خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباکتے کی زبان
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو مزاحیہ تحاریر

کتے کی زبان

از سائیٹ ایڈمن مئی 25, 2024
از سائیٹ ایڈمن مئی 25, 2024 0 تبصرے 72 مناظر
73

تو بات کتے کی زبان کی چل رہی تھی۔ اس زبان کی نہیں، جسے کتا اکثر منھ سے باہر لٹکائے رکھتا ہے اور یوں لگتا ہے، جیسے ہوا میں موجود رطوبت نسبتی Relative Humidity ناپنے کی کوشش کر رہا ہو۔ ذکر اس زبان کا تھا جس میں وہ دوسروں کا کہا، سنتا سمجھتا اور اپنی بات کہتا ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ دنیا کے سارے کتے ایک ہی زبان میں ہم کلام ہوتے ہیں اور شکل و صورت اور رنگ ونسل کے زبردست فرق کے باوجود ایک ہی زبان میں بولتے ہیں۔ یہ کبھی نہیں دیکھا گیا کہ امریکہ کا کتا انگریزی میں ٹٹ بٹ کر رہا ہو، چین کا کتا چینی زبان میں چیاؤں میاؤں کرتا ہو اور عرب کا کتا عربی میں رطب اللسان ہو۔ ہر ملک اور ہر صوبے کے کتے ایک ہی زبان میں بھونکتے ہیں۔ یہ شرف صرف حضرت انسان کو حاصل ہے کہ ہر دس کوس چلنے کے بعد ان کی زبان بدل جاتی ہے۔

لیکن تعریف کی بات یہ ہے کہ کتا آپس کی زبان ایک ہونے کے باوجود دوسروں کی زبانیں بڑی آسانی سے سیکھ لیتا ہے۔ تمل بولنے والا کوئی شخص اپنا کتا کسی پنجابی کو بیچ دے تو شروع میں چند روز ضرور وہ پنجابی زبان سے حیران اور پریشان نظر آئے گا، بلکہ ہو سکتا ہے کہ مالک کے ٹھیٹھ پنجابی لہجے سے ڈر کر بھونکنے بھی لگے، لیکن آپ دیکھیں گے کہ چند ہفتوں میں ہی وہ سلیس اور با محاورہ پنجابی میں دسترس حاصل کر لے گا اور شستہ پنجابی میں احکامات کی تعمیل شروع کر دے گا۔ لسانی امور میں کتوں کو بالعموم صلح کل کا قائل اور پابند دیکھا گیا ہے۔ زبان کے اختلاف پر آپ انہیں کبھی کسی سے لڑتے نہیں پائیں گے۔ یہ وصف صرف انسانوں میں ہے کہ مذہب، علاقہ، رنگ، نسل اور ذات پر ہی نہیں، زبان کے فرق پر بھی ایک دوسرے کو بھنبھوڑ کر رکھ دیتے ہیں۔

دنیا کو اضافیت کا عظیم سائنسی نظریہ دینے والے سائنس داں آئنسٹائن سے خاموش فلموں کے عظیم ترین اداکار چارلی چیپلن کی پہلی ملاقات ہوئی تو آئنسٹائن نے چیپلن کی تعریف کرتے ہوئے کہا ’’آپ کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ساری دنیا میں آپ کی شہرت ہے اور ہر شخص آپ کی زبان سجھتا ہے ‘‘ چارلی چیپلن نے اس پر کہا :شکریہ جناب مگر آپ اس معاملے میں مجھ سے بھی بڑھ کر ہیں کہ ساری دنیا میں مشہور ہیں اور کوئی آپ کی زبان نہیں سمجھتا۔

چارلی چیپلن کی طرح کتا بھی زبان میں کم اور ترسیل میں زیادہ یقین رکھتا ہے۔ چنانچہ آپ دیکھیں گے کہ وہ اپنے دلی جذبات و خیالات کے اظہار کے لئے منھ سے کم اور اپنی دم سے زیادہ کام لیتا ہے۔ محبوب کی آنکھیں اس کی دلی کیفیات کی غماز ہوتی ہیں، چنانچہ شاعروں نے محبوب کی آنکھوں پر لاتعداد شعر کہے ہیں اور ان میں جھیل، تالاب اور سمندر ہی نہیں بلکہ بہت سے سربستہ راز، گمنام جزیرے، انجان خواب، اجنبی سائے، نیند، پیاس، شراب، پیالے، کٹورے، اور دوسرے کئی برتن خود بھی دیکھے ہیں اور اپنے سامعین و قارئین کو بھی دیکھنے کی پر زور سفارش و تلقین کی ہے۔ ایک شاعر نے کہا ہے کہ ’’محبت میں زباں چپ ہو تو آنکھیں بات کرتی ہیں، ، یعنی جو دل میں ہے وہ آنکھوں سے ظاہر ہو جاتا ہے، لیکن اس سے بھی آگے بڑھ کر ایک بات شاعر نے یو ں کہ:

لب کچھ کہیں اس سے حقیقت نہیں کھلتی
انسان کے سچ جھوٹ کی پہچان ہیں آنکھیں

کتا بھی بے چارہ اپنی آنکھوں سے یہی سب کام لینے کی کافی کوشش کرتا ہے، لیکن اس کی ناک کی طوالت بیچ میں آ جاتی ہے۔ چنانچہ یہ سب کام اسے دم سے لینے پڑے ہیں جو اس کے خیالات کی ترسیل کو اس کی زبان کے مقابلے میں کہیں زیادہ صفائی کے ساتھ انجام دیتی ہے، بلکہ کئی بار تو وہ سب بھی کہہ دیتی ہے جسے کتا کہنا نہیں چاہتا اور بے چارہ بزبان اقبال دم سے بس شکوہ ہی کر کے رہ جاتا ہے کہ بے وقوف نامعقول:

تو نے یہ کیا غضب کیا مجھ کو ہی فاش کر دیا
میں ہی تو ایک راز تھا سینہ کائنات میں

کتے کی طرح محبوب کی بھی دم ہوا کرتی تو شاعروں کو وہ تمام شعر دم کی تعریف میں کہنے پڑتے، جو انہوں نے آنکھوں پر کہے ہیں۔ البتہ دم پر انہیں سمندر، تالاب، جزیرے اور حملہ برتن و آلات وغیرہ کو جمانے، ٹکانے یا لٹکانے میں خاصی وقت پیش آتی جو انہوں نے محبوب کی آنکھوں میں بڑی آسانی سے بھر دئیے ہیں۔ فلمی گانوں کے بول بھی کچھ یوں ہوا کرتے کہ:

آپ کی دم کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے
یہ اٹھے صبح چلے، یہ جھکے شام ڈھلے
میرا جینا مرا مرنا ہو اسی دم کے تلے

یا

چوری چوری آگ سی دم میں لگا کر چل دئے
ہم تڑپتے رہ گئے وہ مسکرا کر چل دئے

نیز

چلو دم دار چلو چاند کے پار چلو

دم سے ملا کے دم پیار کیجئے کوئی سہانا اقرار کیجئے ….

چرا لیا ہے تم نے جو دم کو، نظر نہیں چرانا صنم ….

کتے کو وفاداری کی بھی سب سے بڑی علامت مانا جاتا ہے۔ اور عجیب بات یہ ہے کہ کتا ہمیشہ دوسروں کے ساتھ ہی وفا داری نبھاتا ہے جہاں تک اپنی ذات اور نسل کا تعلق ہے تو وہ اپنی اولاد اور ان کی والدہ تک کا وفادار نہیں ہوتا۔ وہ بے چارے تکلیف میں بھوکوں مرتے ہیں اور یہ کم بخت یہاں وہاں منھ مارتا پھرتا ہے۔ پھر والدہ ماجدہ کی آبرو اور نیت بھی کسی ایک جگہ ٹک کر نہیں رہتی جدھر جی میں آیا دل بہلانے پہنچ جاتی ہے۔

لیکن انسان کے ساتھ کتے کی وفاداری خود انسان کو بھی حیران کر دیتی ہے۔ دونوں کی دوستی وفاداری اور ہمدردی کی ایسی ایسی محیر العقول و دل دوز داستانوں سے کتابیں بھری پڑی ہیں کہ پڑھیں اور سنیں تو آنکھیں بھر آئیں خود راقم کا بھی ایک ایسے شریف النفس کتے سے واسطہ پڑ چکا ہے کہ آج بھی اس کی یاد آتی تو دل کو دکھا جاتی ہے لیکن وہ قصہ پھر کبھی اس وقت تو یہ عرض کرنا مقصود ہے کہ اس قدر دیرینہ و نزدیکی مفاہمت و دوستی کے باوجود کتا بے چارہ آج تک انسان کے لئے ایک گالی بنا ہوا ہے۔ ایک طرف وہ وفاداری کا نمونہ ہے تو دوسری طرف ذلت کی علامت بھی ہے۔ کوئی انسان کسی کتے سے کتنی بھی محبت کیوں نہ رکھتا ہو، اس کی کتنی ہی ناز برداری کیوں نہ کرتا ہو ذرا آپ اسے کتے کا بچہ کہہ کر دیکھئے۔ وہ آپ کا سر توڑ دے گا۔ یہاں تک کہ یہ بات آپ سے پیارسے بھی کہیں یا کتے کا بچہ کہنے کی اولاد، کتے کا بیٹا یا کتے کا فرزند، بلکہ کتے کا فرزند ارجمند ہی کیوں نہ کہہ دیں تب بھی اس کا رد عمل تقریباً یہی ہو گا۔

پتہ نہیں خود کتا بھی انسان کو اپنے لئے گالی سمجھتا ہے یا نہیں۔ یہ راز جاننے کے لئے ایک دن میں نے ایک پڑوسی کے کتے کا دل ٹٹولنے کی کوشش کی تھی میں نے اس کے قریب جا کر کہا: ابے او کتے کی اولاد!

سنتے ہی وہ دم ہلانے لگا جس سے ظاہر ہو گیا کہ کم از کم اپنی نسل پر اسے کوئی اعتراض یا شک و شبہ نہیں ہے۔ اب انسان کے بارے میں اس کی رائے جاننا تھی۔ چنانچہ دم ہلا کر نزدیک آتے ہوئے کتے سے اس بار میں نے کہا: ’’ابے او انسان کے بچے !‘‘

اس نے بھونک بھونک کر آسمان سرپر اٹھایا!

 

نصرت ظہیر

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • خدا کو اک طرف
  • سرِ شام
  • یہ لوگ کسی سے بھی رعایت نہیں کرتے
  • زباں نہ بول سکی جو، مرا قلم فرمائے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
یہ جو ٹینشن ہے، دشمن ہے ہمارا
پچھلی پوسٹ
کبھی خوشی کبھی غم

متعلقہ پوسٹس

اِدھر اُدھر میں نہیں

نومبر 11, 2025

بن کے رستہ آرزو میں رہ گئے

نومبر 27, 2021

تمہاری ذات کا پہلے گماں کوئی نہیں تھا

جولائی 20, 2021

فائو جی کیمرا

مارچ 26, 2023

تسبیح فاطمہ ( رضی اللہ تعالیٰ عنہا)

جون 4, 2024

پنہاں سے درد سے

جون 27, 2025

مس مالا

دسمبر 6, 2019

جعلی خبروں کی روک تھام کیسے ؟

دسمبر 19, 2025

میں تیرے ساتھ چل نہیں سکتا

مئی 14, 2020

افتخار شاہد کی غزل کا فکری و فنی تجزیہ

مارچ 12, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ایک بےسود خواہش

جون 8, 2024

اُس نگر گئے تم بھی

مئی 20, 2020

کچھ چیزیں مجھ سے باتیں کرتی...

دسمبر 10, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں