126
پہاڑ کاٹتے دریاؤں کی روانی کو
کہاں سے ڈھونڈ کے لاؤں میں نوجوانی کو
نشان مٹتے چلے جا رہے ہیں قبروں کے
میں لے کے بیٹھا ہوں اب تک تری نشانی کو
ارادہ باندھ رہا تھا میں تیرے گاؤں کا
امڈ کے آ گئے بادل بھی سائبانی کو
دعا کے بعد بھی جب مجھ کو گھر نہیں ملتا
میں سوچ لیتا ہوں پھر تیری لا مکانی کو
جہاں پہ شور نے لوگوں کے کان پھاڑے ہوں
وہاں پہ کون سنے پھول کی کہانی کو
میں دیوتاؤں کی بستی کا آخری گونگا
بیان کیسے کروں اس کی خوش بیانی کو
بچھڑ کے کس طرح جینا محال ہوتا ہے
یہ بات مچھلی بھلا کیا بتائے پانی کو
اذاں کا سوز بھی ان پہ اثر نہیں کرتا
جو لوگ جرم سمجھتے ہوں نغمہ خوانی کو
وہیں سے شعر کا شجرہ شروع ہوتا ہے
جہاں سے لفظ جنم دے نئے معانی کو
صابر رضوی
