بچوں کے خلاف جنسی جرائم کسی بھی معاشرے کے لیے سب سے بڑا اخلاقی امتحان ہوتے ہیں۔ یہ ایسا جرم ہے جو انسانیت کی بنیادوں کو ہلا دیتا ہے اور جس پر کسی بھی قسم کی نرمی یا ابہام کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ مگر بدقسمتی سے اسی حساس مسئلے کو بنیاد بنا کر کچھ ایسے رجحانات فروغ پا رہے ہیں جو انصاف کے بجائے اشتعال، تماشہ اور تعصب کو جنم دے رہے ہیں۔ برطانیہ میں خود ساختہ پیڈوفائل ہنٹر گروپس کی سرگرمیاں اسی پیچیدہ اور خطرناک صورتحال کی ایک واضح مثال بن چکی ہیں۔
یہ گروپس خود کو بچوں کا محافظ ظاہر کرتے ہیں اور آن لائن جعلی پروفائلز کے ذریعے مبینہ مشتبہ افراد سے رابطہ کرتے ہیں۔ گفتگو کے بعد ملاقات طے کی جاتی ہے اور پھر موقع پر پہنچنے والے
شخص کو کیمرے کے سامنے گھیر لیا جاتا ہے۔ ویڈیو بنائی جاتی ہے، سخت الفاظ کہے جاتے ہیں اور بعد ازاں یہی مواد سوشل میڈیا پر ڈال دیا جاتا ہے۔ اس پورے عمل میں انصاف کہیں پیچھے رہ جاتا ہے جبکہ تماشہ، سنسنی اور وائرل ہونے کی خواہش نمایاں ہو جاتی ہے۔
ایک نہایت سنجیدہ اور نظر انداز کیا جانے والا پہلو یہ ہے کہ ایسی وائرل ویڈیوز میں اکثر ایشیا سے تعلق رکھنے والے افراد ہی نشانہ بنتے دکھائی دیتے ہیں۔ جنوبی ایشیائی پس منظر رکھنے والی کمیونٹیز بار بار ان ویڈیوز میں سامنے آتی ہیں جس سے یہ تاثر مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ کمزور سماجی حیثیت، زبان کی رکاوٹ اور قانونی ناآگاہی کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس عمل کا نقصان صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتا بلکہ پوری کمیونٹی مشکوک نظروں کی زد میں آ جاتی ہے۔
جب کوئی شخص کیمرے کے سامنے گھبرا جاتا ہے، الفاظ کا درست انتخاب نہیں کر پاتا یا خاموش ہو جاتا ہے تو اسے اعتراف جرم بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ بعد میں وضاحت، تردید یا صفائی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی کیونکہ فیصلہ پہلے ہی سوشل میڈیا کی عدالت میں سنایا جا چکا ہوتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انصاف ہجوم کے غصے میں بدل جاتا ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ان ویڈیوز کا ایک اور افسوسناک پہلو جرائم کی تشہیر ہے۔ بعض ویڈیوز میں سنجیدگی کے بجائے تضحیک، شور اور تحقیر نمایاں ہوتی ہے۔ مقصد جرم کو روکنا کم اور مواد تیار کرنا زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ ویوز اور لائکس کی دوڑ میں انسانی وقار اور قانونی تقاضے پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر نیت واقعی بچوں کا تحفظ ہے تو پھر اس عمل کو تفریح کیوں بنایا جا رہا ہے۔
قانونی اعتبار سے یہ طریقہ نہایت نقصان دہ ہے۔ برطانیہ میں شواہد اکٹھے کرنے کے واضح اصول موجود ہیں اور صرف وہی ثبوت عدالت میں قابل قبول ہوتے ہیں جو قانون کے مطابق حاصل کیے جائیں۔ غیر تربیت یافتہ افراد کی بنائی گئی ویڈیوز اکثر کیس کو کمزور کر دیتی ہیں اور بعض اوقات واقعی قصوروار افراد بھی قانونی سقم کی وجہ سے سزا سے بچ نکلتے ہیں۔ یوں اس سارے عمل کا نقصان بالآخر بچوں کے تحفظ ہی کو پہنچتا ہے۔
پولیس اور ریاستی ادارے اس حوالے سے بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ خود ساختہ انصاف عدالتی نظام کو نقصان پہنچاتا ہے۔ جب کارروائیاں مخصوص نسلی یا علاقائی پس منظر رکھنے والوں تک محدود ہونے لگیں تو یہ مسئلہ محض جرم کا نہیں رہتا بلکہ امتیاز اور تعصب کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اس سے معاشرے میں خوف، بداعتمادی اور تقسیم بڑھتی ہے۔
یہاں بچوں کے تحفظ کا اصل سوال سامنے آتا ہے۔ بچوں کو محفوظ بنانے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم قانون کو نظر انداز کر دیں۔ اصل تحفظ تب ممکن ہے جب والدین کو آن لائن خطرات سے آگاہ کیا جائے، بچوں کو یہ سکھایا جائے کہ وہ مشکوک رویوں کو پہچان سکیں اور بلا خوف رپورٹ کر سکیں۔ اسکولوں اور تعلیمی اداروں کا کردار اس حوالے سے بنیادی ہے جہاں بچوں کو ڈیجیٹل تحفظ کی تربیت دی جانی چاہیے۔
اسی طرح ریاست اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی ذمہ داری بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ سوشل میڈیا کمپنیوں کو بچوں کے تحفظ کے لیے سخت پالیسیاں نافذ کرنی ہوں گی اور مشتبہ سرگرمیوں کی بروقت رپورٹنگ کے مؤثر نظام قائم کرنا ہوں گے۔ پولیس کو جدید ٹیکنالوجی اور وسائل فراہم کیے جائیں تاکہ وہ ایسے جرائم سے پیشہ ورانہ انداز میں نمٹ سکے۔ بچوں کا تحفظ جذبات سے نہیں بلکہ منظم حکمت عملی سے ممکن ہے۔
متاثرہ کمیونٹیز کے خوف کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ جب لوگ یہ محسوس کریں کہ کسی بھی لمحے انہیں وائرل ویڈیو کا حصہ بنایا جا سکتا ہے تو وہ ریاستی اداروں سے تعاون کرنے کے بجائے خاموشی کو ترجیح دینے لگتے ہیں۔ یہ خاموشی جرائم کے خاتمے میں رکاوٹ بنتی ہے اور مسئلہ مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بغیر عدالتی فیصلے کے کسی شخص کی شناخت اور ویڈیوز کے پھیلاؤ کو روکیں۔ وائرل کلچر نے انصاف کو شور میں بدل دیا ہے اور یہی شور اصل مسائل کو دبا دیتا ہے۔
معاشرہ آج ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے۔ بچوں کا تحفظ ایک مقدس ذمہ داری ہے، مگر یہ ذمہ داری قانون، انصاف اور انسانی وقار کے دائرے میں رہ کر ہی ادا کی جا سکتی ہے۔ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہم ایک منصفانہ نظام چاہتے ہیں یا محض وائرل تماشہ۔ اگر ہم نے اس فرق کو نہ سمجھا تو نقصان صرف افراد یا کمیونٹیز کا نہیں بلکہ پورے معاشرتی ڈھانچے کا ہوگا۔
یوسف صدیقی
