خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرآبِ حیات (محمد حسین آزاد)
اردو تحاریرتحقیق و تنقیدمحمد حسین آزادمقالات و مضامین

آبِ حیات (محمد حسین آزاد)

از سائیٹ ایڈمن مارچ 23, 2026
از سائیٹ ایڈمن مارچ 23, 2026 0 تبصرے 48 مناظر
49

بقول احسن فاروقی
محمد حسین آزاد نے اُردو تنقید نگاری کی بنیاد رکھی ٹیڑھی مگر پھر بھی کیا کم ہے کہ انہوں نے بنیاد رکھی تو۔

اردو ادب میں تذکرے معاصر شعراءکے کلام کو پرکھنے کی اولین معروضی کوشش ہیں۔ بعض اوقات تذکرہ نگاروں کے تعصبات ان کی فیصلو ں پر اثراانداز ہوتے ہیں اور اکثر جگہوں پر تذکرہ عربی و فارسی تنقید کی توسیع دکھائی دیتی ہے اردو میں مغربی تنقید کے اثرات قبول کرنے کا آغاز تحریکِ سرسید سے منسلک ہے۔ اور اس سلسلے میں مولانا حالی کی تصنیف کو عام طور پر جدید تنقید کا نقطہ آغاز قرار دیا جاتا ہے۔ کیونکہ اس کتاب میں مغربی تنقید کے حوالے جا بجا ملتے ہیں۔ مگر جدید اردو تنقید کے آغاز کا سہرا حالی کے بجائے آزاد کے سر ہے۔ جس کے ہاں پہلی بار اردو تنقید کے سلسلے میں مغرب سے متاثر ہونے کے شواہد ملتے ہیں ۔اس کے علاوہ محمد حسین آزاد قدیم اور جدید تنقید کے سنگم پر دکھائی دیتے ہیں۔ آزاد نے تنقیدی نظریات پر کوئی باقاعدہ کتاب نہیں چھوڑی لیکن اس کے تنقیدی خیالات آبِ حیات ، نیرنگ خیال ، سخندانِ فارس جیسی کتابوں میں بکھرے پڑے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے مختلف لیکچرز میں تنقید پر بالخصوص بات کی انہوں نے اپنی تنقیدی خیالات کا اظہار سب سے پہلے 15 اگست 1867ءمیں انجمنِ پنجاب کے مشاعرے میں اپنے ایک لیکچر بعنوان ”مشاعرے اور کلام ِ موزوں کے باب میں خیالات“ میں پیش کئے۔

