خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامکم عمر ذہن اور ڈیجیٹل یلغار
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

کم عمر ذہن اور ڈیجیٹل یلغار

از سائیٹ ایڈمن جنوری 18, 2026
از سائیٹ ایڈمن جنوری 18, 2026 0 تبصرے 40 مناظر
41

پاکستانی معاشرہ اس وقت جن خاموش مگر گہرے بحرانوں سے گزر رہا ہے ان میں کم عمر بچوں کا بے لگام سوشل میڈیا استعمال ایک نہایت سنجیدہ مسئلہ بن چکا ہے۔ یہ محض ایک ٹیکنالوجی کا سوال نہیں بلکہ ہماری آئندہ نسلوں کی ذہنی، اخلاقی اور نفسیاتی ساخت کا معاملہ ہے۔ حالیہ دنوں سینیٹ میں اس موضوع پر ہونے والی بحث نے اس مسئلے کو قومی سطح پر نمایاں کر دیا ہے جو یقیناً خوش آئند امر ہے۔

سینیٹ کے اجلاس میں سینیٹر فلک ناز چترالی کی جانب سے توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا جانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اب ایوان بالا بھی اس خطرے کی سنگینی کو محسوس کر رہا ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ پاکستان میں اٹھارہ سال سے کم عمر بچے بلا روک ٹوک سوشل میڈیا پلیٹ فارمز استعمال کر رہے ہیں اور اس کے نتیجے میں ان کی ذہنی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے ایک تلخ مگر ناقابل تردید حقیقت ہے۔ آج کا بچہ کتاب، کھیل کے میدان اور گھریلو گفتگو سے زیادہ موبائل اسکرین کا اسیر بن چکا ہے۔

وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کا اس مسئلے کو قومی مسئلہ قرار دینا بروقت اور ذمہ دارانہ مؤقف ہے۔ انہوں نے درست نشاندہی کی کہ بچوں کو سوشل میڈیا کے خطرات سے بچانے کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔ یہ معاملہ محض ایک فرد یا ایک ادارے تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہو رہے ہیں۔ مسئلے کو قائمہ کمیٹی میں بھجوانے کی تجویز اس لیے بھی اہم ہے کہ وہاں سنجیدہ، تکنیکی اور قانونی پہلوؤں پر تفصیل سے غور کیا جا سکتا ہے۔

سینیٹر فوزیہ ارشد کی گفتگو نے اس بحث کو ایک اور اہم زاویہ فراہم کیا۔ انہوں نے بجا طور پر نشاندہی کی کہ سوشل میڈیا اب والدین کے لیے ایک سیریس مسئلہ بن چکا ہے۔ آج کے والدین خود اس مخمصے کا شکار ہیں کہ بچوں کو مکمل آزادی دی جائے یا سخت پابندیاں عائد کی جائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں انتہائیں نقصان دہ ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ والدین کو بھی اس حوالے سے رہنمائی فراہم کی جائے تاکہ وہ بچوں کے لیے بہتر فیصلے کر سکیں۔

تعلیمی اداروں میں سوشل میڈیا کے استعمال پر کونسلنگ کی تجویز نہایت اہم ہے۔ ہمارے اسکول اور کالج آج بھی نصابی نتائج تک محدود ہیں جبکہ طلبہ کی ذہنی صحت اور ڈیجیٹل رویوں پر توجہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ اگر تعلیمی نصاب کے ساتھ ساتھ بچوں کو یہ سکھایا جائے کہ سوشل میڈیا کیا ہے، اس کے فوائد کیا ہیں اور نقصانات کس حد تک تباہ کن ہو سکتے ہیں تو شاید ہم ایک متوازن نسل تیار کر سکیں۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ اس مسئلے کا حل کسی ایک وزارت یا محکمے کے بس کی بات نہیں۔ تعلیم، آئی ٹی اور داخلہ کے اداروں کو مشترکہ حکمت عملی کے تحت آگے بڑھنا ہوگا۔ دنیا بھر میں سوشل میڈیا ایک چیلنج بن چکا ہے اور ترقی یافتہ ممالک بھی اس حوالے سے قوانین اور ضوابط مرتب کر رہے ہیں۔ تاہم یہ سوال بھی اہم ہے کہ حکومت کس حد تک مداخلت کر سکتی ہے اور کہاں اظہار رائے کی آزادی اور شخصی آزادی کا احترام لازم ہو جاتا ہے۔

پریذائیڈنگ آفیسر سینیٹر شیری رحمن کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ اس معاملے میں صوبائی حکومتوں کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ تعلیم چونکہ صوبائی معاملہ ہے اس لیے کسی بھی قانون یا پالیسی کو مؤثر بنانے کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی ضروری ہے۔ سوشل میڈیا کے ہر پہلو کو دیکھے بغیر کوئی بھی فیصلہ ادھورا ثابت ہو سکتا ہے۔

اسی بحث میں سینیٹر افنان اللہ خان کی جانب سے ڈیٹا پروٹیکشن بل کا حوالہ دینا بھی قابل توجہ ہے۔ بچوں کی آن لائن پرائیویسی آج کے دور کا ایک بڑا سوال ہے۔ کم عمر بچے نہ صرف ذہنی طور پر متاثر ہو رہے ہیں بلکہ ان کا ڈیٹا بھی غیر محفوظ ہاتھوں میں جا رہا ہے۔ ایسے میں ڈیٹا پروٹیکشن سے متعلق قانون سازی کو اس بحث کا حصہ بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

یہ بات سمجھنا ہوگی کہ مسئلے کا حل محض پابندیوں میں نہیں بلکہ شعور، تربیت اور رہنمائی میں ہے۔ اگر ہم بچوں کے ہاتھ سے موبائل چھین بھی لیں مگر انہیں متبادل مثبت سرگرمیاں فراہم نہ کریں تو یہ پابندیاں دیرپا ثابت نہیں ہوں گی۔ ہمیں ایک ایسی پالیسی درکار ہے جو تحفظ بھی دے، تربیت بھی کرے اور آزادی کے ساتھ ذمہ داری کا شعور بھی پیدا کرے۔

یوسف صدیقی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • یوں برملا یہ اشک بہانا فضول ہے
  • سفرنامہ بھارت – پانچویں قسط
  • رمضان اور اتحاد بین المجرمین!
  • آدھی عورت آدھا خواب
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
اپنی ذات کے ویران راستے
پچھلی پوسٹ
برطانیہ – بچوں کے تحفظ کا اصل سوال

متعلقہ پوسٹس

گلزارِ دل

مئی 27, 2025

میڈم نفیس کی کہانی

اپریل 1, 2023

شبِ معراج

جنوری 17, 2026

الوداع ڈاکٹر بشیر بدر

مئی 30, 2026

اردو شاعری کا مردِ قلندر

مارچ 15, 2020

پرندے اور کوئی دم میں جلنے والے تھے

فروری 22, 2026

علمیت اور ذکاوت کے مقابلے

جنوری 16, 2026

اردو زبان و ادب کی تدریس

جون 1, 2021

کامیابی دراصل آپ کی ”سوچ ”ہے !

جولائی 19, 2020

پوچھے گا کون تجھ کو

دسمبر 7, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے

اسلامی گوشہ

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

” توکل ” کیا ہے

جون 2, 2026

یہ نور کس کا پھیل گیا ہے چمن...

مئی 26, 2026

مظہر ہے کبریا کا علیؑ مرتضیٰ کا نام

مئی 23, 2026

اردو شاعری

زندگی بھر فکر کرتے رہے

جون 2, 2026

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

جون 2, 2026

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان

جون 2, 2026

لمحوں کی قید کاٹ کے صدیوں میں آ...

جون 2, 2026

ممکن نہیں ہے جبر کی بیعت روا مجھے

جون 2, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

جون 3, 2026

ملازمت بہتر یا کاروبار

جون 3, 2026

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

لفظوں کا دیوتا اور سماج کی بے حسی

جون 2, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • کتاب «المتلذذون بالعلم»

    جون 2, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

دل نے جب بھی ترا خیال...

جنوری 12, 2026

حضرت محمد ﷺ کی محبت

اگست 15, 2025

یہ فکر آنکھوں میں اس کی...

مئی 15, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں