خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو نظمحیف ہم جس پے کہ تیار تھے
اردو نظمرام پرساد بسملشعر و شاعری

حیف ہم جس پے کہ تیار تھے

از سائیٹ ایڈمن مئی 21, 2024
از سائیٹ ایڈمن مئی 21, 2024 0 تبصرے 81 مناظر
82

حیف ہم جس پے کہ تیار تھے مر جانے کو
جیتے جی ہمنے چھوڑ دییا اسی کاشانے کو
کیا نہ تھا اور بہانہ کوئی تڑپانے کو
آسماں کیا یہی باقی تھا ستم ڈھانے کو
لاکے غربت میں جو رکھا ہمیں ترسانے کو

پھر نہ گلشن میں ہمیں لاییگا سیاد کبھی
یاد آییگا کسے یہ دل-اے-ناشاد کبھی
کیوں سنیگا تو ہماری کوئی پھریاد کبھی
ہم بھی اس باغ میں تھے قید سے آزاد کبھی
اب تو کاہے کو ملیگی یہ ہوا خانے کو

دل فدا کرتے ہیں قربان جگر کرتے ہیں
پاس جو کچھ ہے وو ماتا کی نظر کرتے ہیں
خانا ویران کہاں دیکھیئے گھر کرتے ہیں
خوش رہو اہل-اے-وطن، ہم تو سفر کرتے ہیں
جاکے آباد کرینگے کسی ویرانے کو

نہ میسر ہوا راحتَ سے کبھی میل ہمیں
جان پر کھیل کے بھایا نہ کوئی کھیل ہمیں
ایک دن کا بھی نہ منظور ہوا بیل ہمیں
یاد آئیگا الیپر کا بہت جیل ہمیں
لوگ تو بھول گیے ہونگے اس افسانے کو

انڈمان خاک تیری کیوں نہ ہو دل میں نازاں
چھوکے چرنوں کو جو پنگلے کے ہئی ہے ذیشان
مرتبہ اتنا بڑھے تیری بھی تقدیر کہاں
اعتے اعتے جو رہے ‘بال تلک’ بھی میہماں
‘مانڈلے’ کو ہی یہ ایزاز ملا پانے کو

بات تو جب ہے کہ اس بات کی زدے ٹھانیں
دیش کے واسطے قربان کریں ہم جانیں
لاکھ سمجھائے کوئی، اسکی نہ ہرگز مانیں
بہتے ہئے خون میں اپنا نہ غریباں سانیں
ناسیہا، آگ لگے اس تیرے سمجھانے کو

اپنی قسمت میں اضل سے ہی ستم رکھا تھا
رنج رکھا تھا، میہن رکھا تھا، غم رکھا تھا
کسکو پرواہ تھی اور کسمیں یہ دم رکھا تھا
ہمنے جب وادی-اے-غربت میں قدم رکھا تھا
دور تک یاد-اے-وطن آئی تھی سمجھانے کو

ہم بھی آرام اٹھا سکتے تھے گھر پر رہ کر
ہم بھی ماں باپ کے پالے تھے، بڑے دکھ سہ کر
وقت-اے-رخصت انھیں اتنا بھی نہ آئے کہ کر
گود میں آنسو جو ٹپکے کبھی رخ سے بہ کر
طفل انکو ہی سمجھ لینا جی بہلانے کو

دیش سیوا کا ہی بہتا ہے لہو نس-نس میں
ہم تو کھا بیٹھے ہیں چتوڑ کے گڑھ کی قسمیں
سرپھروشی کی ادا ہوتی ہیں یوں ہی رسمیں
بھالے-خنجر سے گلے ملتے ہیں سب آپس میں
بہنوں، تییار چتاؤں میں ہو جل جانے کو

اب تو ہم ڈال چکے اپنے گلے میں جھولی
ایک ہوتی ہے فقیروں کی ہمیشہ بولی
خون میں پھاگ رچائیگی ہماری ٹولی
جب سے بنگال میں کھیلے ہیں کنھییا ہولی
کوئی اس دن سے نہیں پوچھتا برسانے کو

اپنا کچھ غم پر ہمکو خیال آتا ہے
مادر-اے-ہند پر کب تک زوال آتا ہے
‘ہردیال’ آتا ہے ‘یوروپ’ سے نہ ‘لال’ آتا ہے
دیش کے حالَ پے رہ رہ ملال آتا ہے
منتظر رہتے ہیں ہم خاک میں مل جانے کو

