101
پرندے اور کوئی دم میں جلنے والے تھے
درخت دل میں بھری آگ اگلنے والے تھے
مؤذنوں کو تو اس بات کا پتہ ہی نہ تھا
کہیں سے تیر اندھیرے میں چلنے والے تھے
جہاز رانوں کی آنکھوں میں اتنی وحشت تھی
کہ بادبان ہی خیموں میں ڈھلنے والے تھے
یہ ماس خور یہ اندھی گپھا میں پلتے چور
سب اپنی نسل کے مردوں پہ پلنے والے تھے
میں جانتا ہوں چراغوں سے آئینوں کا سفر
میں جانتا ہوں جو بانسوں اچھلنے والے تھے
کہ ریت اڑ رہی ہوگی تو یاد آئیں گے
تمام آئنے جو راز اگلنے والے تھے
مجھے کمہار کے سونے سے مسئلہ نہیں پر
ظروف آج بھی کچے نکلنے والے تھے
وہ سرد رات وہ ققنس وہ اک چراغ عثمانؔ
سب اپنے اپنے الاؤ میں جلنے والے تھے
عثمان علوی