آب حیات:۔
چونکہ ”آب حیات “ نے تذکروں کے پس منظر میں وجود پایا اس لئے ضروری ہے کہ قدیم تذکروں میں تنقیدی رویوں کا جائزہ لیاجائے قدیم تذکروں میں اول تو تنقید کا عنصر کم تھا۔ بعض تذکروں میں محض شاعر کا کلام پیش کیا جاتا اگر کسی تذکرہ نگار کا جی چاہتا تو اس پر مزید جملوں میں تنقید کرتا اور اس تنقید میں شاعرکی زبان اور اسلوب کا جائزہ لیا جاتا۔ پرانے تذکروں میں جو ہمیں تھوڑی بہت تنقید ملتی ہے وہ محض ذوقی یا وجدانی ہے۔aab e hayat آب حیات میں ہمیں جو تنقید ملتی ہے وہ روایتی ہے ۔ اس میں قدیم تذکروں کا لہجہ صاف طور پر نظر آتا ہے۔ آزاد کسی شاعر کی خصوصیات کا تجزیہ کرکے اس کے مماس کی کی وضاحت نہیں کرتا۔ بلکہ تاثراتی طریقے سے وضاحت کرتا ہے۔ آب حیات ایک ایسی کتاب ِ ضروری ہے جس نے اردو ادب کی ایک بہت بڑی کمی پورا کیا۔ اب تک اردو میں شعراءکیباقاعدہ تاریخ وار تذکرہ مرتب نہیں ہوا تھا۔ پرانے انداز کے تذکرے تو بہت تھے لےکن اکثر نا تمام اور ناقص کوئی عہدوار تاریخ موجود نہ تھی۔
اب ایک ایسی کتاب کی ضرورت تھی جس میں شعراءکے متعلق زیادہ سے زیادہ معلومات فراہم کئی گئی ہوں جدید انداز میں تنقید بھی ہو اور تحقیق پر مبنی سیر حاصل اور مستند حالات بھی ہوں یہ کمی آب حیات نے پوری کردی ۔ آب حیات محض شاعری کی تاریخ نہیں بلکہ توانا متحرک اور زندگی سے لبریز دستاویز بھی ہے۔ جو عہدِ ماضی کو ازسرنو زندہ کرکے ہمارے آنکھوں کے سامنے لاکھڑا کرتی ہے۔ آب حیات پرانی محبتوں اور وفاداریوں کی لافانی یادگار ہے۔ آزاد نے خود محسوس کیا کہ قدیم تذکرے عہد جدید کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے موزوں نہیں ہے اور اس سلسلے میں وہ خود لکھتے ہیں۔
” مجھ پرواجب تھا کہ جو حالات ان بزرگوں کے معلوم ہیں یا متفرق تذکروں میں متفرق مزکور ہیں انھیں جمع کرکے ایک جگہ لکھوں اور جہاں تک ممکن ہواس طرح لکھوں کہ ان کی زندگی کی بولتی چلتی پھرتی تصویریں سامنے آن کھڑی ہوں اور انھےں حیاتِ جاودانی حاصل ہو۔“
فہرست مضامین:۔
آب ِ حیات میں سب سے پہلے ”لسانیات“ کے زمرے میں اردو زبان کے ماخذ پر توجہ دی گئی پھر عہد بہ عہد شعراءکا تذکرہ ملتا ہے۔ اس طرح ان کے مطالب کی فہرست یوں ہے۔ دیباچے میں اردو زبان کی تاریخ پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ دراصل یہ غلطی ہمارے آج کے ناقدین بھی کرتے ہیں کہ تاریخ ادب مرتب کرتے وقت تاریخ زبان لکھنا شروع کر دیتے ہیں تاریخ ادب اورچیز ہے اور لسانی تاریخ اور چیز ۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر احسن فاروقی اپنی کتاب ”اردو تنقید“ میں آزاد پر پہلا اعتراض یہی کرتے ہیں کہ وہ اردو شعراءکی تاریخ مرتب کر رہے تھے نہ کہ اردو زبان کی تاریخ ۔
بہر طور آزاد نے زبان کے سلسلے میں جن نظریات کا اعتبار کیا وہ بھی کم اہمیت کے حامل نہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اردو زبان برج بھاشا سے نکلی ہے برج بھاشا پر فارسی نے اثر کیااور یہ زبان وجود میں آئی۔ اس کے علاوہ دو قوموں کے ملنے سے زبانوں میں کیا تبدیلیاں آتی ہیں اس کا تفصیلاً جائزہ لیا گیا ہے۔
نظم اردو کے عنوان سے مختلف ادوار کی تقسیم کی گئی ہے۔ اور ہر دور کے شاعر کو تاریخی لحاظ سے جگہ دی گئی ہے۔
پہلا دور۔
تمہید۔ولی۔ شاہِ آبرو۔مضمون۔ ناجی ۔ احسن۔ یکرنگ۔ قدما ءکے اوضاع و لباس
دوسرا دور۔
تمہید۔شاہ حاتم۔خان آرزو۔ فغاں
تیسرا دور۔
تمہید۔مرزا جانِ جاناں مظہر۔ تاباں ۔ سید انشاء(ملاقات)۔سودا۔خواجہ میر درد۔میر سوز۔ میر تقی میر
چوتھا دور۔
تمہید۔جرات ۔ سید انشاء۔ مصحفی
پانچواں دور۔
تمہید ۔ ناسخ۔ آتش۔ شاہ نصیر۔ ذوق۔ غالب ۔ مومن۔ دبیر ۔ انیس
