101
چہرے کو ترے تکتے ہوۓ جھوم رہی ہوں
مدت سے ترے چاک پہ میں گھوم رہی ہوں
تقدیر کہوں اس کو یا ہے چال تری یہ
میں پھول ہوں کانٹوں کو مگر چوم رہی ہوں
ملتا نہ اگر درد تو میں جانتی کیسے
چوکھٹ پہ تری زندگی معصوم رہی ہوں
کیسا ہے اثر پانی کی ہر بوند میں جب کے
برسات ترے بعد میں مشروم رہی ہوں
کیسے یہ کہوں تجھ سے مگر بات یہ سچ ہے
چاہت سے تری آج بھی محروم رہی ہوں
روشن رکھا ماں باپ کے اطوار نے پھر بھی
اس چاند کے آگے میں ہی معدوم رہی ہوں
ہوکر یہ فنا دیکھ لیا میں نے محبت
میں تیرے لیے لازم و ملزوم رہی ہوں
منسوب ہوں میں تجھ سے مگر یاد رہے یہ
اس گھر کی محبت میں ہی مقسوم رہی ہوں
کہتی ہیں مقدر کی لکیریں بھی یہی شاز
عورت ہوں محبت کی میں مخدوم رہی ہوں
شاز ملک