نوجوانوں، جو تبییت میں تمھاری خٹکے
یاد کر لینا ہمیں بھی کبھی بھولے-بھٹکے
آپ کے ززوے بدن ہویے جدا کٹ-کٹکے
اور صد چاک ہو ماتا کا کلیجہ پھٹکے
پر نہ ماتھے پے شکن آئے قسم خانے کو

دیکھیں کب تک یہ اسیران-اے-مصیبت چھوٹیں
مادر-اے-ہند کے کب بھاگ کھلیں یا پھوٹیں
‘گاندھی’ اپھریکا کی بازاروں میں صدقے کوٹیں
اور ہم چین سے دن رات بہاریں لوٹیں
کیوں نہ ترزیہ دیں اس جینے پے مار جانے کو

کوئی ماتا کی امیدوں پے نہ ڈالے پانی
زندگی بھر کو ہمیں بھیج کے کالے پانی
منہ میں جلاد ہئے جاتے ہیں چھالے پانی
آب-اے-خنجر کا پلا کرکے دعا لے پانی
بھرنے کیوں جاییں کہیں عمر کے پیمانے کو

میکدا کسکا ہے یہ جام-اے-سبو کسکا ہے
وار کسکا ہے جوانوں یہ گلو کسکا ہے
جو بہے قوم کی کھاتر وو لہو کسکا ہے
آسماں صاف بتا دے تو عدو کسکا ہے
کیوں نیے رنگ بدلتا ہے تو تڑپانے کو

دردمندوں سے مصیبت کی حلاوت پوچھو
مرنے والوں سے ذرا لطفَ-اے-شہادت پوچھو
چشم-اے-گستاکھ سے کچھ دید کی حسرت پوچھو
کشتہ-اے-نازتا سے ٹھوکر کی کیامت پوچھو
سوز کہتے ہیں کسے پوچھ لو پروانے کو

نوجوانوں یہی موقع ہے اٹھو کھل کھیلو
اور سر پر جو بلا آیے خوشی سے جھیلو
کونم کے نام پے صدقے پے جوانی دے دو
پھر ملینگی نہ یہ ماتا کی دعائیں لے لو
دیکھیں کون آتا ہے ارشاد بجا لانے کو

(حیف=افسوس، فدا=قربان، کاشانے=گھر،
بیل=ضمانت، ناسیہا=اپدیشک، رخ=چہرہ،
طفل=بچہ، صد=سو، شکن=تیوڑی،وٹ،
اسیران-اے-مصیبت=قید دا دکھ، گلو=گلا،
عدو=دشمن، چشم=اکھ، ارشاد بجا لانا=
کیہا مننا)

 

رام پرساد بسمل

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • کرتے نہیں ہیں اس سے نیا کچھ ہم اختلاط
  • اب کسی سے مرا حساب نہیں
  • چلے جاتے تو ہیں پر لوٹتے ہیں
  • موت کچھ بھی نہیں بگاڑ سکی
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
مٹ گیا جب مٹنے والا
پچھلی پوسٹ
الٰہی خیر وو ہردم

متعلقہ پوسٹس

خواب زدہ ویرانوں تک

مئی 9, 2020

پہاڑ کاٹتے دریاؤں کی روانی کو

مارچ 28, 2022

اک چٹائی ہے ،مصّلیٰ ہے ، کتب خانہ ہے

دسمبر 20, 2019

چہرے کو ترے تکتے ہوۓ

اکتوبر 14, 2025

اُن کی گفتار کو سمجھتے ہیں

اکتوبر 5, 2025

بے نام مسافت

نومبر 7, 2020

منظر سے اُدھر خواب کی پسپائی سے آگے

مئی 27, 2020

ایسی تنہائی

جولائی 6, 2025

ڈھونڈیے مت یہ خیر و شر

فروری 25, 2025

ٍشامیانوں کی وضاحت تو نہیں

دسمبر 20, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Visal abbasi on نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اسلامی گوشہ

آمد

ستمبر 4, 2026

چلو چلیں

ستمبر 2, 2026

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

اردو شاعری

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

ستمبر 4, 2026

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں...

ستمبر 2, 2026

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

اگست 31, 2026

سچ سامنے آنے لگا ہے

اگست 31, 2026

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • سچ سامنے آنے لگا ہے

    اگست 31, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

کیا بیابان، کیا نگر جاؤ

نومبر 29, 2019

درد کی نیلی رگیں

مئی 23, 2020

ہم پریوں کے چاہنے والے خواب...

مئی 10, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں