2
کوئی چراغ ہیں، چاہو جو آزمانا ہمیں
طلوعِ شام سے پہلے نہیں جلانا ہمیں
جنونِ شوق کا درکار ہے فسانہ ہمیں
میانِ دشت ہے رستہ کوئی بنانا ہمیں
پڑے ہوئے تھے حصارِشبِ سیاہ میں ہم
سکھا دیا کسی جگنو نے جگمگانا ہمیں
رہے خیال کہ نوبت نہ آئے روٹھنے کی
رہے یہ دھیان کہ آتا نہیں منانا ہمیں
رخِ ہوا کے مخالف پتنگ اڑاتے ہیں
سمجھ رہی تھی یہ دنیا بہت سیانا ہمیں
تمھاری فکر سے آزاد ہو نہ پائیں کبھی
تم ایسا کرنا کہ ہرگز سمجھ نہ آنا ہمیں
تو کیا نہیں کسی تعبیر پر ہمارا حق
حصارِ خواب میں رکھتا ہے کیوں زمانہ ہمیں
کچھ انقلاب محبت کے دم سے آتے ہیں
سنوار دے ترا اندازِ دلبرانہ ہمیں
شکستگی کا فسانہ رقم ہے چہرے پر
تم آئنہ ہو، حقیقت نہیں بتانا ہمیں
ہمارا شعر نہ پرکھو ہنر کسوٹی پر
ملی فصیح طبیعت ہے شاعرانہ ہمیں
شاہین فصیح ربانی
