خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباانسدادِموروثی سیاست اور مہنگائی کا خاتمہ !
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

انسدادِموروثی سیاست اور مہنگائی کا خاتمہ !

از سائیٹ ایڈمن ستمبر 29, 2021
از سائیٹ ایڈمن ستمبر 29, 2021 0 تبصرے 64 مناظر
65

انتخابات میں حصہ لینے والوں اور خصوصی طور پر کامیاب ہونے والوں پر یہ شرط لازمی لاگو ہونی چاہئے کہ وہ کسی بھی قسم کے کاروبار نہیں کرینگے یا اسوقت تک کسی کاروبار کا حصہ نہیں بنیں گے جب تک وہ بطور عوامی نمائدے ایوان میں موجود رہینگے اور اگر کسی بھی قسم کی ایسی سرگرمی (اپنے کسی تعلق دارکو آسانی فراہم کرنا ) میں ملوث پائے گئے تو بھاری جرمانے کیساتھ انکی رکنیت بھی منسوخ ہونی چاہیے اور اسکا اطلاق بھرپور طریقے سے ہونا چاہیے اور لازمی قرار پانا چاہئے کہ اس امر کا چرچا ہر ایوان بالا و زیریں کے ہر چھوٹے بڑے اجلاس سے قبل تلاوت کلام پاک کے بعد لازمی قرار دیا جانا چاہئے ۔

ہمارے ملک میں انتخابات کی تیاری پورے سال چلتی رہتی ہے کوئی کسی کی صحتیابی کیلئے دعا کرتا ہے اور کوئی کسی کی اس فانی دنیا سے جلد رخصت کیلئے اس کے حق میں نا صحیح پر اپنی دانست میں بد دعا دیتا ہے اس طرح سے کہیں دعاءوں اور کہیں بد دعاءوں کا اہتمام ہوتا رہتا ہے اور کہیں ان دعاءو ں اور بدعاءوں کیلئے عملی کام بھی سرانجام دئیے جاتے رہتے ہیں ، دعاءوں کیساتھ منتیں اور چڑھاوے مانے جاتے ہیں جبکہ بدعاءوں کی کامیابی کیلئے کبھی ذاتی دشمنی کی صورت میں سامنے آتے ہیں اور تو کبھی ڈکیتی پر مزاحمت کی بھینٹ چڑھائے جاتے ہیں ۔ دنیا میں مختلف پیشوں سے وابستہ لوگ سیاست میں حصہ لیتے ہیں جبکہ ہمارے ملک پاکستان میں سیاست کوباقاعدہ ایک پیشے کی حیثیت حاصل ہے اور اس سے وابستہ ہوکر مختلف کاروبار کئے جاتے ہیں ، آپ کسی بھی نوکری کے حصول کی طرح کسی طرح سے کسی ایسی جماعت کا پتہ لگا لیں جو آنے والے انتخابات میں منتخب ہونے کی صلاحیت رکھتی ہو اور پھر اسکا حصہ بن جائیں ۔ یہ بھی جان لیں کہ سیاست میں آنا اور اسے بطور پیشہ بنانا یہ ملک خداداد پاکستان میں ہی ممکن ہے یہ ہم سب جانتے ہیں کہ جس طرح سے خاندانی کاروبار ہوتا ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتا چلا جاتا ہے اورخوب پھلتا پھولتا رہتا ہے بلکل اسی طرح سے موروثی سیاست بطور کاروبار پاکستان میں نسل در نسل چلتی رہتی ہے ۔ فرق اتنا ہوتا ہے کہ عملی کاروبار کی کوئی حد نہیں ہوتی شہر شہر ملکوں ملکوں گھومتا رہتا ہے اور خوب پھلتا پھولتا رہتاہے ۔ جبکہ سیاست میں علاقے پر چھاجانے کا تصور عملی سمجھا جاتا ہے ۔

