آج 23 ستمبر ہے، یہ دن سعودی عرب کے لیے فخر، خوشی اور انبساط کا دن ہے۔ آج سے ترانوے برس قبل، شاہ عبدالعزیز آلِ سعود کی قائدانہ بصیرت نے مختلف خطوں کو یکجا کرکے ایک نئی ریاست کی بنیاد رکھی۔ یہ وہ لمحہ تھا جب ایک خواب حقیقت میں ڈھلا اور بکھری ہوئی وادیوں اور قبیلوں کو ایک پرچم تلے جمع کر کے ایک نئی قوم کی شناخت قائم کی گئی۔ اسی وجہ سے یہ دن سعودی عوام کے لیے صرف ایک تاریخی یادگار نہیں بلکہ اپنے وجود اور قومی وحدت کی علامت ہے۔
یومِ ملی کا جشن سعودی عرب کے عوام کو اپنی تاریخ پر فخر کرنے اور آنے والے کل کے لیے نئے عزائم باندھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ جب شاہراہوں پر سبز پرچموں کی بہار آتی ہے، گھروں اور عمارتوں پر چراغاں ہوتا ہے، قومی نغمے گونجتے ہیں اور عوام خوشی سے جھومتے ہیں تو یہ سب کچھ اس بات کی علامت ہے کہ ایک قوم اپنی جڑوں کو نہیں بھولی۔ اس جشن میں ایک بچہ بھی شریک ہوتا ہے اور ایک بزرگ بھی، نوجوانوں کی توانائی بھی نظر آتی ہے اور خواتین کی شرکت بھی۔ اس منظر سے یہ احساس مزید گہرا ہوتا ہے کہ سعودی عرب کی شناخت محض تاریخ کا باب نہیں بلکہ ایک زندہ اور متحرک حقیقت ہے۔
قیام کے بعد سعودی عرب نے جس طرح تیزی سے ترقی کے سفر طے کیے وہ بھی اس دن کی اہمیت کو بڑھا دیتا ہے۔ تیل کی دریافت نے معیشت کو سہارا دیا، مگر قیادت نے اپنی حکمتِ عملی کو محض تیل تک محدود نہیں رکھا۔ تعلیم، صحت، صنعت اور انفراسٹرکچر میں وسیع سرمایہ کاری کی گئی۔ جدید شہروں کی تعمیر ہوئی، دنیا کی اعلیٰ جامعات کے معیار پر تعلیمی ادارے قائم ہوئے اور صحت کے میدان میں وہ سہولیات فراہم کی گئیں جو آج خطے کے لیے ایک مثال سمجھی جاتی ہیں۔ وژن 2030 نے اس ترقی کو ایک نئے رخ پر ڈال دیا ہے اور یہ ظاہر کیا ہے کہ سعودی عرب مستقبل کو صرف خوابوں میں نہیں بلکہ عملی منصوبوں کے ذریعے تشکیل دے رہا ہے۔
اس قومی دن کا ایک پہلو ثقافتی ورثے کا احیاء بھی ہے۔ آتشبازی، روایتی رقص، عوامی اجتماعات اور موسیقی کے پروگرام عوام کو ان کی تاریخ سے جوڑتے ہیں۔ سعودی شہری اپنے روایتی لباس میں خوشی کا اظہار کرتے ہیں اور مختلف شہروں میں منعقد ہونے والے میلوں میں اپنی تہذیب و تمدن کی جھلک دکھاتے ہیں۔ یہ دن نہ صرف ماضی کو یاد دلانے والا ہے بلکہ حال اور مستقبل کے درمیان ایک مضبوط رشتہ بھی قائم کرتا ہے۔
سعودی عرب کو ایک اور پہچان حرمینِ شریفین کی بدولت حاصل ہے۔ خانہ کعبہ اور مسجدِ نبوی ﷺ کی موجودگی اس سرزمین کو دنیا کے دو ارب مسلمانوں کے دل کی دھڑکن بنا دیتی ہے۔ ہر سال لاکھوں مسلمان حج و عمرے کی سعادت حاصل کرنے یہاں آتے ہیں اور جب سعودی عوام اپنا یومِ ملی مناتے ہیں تو اس خوشی میں پوری امتِ مسلمہ بھی شامل ہو جاتی ہے۔ کیونکہ سعودی عرب کا استحکام صرف سعودی عوام کے لیے نہیں بلکہ پوری اسلامی دنیا کے لیے باعثِ اطمینان ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات اس تناظر میں ایک خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔ یہ رشتہ محض سفارتی نہیں بلکہ ایک جذباتی، روحانی اور بھائی چارے پر مبنی رشتہ ہے۔ لاکھوں پاکستانی روزگار کے لیے سعودی عرب میں موجود ہیں اور وہاں سے اپنی محنت کی کمائی پاکستان بھیجتے ہیں جس سے ملکی معیشت کو سہارا ملتا ہے۔ مشکل کی ہر گھڑی میں سعودی عرب نے پاکستان کے ساتھ کھڑا ہونے میں کبھی تامل نہیں کیا۔ چاہے افغان مہاجرین کی میزبانی ہو، ایٹمی پروگرام کی تکمیل ہو یا دفاعی سازوسامان کی فراہمی، سعودی عرب نے پاکستان کا ہاتھ تھامنے میں سبقت لی۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی عوام سعودی عرب کو صرف ایک دوست نہیں بلکہ ایک حقیقی بھائی سمجھتے ہیں۔
یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ حرمینِ شریفین کی سرزمین پاکستانی عوام کے لیے ایک خصوصی مقام رکھتی ہے۔ یہ وہ تعلق ہے جس کی جڑیں اسلامی اخوت اور عقیدت میں پیوستہ ہیں۔ پاکستان کے عوام جب خانہ کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے ہیں تو ان کے دل میں یہ احساس اور بھی گہرا ہو جاتا ہے کہ سعودی عرب ان کے ایمان کا مرکز ہے۔ یہی وہ جذبہ ہے جو دونوں ممالک کے رشتے کو ایک انوکھا رنگ دیتا ہے۔
حالیہ دنوں میں پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات نے ایک نئی اور تاریخی جہت اختیار کی ہے۔ 17 ستمبر 2025 کو ریاض میں دونوں ممالک کے درمیان ایک اہم دفاعی معاہدہ طے پایا، جس نے دونوں برادر قوموں کے رشتے کو مزید مستحکم اور مضبوط کر دیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک نے طے کیا کہ اگر کسی ایک ملک پر حملہ ہوتا ہے تو اسے دونوں پر حملہ سمجھا جائے گا، اور پاکستان کی دفاعی صلاحیتیں سعودی عرب کے تحفظ کے لیے بھی دستیاب ہوں گی، اگر ضرورت پیش آئے۔ یہ اقدام نہ صرف دونوں حکومتوں کی دانشمندی اور بصیرت کا مظہر ہے بلکہ دونوں عوام کے لیے بھی باعثِ فخر اور خوشی ہے۔ پاکستانی عوام کے دل میں یہ احساس بڑھ گیا ہے کہ سعودی عرب صرف ایک دوست نہیں بلکہ ایک حقیقی بھائی ہے، اور سعودی عوام کے لیے بھی یہ اعزاز اور خوش قسمتی کی بات ہے کہ وہ ایک ایسا قابلِ اعتماد اور مضبوط اتحادی رکھتے ہیں۔ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان اخوت، اعتماد اور دفاعی شراکت داری کی نئی راہیں کھولتا ہے، جو خطے میں امن اور استحکام کے لیے بھی روشنی کا پیغام ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں دونوں ممالک کے تعلقات نے ایک نئی جہت اختیار کی ہے۔ اعلیٰ سطحی وفود کے تبادلے، سرمایہ کاری کے منصوبے اور توانائی کے شعبے میں معاہدے اس بات کا ثبوت ہیں کہ دونوں برادر ممالک مستقبل کو ایک ساتھ تشکیل دینا چاہتے ہیں۔ سعودی سرمایہ کاری پاکستان کے بڑے منصوبوں میں دکھائی دیتی ہے جبکہ پاکستان بھی سعودی عرب کے ساتھ اپنی اقتصادی و تجارتی شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جانا چاہتا ہے۔ ان تعلقات میں پیدا ہونے والی یہ نئی توانائی نہ صرف دونوں حکومتوں بلکہ عوامی سطح پر بھی امید کی کرن پیدا کر رہی ہے۔
بین الاقوامی سطح پر سعودی عرب کا کردار بھی قابلِ ذکر ہے۔ اوپیک ہو، اسلامی تعاون تنظیم ہو یا اقوامِ متحدہ جیسے عالمی ادارے، سعودی عرب کی آواز اہمیت رکھتی ہے۔ یہ ملک توانائی کی پالیسیوں اور عالمی معیشت میں مرکزی حیثیت کا حامل ہے اور مسلم دنیا کے مسائل پر ایک مضبوط اور اثر انگیز کردار ادا کرتا ہے۔
آج کا سعودی عرب روایت اور جدیدیت کا حسین امتزاج پیش کرتا ہے۔ ایک طرف صدیوں پرانی روایات اور مذہبی تقدس ہے تو دوسری طرف جدید ٹیکنالوجی، خواتین کی بڑھتی ہوئی شرکت، نوجوانوں کا کردار اور سیاحت کے شعبے میں سرمایہ کاری ہے۔ وژن 2030 اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ سعودی عرب آئندہ دہائیوں میں عالمی منظرنامے پر مزید نمایاں ہوگا اور ترقی کی نئی راہیں کھولے گا۔
یقیناً سعودی عرب کا یومِ ملی صرف سعودی عوام کے لیے نہیں بلکہ پاکستانی عوام کے لیے بھی خوشی اور فخر کا لمحہ ہے۔ دونوں ملکوں کے دل ایک دوسرے کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ دعا ہے کہ سعودی عرب مزید ترقی کرے، پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات مضبوط تر ہوں اور پوری مسلم اُمّت اتحاد و اتفاق کے ساتھ امن اور خوشحالی کا پیغام دنیا تک پہنچائے۔
یوسف صدیقی
