101
شام تجھ پر ہزار شعر کہوں
دل کو پھر بھی قرار آتا نہیں
یہ ترا حسن یہ حلیمی تری
تیری خاموشیاں یہ معنی خیز
دن سمیٹے تو اپنے آنچل میں
کیسے پل پل بکھیر دیتی ہے رنگ
اور اندھیرے میں ڈوب جانے کو
تیرا کچھ ہی گھڑی کا نرم وجود
خوشبوئیں گھولتا فضاؤں میں
دوش پر یوں اڑے ہواؤں کے
جیسے تجھ کو سوائے الفت کے
اور کچھ بھی نہیں سجھا ئی دے
کس قدر پرسکون لگتے ہیں
آ کے تیری پناہ میں یہ شجر
سر بلند ی یہ کوہساروں کی
ہوئی واضح شفق میں تیرے سبب
ہو گئے نغمہ ریزسب طائر
جانے کب میں بھی گنگنانے لگی
ترنم ریاض