موروثی سیاست کی اعلی ترین مثال ہمارے ملک کی دو بڑی جماعتوں میں خاص طور پر نا صرف نمایاں ہیں بلکہ وہ بے دریغ اس بات کا چرچا کرتے بھی دیکھائی دیتے ہیں ۔ ابھی کل کی ہی بات ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر محترمہ مریم صفدر صاحبہ فرما رہی تھیں کہ اس بات پر کوئی اختلاف نہیں کہ ہمارے خاندان کے اور ہماری جماعت کے سربراہ نواز شریف صاحب ہیں ۔ حقیقت میں تو یہ انتہائی شرمندگی کا مقام ہونا چاہئے تھا کہ بھلا یہ کیا جمہوریت ہوئی کہ پوری سیاسی جماعت میں کوئی سیاسی بصیرت رکھنے والا نہیں کہ چند مخصوص افراد وہ بھی خاندان والے ہی کسی ذمہ داری کے اہل قرار پاتے ہیں ۔ موروثی سیاست کی تاریخ کا تانا بانا بادشاہی نظام سے جا ملتا ہے جہاں بادشاہ سلامت کی بات حرف آخر سمجھی جاتی ہے اور تخت پر نسل در نسل قبضہ جمع رہتا ہے ۔ نا کوئی رائے عامہ ہوتی ہے ، ناہی کسی قسم کی اختلاف رائے کو جگہ دستیاب ہوتی ہے اور ناہی کوئی دینی احکامات کی پاسداری ۔ تاریخ میں ایک بہت بڑا سانحہ اس موروثی سیاست کی مرہون منت رقم ہوا ہے جہاں اقدار کی خاطر عظیم ہستیوں کی زندگیاں چھیننے سے بھی گریز نہیں کیا گیا ۔

اب بھلا محلوں میں رہنے والوں کو دال روٹی سے کیا لینا دینا اور ان کے داموں سے تو انکا بطور کاروبار تعلق تو ہوسکتا ہے لیکن خرید و فروخت سے قطعی کوئی تعلق نہیں ہوتا ، انہیں دودھ کے بڑھتے ہوئے نرخوں کا یا تو سماجی ابلاغ یا دیگر ابلاغ یا پھر کسی ملازم سے پتہ چلتا ہے اور اسی طرح سے دیگر اشیاء خرد و نوش اور روز مرہ کے استعمال کی اشیاء کے بارے میں معلومات کا علم اسی طرح سے ہوتا ہے بصورت دیگر انکا بلواسطہ تو کوئی واسطہ پڑتا ہی نہیں ۔ سب کچھ سرکاری خرچے سے سرکاری لوگوں کی مدد سے میسر ہوجاتا ہے ۔ اگر ہماری بات سے اختلاف کرنے والے یہ کہنے کیلئے تیار ہیں کہ وہ اپنے گھر کا سامان خود لاتے ہیں تو اب وقت اور حالات تبدیل ہوچکے ہیں اب کاروبار کو بغیر منظر عام پر لائے بھی وسعت دی جاسکتی ہے مختلف ادارے اس کام کیلئے بر سر عمل موجود ہیں ۔ جن میں مقامی سطح پر دراز اور دیگر کیساتھ بین الاقوامی سطح پر ایمزون ہیں ۔

بہت ممکن ہو کہ قارئین کو اس بات سے اختلا ف کریں کہ بھلا موروثی سیاست کا مہنگائی سے کیا تعلق ہوسکتا ہے، جیسا کہ درجہ بالا سطور میں یہ واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ موروثی سیاست کس طرح سے ملکی معیشت پر قابض ہونے کی اہلیت رکھتی ۔ موروثی سیاست میں پورے کا پورا خاندان ملوث ہوتے رہے ہیں ، عمومی مثال کے طور پر پچھلے دور ِ حکومت کے اعلی سطح کے ایک بین الاقوامی دورے میں شامل وفد میں اکثریت صاحب اقتدار کے اہلِ و عیال کی تھی اور تقریباً کاروباری معاہدے ان ہی سے طے پائے ۔ اب یہ بات واضح ہو جانی چاہئے کہ جب کاروبار کرنے والے لوگ خود ہی اشیاء کی قیمت فروخت طے کرینگے تو بھلا ادارے کس طرح سے اپنی اہمیت کو اجاگر کر سکینگے ۔ ہمارے ملک میں اداروں کی نا اہلی کے پیچھے بھی دیکھا جائے تو اسی موروثی سیاست کا ہاتھ دیکھائی دے گا، واضح ہے کہ جب ارباب اختیار بدعنوانی اور بد اخلاقی کے مرتکب ہونگے تو بھلا انکے ماتحت ادارے کس طرح سے انکے خلاف کام کرینگے (بد اخلاقی ابھی تازہ ایک ویڈیو کے حوالے سے استعمال کیا ہے ) ۔ بد عنوانی ہی حقیت میں ملک میں مہنگائی کی اصل وجہ ہے ۔ ٹیکس چوری کرنے والے اس چوری کیلئے ادارے کے افراد کو اس سے کہیں زیادہ رشوت دینے کیلئے تیار رہتے ہیں لیکن ملک کے خزانے میں حلال طریقے سے ٹیکس جمع کرانے کیلئے تیار نہیں ہوتے ۔ یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ منظر عام پر مہنگائی کا رونے والوں کی صحت پر کسی بھی قسم کا کوئی فرق نہیں پڑتا کے کون سی شے کتنے کی مل رہی ہے ۔ یہ وہی مہنگائی کا راگ آلاپنے والے لوگ ہیں جن کے اپنے دورِ حکومت میں بھی اسی طرح سے مہنگائی کا رونا گانا لگا رہا ہے اور یہ اپنے اقتدار کے مزے میں مگن اقتدار کے مزوں کے ساتھ ساتھ عوام کی خون پسینے کی کمائی بھی لوٹتے رہے ہیں ۔

