113
ہمارے ساتھ کوئی مسئلہ فرات کا ہے
وگرنہ علم اسے اپنی مشکلات کا ہے
غزل میں اس لیے کرتا ہوں آپ کی تعریف
کہ لوگ خود مجھے بولیں یہ شعر نعت کا ہے
اک آدھے کام کے حق میں تو خیر میں بھی ہوں
تمھارے پاس تو دفتر سفارشات کا ہے
ہماری بات کا جتنا وسیع پہلو ہے
زباں پہ لانے میں نقصان کائنات کا ہے
ہم اس کے ہونے نہ ہونے پہ کتنا لڑ رہے ہیں
کسی کے واسطے یہ کھیل نفسیات کا ہے
تم اس پہ کیوں نئی باتوں کا بوجھ ڈالتے ہو
جب ایک شخص پرانے معاملات کا ہے
مرے حساب سے معذوری حسن ہے میرا
اگر یہ عیب ہے تو بھی خدا کے ہاتھ کا ہے
ضیا مذکور
