست
ہم اپنے آپ کو جتنا بھی بے بہا سمجھیں
ترے جمال کی قیمت کے ہم نہیں ہیں دوست
طرح طرح کے الم ہیں مری کفالت میں
مجھ ایک شخص کو دو چار غم نہیں ہیں دوست
کئی بجھے ہوئے ملتے ہیں صبح سے پہلے
چراغ اتنے بھی ثابت قدم نہیں ہیں دوست
کبیر شاعری جس کا تقاضا کرتی ہے
ہم اس کے آدھے بھی اس کو بہم نہیں ہیں دوست
ڈاکٹر کبیر اطہر