حکومت اگر ہر اشیاء خوردونوش پر سرکاری امداد (سبسڈی)دے تو مصنوعی طور پر انسداد مہنگائی ممکن ہوسکتی ہے لیکن یہ بھی جان لیجئے کہ یہ سب عارضی ہوگا اور اس کی وجہ سے غیر ملکی قرضوں میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا ۔ بہترین عمل یہ ہوسکتا ہے کہ اداروں میں استحکام لانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے ، قابلیت اور اہلیت کو ہر قسم کے طے شدہ (کوٹہ) نظام سے ہٹ کر ملک کے مفاد کیلئے تقرریاں کی جائیں ، چھوٹی سے چھوٹی بدعنوانی کی سزا اعلانیہ طور پر نافذ کی جائیں ، بہترین اور مخلص افراد کی تلاش کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو ان افراد پر مشتمل ہو جو ملک و قوم کیلئے اپنی خدمات پیش کرنا چاہتے ہوں ، تعلیمی نظام کو ہنگامی بنیادوں پر تعلیم کی بہتری کیلئے حکمت عملیاں ترتیب دینے کیلئے کہا جائے، اداروں کی خود مختاری کو یقینی بنایا جائے اور اسطرح کے ہر ممکن کارہائے نمایاں انجام دئیے جائیں ۔ یہ چند ایسی گزارشات ہیں جنہیں دوست کسی دیوانے کا خواب کہہ کر ٹالتے رہے ہیں لیکن موجودہ حکومت ایسے اقدامات پر یقین رکھتی ہے اور اللہ کے حکم سے بہت جلد مہنگائی ،موروثی سیاست کے ساتھ اسی سرزمین میں
دفن ہوجائےگی ۔

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • اتنے چاہت بھرے غصے سے لڑا کرتا تھا
  • خیر اندیشی کرتے کرتے بے ایمانی آ جائے گی
  • عروج و زوال
  • عطار کے مسکن میں یہ کیسی اداسی ہے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
کرونا بوسٹر
پچھلی پوسٹ
معاصر اُردو غزل میں شاہد ذکی کی تازہ کاری

متعلقہ پوسٹس

سولڈ آوٹ چھابا

دسمبر 10, 2019

اسکرین کے پیچھے چھپا ہوا انسان

اپریل 17, 2026

آواز لگانے کا سبب کچھ بھی نہیں ہے

نومبر 8, 2025

ہے خبر گرم

دسمبر 6, 2019

کمہارن

دسمبر 31, 2021

ہماری غلامی اور اقبال کی تنبیہ

مارچ 30, 2025

نرم دل ایک نعمت

ستمبر 6, 2020

صحرائے بے نوا سے یہ آیا مجھے پیام

اکتوبر 26, 2025

سفید رات کو دن کی دھڑک سمجھتے ہیں

جنوری 11, 2020

کہیں گے تم سے نہ دوستوں کو خبر کریں گے

دسمبر 6, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

باعثِ اضطراب دیکھتے ہیں

اکتوبر 16, 2025

دشت و جنوں کا سلسلہ میرے...

مئی 23, 2020

باہر کا دروازہ بھی ہم درد...

مارچ 11, 2022
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں