418
ہواؤں میں دلوں کا کارواں ہے
مقدس عشق جب سے مہرباں ہے
مرے دل کو سکوں آیا یہیں پر
بڑا مخصوص تیرا آستاں ہے
وہ مجھ سے دور جائے گا بھی کیسے
جو میری روح کے اندر نہاں ہے
محبت کے سفر پر جاؤ لیکن
وہاں ہر موڑ پر اک امتحاں ہے
مرے دل پر اسی کی ہے حکومت
لکیروں میں مری جس کا نشاں ہے
چھپا سکتی نہیں اس سے میں کچھ بھی
مرا ہر راز تو اس پر عیاں ہے
فراق و وصل کی حد سے نکل کر
عجب سے موڑ پر اب داستاں ہے
ملیں ہیں چند لمحے کھل کے جی لیں
وگرنہ زندگی تو رائیگاں ہے
الکا مشرا
