335
شکستہ خواب مرے آئینے میں رکھے ہیں
یہ کیا عذاب مرے آئنے میں رکھے ہیں
ابھی تو عشق کی پرتیں کھلیں گی تہہ در تہہ
ابھی حجاب مرے آئنے میں رکھے ہیں
پڑھا رہے ہو مجھے تم یہ کس جہاں کے سبق
مرے نصاب مرے آئنے میں رکھے ہیں
تمہارے خواب سلامت ہیں اجڑی آنکھوں میں
جو زیر آب مرے آئنے میں رکھے ہیں
تمہارے ہجر میں گزرے ہوئے سبھی لمحے
مری کتاب مرے آئنے میں رکھے ہیں
زبیر قیصر
