103
اب بس اس کے دل کے اندر داخل ہونا باقی ہے
چھ دروازے توڑ چکا ہوں اک دروازہ باقی ہے
دولت شہرت بیوی بچے اچھا گھر اور اچھے دوست
کچھ تو ہے جو ان کے بعد بھی حاصل کرنا باقی ہے
میں برسوں سے کھول رہا ہوں اک عورت کی ساڑھی کو
آدھی دنیا گھوم چکا ہوں آدھی دنیا باقی ہے
کبھی کبھی تو دل کرتا ہے چلتی ریل سے کود پڑوں
پھر کہتا ہوں پاگل اب تو تھوڑا رستہ باقی ہے
اس کی خاطر بازاروں میں بھیڑ بھی ہے اور رونق بھی
میں گم ہونے والا ہوں بس ہاتھ چھڑانا باقی ہے
ضیا مذکور