ابتدائی اشاعت کے بعد آزاد نے اس تفصیل میں مزید اضافے کئے۔ بالخصوص مومن اور غالب کے بارے میں بہت زیادہ معلومات پیش کیں۔ مومن کو آزاد نے ابتدائی فہرست میں شامل نہیں کیا تھا۔ محمد حسین آزاد خود شیعہ مسلک سے تھے اس لئے ان پر اعتراضات کی بوچھاڑ ہوئی کہ انہوں نے مومن کوجو سُنی مسلک سے تعلق رکھتے تھے کے سلسلے میں تعصب برتا۔ آزاد نے مومن کی کمی دوسرے ایڈیشن مطبوعہ 1883ءمیں پوری کردی۔ اولین اشاعت میں انہیں شامل نہ کرنے کہ وجہ یہ بتائی کہ وہ اس عہد کے شعراءمیں موزوں نہ تھے۔ اس کے علاوہ مومن کے متعلق مواد بروقت دستیاب نہ تھا۔ وجہ چاہے جو بھی ہو اس کی جو وجہ آزاد پر اعتراض کرنے والوں نے بتائی ہرگز نہیں ہو سکتی کیونکہ آزاد نے اپنی دوسری کتاب ”شہرت ِ عام اور بقائے دوام “ میں مومن کو جرات اور ناسخ کے دوش بدوش جگہ دی ہے۔
آب حیات تذکروں سے آگے:۔
آب حیات سے پہلے تذکرے اپنے عہد کے اندر کھڑے تھے جبکہ آب حیات ، متعدد زمانوں پر محیط ہے اور بڑے ڈرامائی اور تمثیلی انداز میں بدلتے ہوئے ادبی منظر نامے کی عکاسی کرتی ہے۔ کلیم الدین احمد نے آب حیات کو تذکر ہ کہہ کر محض چونکانے کی کوشش کی ہے حقیقت یہ ہے کہ آبِ حیات تاریخی تنقید کا ایک نمونہ ہے چونکہ آزاد کے عہد میں تنقید کا تاریخی پہلو مغربی ادب میں بھی رائج تھا اس لئے یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ حالی کے مقابلے میں آزاد مغربی تنقید کی تاریخی جہت سے زیاد ہ واقفیت رکھتے تھے۔
کتاب کا پہلا حصہ جس میں اردو زبان کی نشونما اور بتدریج ِ ارتقاءکا ذکر ہے نہایت عالمانہ ہے۔ آزاد پہلے شخص تھے جنہوں نے اس میدان میں قدم رکھا اس کے باوجود کہ اس کے پاس مواد کم تھا ۔ اس مہم میں اس کو کامیابی حاصل ہوئی ۔ لسانیات کے بارے میں معلومات انگریزی کتابوں سے حاصل کی گئی ہیں۔ اور جو مثالیں درج کی گئی ہیں وہ آزاد کی ذہنی دریافت ہیں۔ اور ان کے اردو اور ہندی مطالعے کا پتہ دیتی ہیں۔ برج بھاشا کے افکار ذخیرہ الفاظ اور گرامر پر فارسی کا جائزہ بھی قابلِ غور ہے۔ یہاں وہ ایک محقق کے روپ میں سامنے آتے ہیں ۔ کتاب کے دوسرے حصے میں ان کے تنقید میں بھی ان کا انداز وہی ہے۔ جو تحقیق میں نظرآتا ہے۔
آب حیات کے تنقید ی مباحث:۔
انہوں نے شعراءکے بارے میں جو رائے دی ہے وہ نہایت پر مغز ہے اور بعد کی تنقید پر ان کا اثر دیکھا جا سکتا ہے ۔ وہ کبھی کبھی جذبات کے رو میں بہہ جاتے ہیں۔ ” جیسا کہ ذوق کے سلسلے میں ، لیکن ایک بار جب سنجیدہ تنقید پر کمر بستہ ہو جاتے ہے تو اپنی ساری بذلہ سنجی اور لطیفہ گوئی بھو ل جاتے ہیں اور سنجیدگی سے ادبی اقدار کے فہم و شعور کا ثبوت دیتے ہیں۔ مثلاً تشبیہ ، استعارہ ، فصاحت و بلاغت اور مضمون وغیرہ کے بارے میں آزاد شاعروں پر تنقید کرتے ہوئے تحقیق کے عادی نہیں بلکہ اپنے ذوق اور پسند کو معیار بنا کر چند جملوں میں اپنی رائے دیتے ہیں مثلاً میر تقی میر کی شاعری کے بارے میں ان کی یہ رائے ہے۔
’ ’ میر صاحب کی زبان شستہ ، کلام صاف، بیان ایسا پاکیزہ جیسے باتیں کرتے ہیں دل کے خیالات کو جو کہ سب کے طبیعتوں کے مطابق ہیں محاورے کا رنگ دیگر باتوں باتوں میں اد ا کر جاتے ہیں۔ اور زبان میں خدا نے ایسی تاثیر دی کہ وہی باتیں ایک مضمون بن جاتی ہیں۔“
اس طرح ذوق کے بابت لکھتے ہیں۔
”کام کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ ستارے آسمان سے اتارے ہیں مگر لفظوں کی ترکیب سے انھیں ایسی شان و شکوہ کی کرسیوں پر بٹھائے اس کے پہلے سے بھی اونچے نظر آتے ہیں انھیں قادر کلامی کے دربار سے ملک سخن پر حکومت مل گئی ہے ہر قسم کے خیال کو جس رنگ میں چاہتے ہیں کہہ جاتے ہیں۔“
