578
خود اپنے دل میں خراشیں اتارنا ہوں گی
ابھی تو جاگ کے راتیں گزارنا ہوں گی
ترے لیے مجھے ہنس ہنس کے بولنا ہوگا
مرے لیے تجھے زلفیں سنوارنا ہوں گی
تری صدا سے تجھی کو تراشنا ہوگا
ہوا کی چاپ سے شکلیں ابھارنا ہوں گی
ابھی تو تیری طبیعت کو جیتنے کے لیے
دل و نگاہ کی شرطیں بھی ہارنا ہوں گی
ترے وصال کی خواہش کے تیز رنگوں سے
ترے فراق کی صبحیں نکھارنا ہوں گی
یہ شاعری یہ کتابیں یہ آیتیں دل کی
نشانیاں یہ سبھی تجھ پہ وارنا ہوں گی
محسن نقوی