ان تصاویر میں محض تاثراتی رائے۔ جانبداری اور مبالغہ آرائی ہے اورلفظکا بے دریغ استعمال کیا گیاہے ۔ اس لئے ڈاکٹر احسن فاروقی ان کے بارے میں لکھتے ہیں۔
” تنقید میں آزاد نے لفظوں کے طوطے بنا بناکراُڑائے ہیں۔“
اعتراضات:۔
آزاد کو ان کی تنقیدی آراءمیں اتنے اعتراضات کا سامنا نہیں رہا جتنا کہ تنقید میں انشاءپردازی پرلے د ے ہوئی ۔ دراصل آزاد کی تنقید کو ان کی انشاءپردازی نے سخت نقصان پہنچایا۔ تنقیدی اسلوب سیدھے سادھے مدلل اسلوب کا متقاضی ہوتا ہے۔ جبکہ آزاد کے ہاں رنگینی بیاں اولین اہمیت رکھتی ہے ۔ وہ بات سے بات پیدا کرتے ہیں جس سے تنقید میں تجزیے کی طرف سے ان کی توجہ ہٹ جاتی ہے وہ انداز کو زیادہ بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کی تنقید لفظی ہو کر رہ جاتی ہے۔ تاثراتی تنقید کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس میں کسی شاعر کی انفرادیت کے خدوخال نمایاں ہونے کے بجائے نقاد کی شخصیت کی انفرادیت کے خدوخال نمایاں ہونے لگتے ہیں۔ بالکل یہی بات آبِ حیات کے بارے میں کہی جا سکتی ہے آزاد کی انشاءپردازی نے ان کی شخصیت کو ہر جگہ منفرد بنا ڈالا ہے۔ لیکن شاعروں کی شخصیت کو مٹا دیا ہے۔ اس طرح ان کی تنقید میں ہر جگہ آزاد کے مزاج کا عکس ہے۔ اسلوب کے بارے میں اکثر کہا جاتا ہے کہ آزاد کی طرح طرز اڑانا محال ہے یہی وجہ ہے کہ آج تک ان کا مقلد نظر نہیں آتا یہ بات صرف آزاد پر صادق نہیں آتی بلکہ اس کا اطلاق ہر صاحب ِطرز پر ہوتا ہے کسی ادیب کے طرز تحریر کی ظاہری خصوصیات کا چربہ اتار لینا کچھ مشکل نہیں لیکن اس کے باطنی جوہر تک رسائی دشوار ہے اسلوب کا بعض اوقات تخلیق کار کی غیر معمولی صلاحیتوں سے تعلق ہوتا ہے۔ اور اس لحاظ سے آزاد کی خوبی تحریر کا راز ان کی غیر معمولی صلاحیتوں اور تخیل کی شادابی و بوقلمونی میں پوشیدہ ہے۔ ان کی انشاءپردازی ایسے بلیغ انسان کی انشاءپردازی ہے ۔ جو نہایت اعلیٰ تخیل کا مالک ہے ۔ ان کا نثر ی اسلوب بھر پورتخیل سے مزین ہے۔ وہ جیسے چاہیں سادہ ، پرکار، پر شکوہ ، پر جوش یا محاکاتی عبارت لکھ سکتے ہیں۔ او ربسا اوقات خوبی و رعنائی کے غیر معمولی مقامات تک پہنچ جاتے ہیں ۔ تصویر حقیقی ہو یا خیالی شاعرانہ نوک جھونک دلچسپ حکایات اور لطائف ظرائف کو پیش کرنے میں ان کا کوئی ثانی نہیں اس کے مقابلے دوسرے امور پر انھیں وہ قدرت حاصل نہیں جس کا تقاضہ تنقید کرتی ہے۔ نقشہ کھینچنے یا واقعہ بیان کرنے میں آزاد خاص مہارت رکھتے ہیں۔ یہاں ا ن کا قلم جادو کی چھڑی کا کام کرتا ہے۔ واقعہ نگاری میں آزاد کی کامیابی کئی باتوں پر منحصر ہے ان میں نمایاں ان کا ڈرمائی انداز ہے ۔ وہ کوئی ماجرہ بیان کرنے یا حلیہ کھینچنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے بلکہ براہ راست اپنے کردار کو اسٹیج پر لے آتے ہیں تاکہ وہ الفاظ کے ذریعے اپنا پاٹ ادا کر سکے۔
آزاد کی ایک اہم خصوصیت برجستہ لطائف و حکایات کا بیان ہے۔ یہ لطائف و حکایات آب حیات کی روح ہیں آزاد واقعے کو ذوق و شوق سے چٹخارے لے لے کر بیان کرتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے آزاد کوئی کہانی نہیں بیان کر رہے ہیں بلکہ حقیقی روداد پیش کر رہے ہیں۔ ان تمام خوبیوں سے بڑھ کر ان کی اہم خصوصیت نفسیاتی حقیقت آرائی ہے۔ انسانی طبیعت سے گہری واقفیت نے انھیں بیان میں واقفیت پیدا کرنے میں مدد دی ہے۔ ان کی تاریخ نگاری ماضی کی ازسرنو بازیافت ہے وہ ماضی میں کچھ اس طرح سفر کرتے ہیں کہ خود کو قدما سے یک جان کرتے ہیں اور انہی کے خیالات و احساسات کی ترجمانی کرتے ہیں آب حیات جو شعراءکی تاریخ ہے۔ اس میں وہ شاعروں کے حالات و کلام پر بات کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں انوکھے انداز میں سامنے لانے کا باعث بنتے ہیں۔ ناقدین کا یہ کہنا درست ہے کہ آزاد کا اسلوب تنقید کے لئے موزوں نہیں لیکن اسلوب کی مندرجہ بالا خصوصیا ت کی وجہ سے وہ قدیم تذکرہ نگاروں سے آگے نکل جاتے ہیں۔
متن:۔
متن کے حوالے سے آب حیات پر ناقدین کا اہم اعتراض مومن کواس تذکرے میں جگہ نہ دینے پر ہے آزاد کو بعض نامعلوم وجوہ کی بناءپر مومن کو آب حیات میں جگہ دینے کو تیار نہیں زبان خلق سے بچنے کے لئے طبع ثانی میں ان کو جگہ دی ۔ خلش اور ناپسندیدگی کے باوجود بھی یہ بات قابل ِذکر ہے کہ آزاد نے مومن کا تذکرہ بڑے سلیقے سے کیا ہے۔ اور مومن کی غزلوں پر بڑی متوازن رائے دی ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں۔
” غزلوں میں ا ن کے خیالات نہایت نازک اور مضامین عالی ہیں اور استعارہ تشبیہ نے بھی اعلی درجے پر پہنچایا ہے اور ان میں معاملاتِ عاشقانہ مزے سے بیان کئے گئے ہیں۔“
عذر و معذرت کے باوجود آزاد نے ایک حقیقی فنکار کی طرح مومن کا تذکرہ ایسے سلیقے سے مرتب کیا کہ ان کی تصویر آب حیات میں اہم و دلکش اضافہ بن گئی ہے۔ اسطرح آزاد ذوق پسند تھے اور ذوق کی شاگردی کا اعزاز بھی انہیں حاصل تھا۔ غالب او رذوق کی چپقلش بھی مشہور ہے لیکن اس کے باوجود آزاد نے غالب کا تذکرہ بڑی محنت اور عرق ریزی سے مرتب کیا اور ان کے خاندانی حالات جمع کرنے کے لئے ان کے قریبی احباب سے ستفادہ کیا۔
ان کی انشاءپردازی نے اپنا کمال دکھاتے ہوئے غالب کی شخصیت کے نمایاں خدوخال کو سامنے لایا۔یہاں آزاد کے اسلوب میں زندگی کا جوش و خروش ہے آزاد کے بیا ن میں اثر پذیری اور دلکشی کا ثبوت یہ ہے کہ آزادکے بیانات کو حالی نے کمی بیشی کے ساتھ یادگارِغالب میں جگہ دی۔ درحقیقت آزاد کو اپنے مخصوص اسلوب اور انشاءپر دازی کے بدولت ہی یہ مقام حاصل ہے۔ ان کی تخلیقات زیادہ پائیدار ہیں کیونکہ وہ ہمارے تخیل اور ذوق کے لئے باعث کشش ہیں۔ انھوں نے ماضی کے واقعات ، حالات اور شخصیات کو اسطرح پیش کیا کہ وہ واقعی ہماری آنکھوں کے سامنے زندہ ہیں اس لئے جو باتیں آزاد کو آج جاذب توجہ بناتی ہیں کل بھی ان کو جاذب توجہ بنائیں گی۔اس کے علاوہ آبِ حیات نہ صرف تاثراتی بلکہ حقیقی تنقید کا بھی نمونہ ہے جہاں یہ قدیم شعراءکی عہد وار دستاویزہے وہاں دلچسپ حالات و واقعات کا مجموعہ بھی ہے آب حیات میں آزاد کا تخیل بیانیہ قوت سے بھرپور نظر آتا ہے۔
حرف آخر:
رومانیت ایک اعتبار سے وہ کشش ہے جو دوری سے پیدا ہوتی ہے۔ خواہ یہ فاصلے زمانی ہوں یا مکانی آزاد بھی ماضی پر رومان کا رنگ چڑھاتے ہیں۔ وہ زمانی مکانی حیثیت سے دور کی چیزوں کے ساتھ بھی اتنا ہی لگائو رکھتے ہیں۔ اس لئے ہم دیکھتے ہیں کہ ماضی کا ذکر ان کے تخیل کو مہمیز کر دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ادبی اقدار کا تصور آزاد کے ذوق و شوق اور تخیل کی بلند پروازی میں توازن پیدا کر دیتا ہے۔ لہٰذا جب کوئی شاعر واقعی تعریف کا مستحق ہو تو وہ اس کی بڑھ چڑھ کر مدح کرتے ہیں۔ اور ساتھ ہی قدیم شاعروں کی خامیوں پر کڑی مگر مختصر تنقید بھی کرتے ہیں۔ وہ قدیم اردو شاعری کے نہایت بالغ نظر نقاد ہیں۔ ان کی رائے میں ادب اور تہذیب میں گہرا تعلق ہے اس لئے وہ اردو شاعری کے پر تصنع ہونے پر افسوس کرتے ہیں۔ لیکن اس با ت پر زور نہیں دیتے کہ اردو شاعری اپنے عہد کی کمزوریوں سے کیوں آزاد نہ ہو سکی انھوں نے اردو شاعری اس کے موضوعات ، اسلوب بیاں اور زبان و بیان کے متعلق وہی باتیں کہی ہیں جو اس کے سخت سے سخت نقاد کہہ سکتے ہیں۔ لیکن ان کا لب و لہجہ درست نہیں ۔ وہ اپنی ادا کی بنیاد حقائق پر رکھتے ہیں اور یہ بات انھیں بعض جدید نقادوں سے منفرد بنا دیتی ہے۔

بشکریہ
غبارِ خاطر
وہاب اعجاز خان کا بلاگ

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • مندمل کردو ہر اک گھاؤ، پیام عید ہے
  • فوبھا بائی
  • معدہ (طب نبویﷺ کی روشنی میں)
  • اوپر نیچے درمیان
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
کلام نبویؐ کی کرنیں
پچھلی پوسٹ
خاموشی کا شور

متعلقہ پوسٹس

رہبرِ اختران

دسمبر 29, 2024

25دسمبر: یومِ قائد ِاعظم

دسمبر 25, 2022

بلوچستان کی آزمائش

اکتوبر 10, 2025

کراچی کیلئے تخریبی پیکیجز

اکتوبر 23, 2022

زندگی! تجھے کیا چاہیے؟

اپریل 21, 2026

مکھی

فروری 7, 2020

بیٹی، ماں اور نانی

اکتوبر 16, 2023

سلطان مظفر کا واقعہ نویس

جون 15, 2020

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے فضائل ومناقب

جولائی 12, 2023

دورِ حاضر اور ایمانِ مسلم

جولائی 4, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

جنگ کے جنون سے بیزار ہیں...

فروری 22, 2020

فیوڈل فینٹسی

دسمبر 16, 2019

جنسی ہراسمنٹ پر گالیاں، تھپڑ اور...

نومبر 11, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں