خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباچلو اب مل کے ہجروحَبس کا موسم بدلتے ہیں
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزحیات عبداللہ

چلو اب مل کے ہجروحَبس کا موسم بدلتے ہیں

ایک اردو کالم از حیات عبد اللہ

از سائیٹ ایڈمن فروری 26, 2020
از سائیٹ ایڈمن فروری 26, 2020 0 تبصرے 505 مناظر
506

چلو اب مل کے ہجروحَبس کا موسم بدلتے ہیں

بہاروں، بادلوں اور بارشوں سے وابستہ یادیں نہایت سہانی ہوتی ہیں، گل و گل زار سے پیوستہ باتیں، خوشبوؤں، رنگوں اور اجالوں سے منسلک لمحات انسان کا دل موہ لیتے ہیں، اس لیے کہ فطرت کا قرب انسان کو جچتا اور سجتا ہے۔فطرت سے ہم آہنگی اسلامی اقدار کا بھی خاصّہ ہے سو اسلام اور فطرت کی دودھیا کرنوں میں نہائے ہوئے انسان جس قدر بھی فہم اور تدبّر سے کام لیتے ہیں ان کے لیے شگفتہ اور تابندہ کردارو عمل کی راہیں واضح اور ہموار ہوتی چلی جاتی ہیں۔فطرت اور قدرت کی متضاد سمتوں میں چوکڑیاں بھرتے انسان ٹھوکریں اور ٹھڈّے کھا کر گرتے ہی چلے جاتے ہیں۔کوّا ہنس کی چال چلا تھا تو اپنی چال ڈھال بھی فراموش کر بیٹھا تھا مگر یہاں تو معاملہ ہی الٹ ہے۔ احساسِ کمتری میں مبتلا ہنس، کوّوں کی چال چلنے پر بہ ضد ہیں اور اپنی وجیہ اور جاذبِ نظر چال کو فراموش کرتے جا رہے ہیں۔انسانی مزاج، رویّے اور معاشرت سے عین مماثلت اور مطابقت رکھنے والے اسلام نے نہ صرف عورتوں کے حقوق خوب اچھی طرح بتلا دیے ہیں بلکہ مسلم و غیر مسلم سے لے کر حیوانات اور حشرات الارض تک کے ساتھ حُسنِ سلوک کی بھی خوب اچھی طرح وضاحت کر دی ہے۔حقوق کا مطلب مادرپدر آزادی اور بے راہ روی ہرگز نہیں ہے۔المیہ یہ ہے کہ یہاں اپنے فرائض سے روگردانی کو حقوق کا نام دیا جاتا ہے۔حقوق کا تعلق تو محبتوں سے ہوتا ہے، جتنی گہری محبتیں ہوں گی اتنے ہی حقوق تکمیل کی راہوں پر کھلتے چلے جائیں گے۔
اپنی شریکِ حیات کے ساتھ محبتوں بھرا یہ انداز تو کسی اور مذہب میں موجود ہی نہیں جو اللہ نے قرآنِ پاک میں بیان فرمایا ہے۔ مسلمان عورتیں اور مرد قرآنِ مقدّس کی اس آیت پر جتنا بھی فخر کریں، کم ہے کہ ایسی دھنک رنگ محبتیں تو کسی اور مذہب کے پیروکاروں کے حصّے میں نہیں آئیں۔ سورۃ البقرہ آیت نمبر 187 میں اللہ ربّ العزت فرماتے ہیں کہ ”وہ (تمھاری عورتیں) تمھارا لباس ہیں اور تم اُن کا لباس ہو“ اس آیت میں لباس کی تشبیہ پر جتنا بھی غور کرتے جائیں گے نئی نئی محبتوں کے نئے نئے رنگ آپ کے دلوں میں بکھرتے جائیں گے۔لباس انسان کی زیب و زینت ہے، یہ شخصیت میں وقار اور نکھار پیدا کرتا ہے، لباس انسان کی بہت ساری خامیوں کو ڈھانپ لیتا ہے۔ حقوق نسواں کے لیے اضطراب میں مبتلا عورتیں خوش ہو جائیں کہ جامع ترمذی حدیث 1162 کے مطابق نبیﷺ نے سب سے کامل ایمان کی علامت یہی بتلائی ہے کہ وہ اپنی عورتوں کے ساتھ حسنِ سلوک روا رکھتا ہے، تحفّظ نسواں کے لیے جتنے کامل و اکمل احساسات نبیﷺ کے دل مبارک میں تھے دنیا کا کوئی نام نہاد عورتوں کے حقوق کا عَلم بردار اس کا عشرعشیر بھی نہیں رکھتا۔ نبیﷺ نے عورتوں کو آبگینوں سے تشبیہ دی، عورتوں کو کانچ کی طرح نازک اندام بیان فرمایا۔ صحیح بخاری حدیث 6149 میں ہے کہ ایک مرتبہ سفر میں اونٹ چلانے والے اونٹ کو تیزی سے ہانکنے لگے، اونٹ پر ازواج مطہرات سوار تھیں، آپﷺ نے اپنے غلام انجشہؓ کو فوراً فرمایا ”افسوس انجشہؓ! آبگینوں (عورتوں) کو آہستگی سے لے کر چل“ اپنی بیویوں کی اتنی خفیف سی تکلیف بھی نبیﷺ کو گوارا نہ ہوئی اور اپنے غلام کو تنبیہ فرما دی۔ یہی نہیں بلکہ قیامت تک کے لیے تمام شوہروں کو نصیحت فرمائی کہ ”کوئی مسلمان شوہر اپنی مسلمان بیوی سے نفرت نہ کرے اگر اسے اس کی ایک عادت پسند نہیں تو دوسری عادتیں پسند ہوں گی“ اور مسلمان بیٹیاں بھی خوش ہو جائیں کہ جب سیدہ فاطمہؓ، نبیﷺ کو ملنے آتیں تو نبیﷺ کھڑے ہو کر ان سے ملتے۔ اکثر و بیشتر خاوند اور بیویوں کے درمیان منافرتوں کا آغاز ”انا“ سے ہوتا ہے جب دونوں جانب انا کی سنگلاخ دیواریں کھڑی ہو جاتی ہیں تو پھر تماشے شروع ہو جاتے ہیں۔
انا جب بے تحاشا ہو
تو پھر کیوں نہ تماشا ہو
خاوند کو اپنے خاوند ہونے کا زعم ہوتا ہے اور بیوی کو اپنی قربانیاں رہ رہ کر یاد آتی ہیں اور یوں انا کو بھیانک انگیخت ملتی ہے اور جدائیوں کے لمحات طویل تر ہوتے چلے جاتے ہیں۔اگر وہ اپنی اصلاح نہ کریں توپھر وہ ایک دوسرے کے بغیر جینے کا ڈھنگ سیکھ لیتے ہیں۔
کوہِ انا کی برف تھے، دونوں جمے رہے
جذبوں کی تیز دھوپ سے پگھلا نہ تُو نہ میں
عورت نرم ونازک ہے، عورت کا دل کانچ کی مانند ہوتا ہے اور عورت قربانیوں کی عظیم مثالیں قائم کرتی ہے۔ ان تمام باتوں کے باوجود اللہ نے گھر اور خاندان کا سربراہ مرد کو بنایا ہے۔ سورۃ النساء کی آیت 34 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ”مرد، عورتوں پر حاکم ہیں اس بنا پر کہ اللہ نے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے اور اس بنا پر کہ مرد اپنا مال عورتوں پر خرچ کرتے ہیں“ حقوق نسواں کا قطعاً یہ مقصد نہیں کہ عورت اور خاوند کی ازدواجی زندگی کے تلخ و شیریں لمحات کی کوئی تیسرا فریق نگرانی کرے۔عورتوں کے حقوق کے لیے آئین سازی کی نہیں، قرآن و سنّت پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ جو بھی مرد تشدّد کی راہیں اختیار کرتا ہے اس کو آسمانی آئین کے مطابق سزا دی جائے، جو اللہ نے نازل فرمایا ہے۔تحفّظِ نسواں کا رٹّا لگانے والے لوگوں نے سب سے زیادہ عورتوں کا استحصال بالجبر کیا ہے۔اگر یہ لوگ حقوقِ نسواں کے معاملے میں مخلص ہوتے تو سورۃ النساء کا مطالعہ کرتے۔یہ چوکوں اور چوراہوں پر عورتوں کے متعلق قرآنی آیات اور احادیث آویزاں کرتے، یہ میڈیا پر اہل علم و دانش سے عورتوں کے حقوق کے ساتھ ساتھ ان کی بنیادی ذمہ داریوں اور فرائض کے متعلق بھی لیکچرز کا اہتمام کرتے۔حقوق نسواں کی تکمیل کے لیے اس قدر بے ترتیب ہونے کی تو چنداں ضرورت نہیں کہ اعتدال کی حدود کو بُری طرح روند دیا جائے۔چراغوں سے گریز پائی، اجالوں اور روشنیوں سے روگردانی اور فطری موسموں سے بے رخی اور بے اعتنائی، نحیف و نزار اور بیمار بصیرتوں کی غمازی کرتی ہے۔میرا مطلوب ہرگز یہ نہیں ہے کہ عورتوں پر تشدّد کرنے والوں کے لیے کوئی گنجایش پیدا کی جائے، میرا مطلوب یہ بھی نہیں ہے کہ ”آٹا گوندھتی ہلتی کیوں ہے؟“ کی بنیاد پر عورتوں کو کرب اور اذیت کے لمحات میں مبتلا کر دیا جائے۔ عورتیں تو دل کش پھولوں اور دل رُبا آبگینوں کی طرح ہوتی ہے، ان کے ٹوٹنے اور بکھرنے کا ہر طرح خیال رکھا جائے لیکن نبیﷺ کے فرمودات لوگوں کے دلوں میں اتار کر، جب قرآن اور نبیﷺ کے فرمان دلوں میں اتریں گے تو پھر خاوند اور بیوی کی محبتیں زبردستی کی نہیں ہوں گی وہ دونوں سچے دل کے ساتھ ایک دوسرے کا ہاتھ، ہاتھوں میں لے کر کہیں گے۔
چلو اب مل کے ہجروحَبس کا موسم بدلتے ہیں
ذرا سا تم بدل جاؤ، ذرا سا ہم بدلتے ہیں

(حیات عبداللہ)

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • دریا کو کناروں میں سمٹ جانے کا دکھ ہے
  • گزارش
  • معصوم تمنا
  • کسی بھی کام سے پہلے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ہسپتال کے چوکھٹے اور قبرستان کی تصویریں
پچھلی پوسٹ
طرح طرح کے نظاروں میں دل نہیں لگتا

متعلقہ پوسٹس

یوگا – جسم اور ذہن کے سکون کا سفر

اگست 29, 2025

فلک پہ لے گا نہ مُجھ کو

نومبر 13, 2025

نفسیات شناس

مئی 12, 2015

نظروں کی گفتگو کہیں تحریر تو نہیں

مارچ 12, 2020

اُردو غزل کی فنی و فکر ی معراج!

اگست 22, 2022

جو سایوں کی وادی میں چلے

نومبر 3, 2019

چند لمحوں کے زرد پتے

مئی 10, 2025

ہلکی دھڑکنیں

دسمبر 3, 2024

سخن جو خود سے کِیا تیرے رُو برو کرتے

جون 13, 2020

اپنی صحبت میں دن گزرتا ہے

مئی 14, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • سوچتے رہو، جیتے رہو

    مارچ 18, 2026
  • بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

    مارچ 17, 2026
  • اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

    مارچ 17, 2026
  • ماورا ہے سوچوں سے

    مارچ 17, 2026
  • گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں

    مارچ 17, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

استخارہ

مارچ 15, 2026

مختصر سیرتِ رسولﷺ

مارچ 10, 2026

لیلۃ القدر – ایک رات اور پوری زندگی

مارچ 9, 2026

صدقۂ فطر کی حکمت و اہمیت

مارچ 9, 2026

اعتکاف احکام اور آداب

مارچ 9, 2026

اردو شاعری

بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

مارچ 17, 2026

ماورا ہے سوچوں سے

مارچ 17, 2026

گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد...

مارچ 17, 2026

نشے میں ہم ہیں مگر

مارچ 17, 2026

یہ مرے گھر کے تین چار درخت

مارچ 17, 2026

اردو افسانے

عید کا ادھورا وعدہ اور لفظوں کا مصور

مارچ 17, 2026

دہلیز کا آخری وعدہ

مارچ 9, 2026

آدھی عورت آدھا خواب

جنوری 14, 2026

طوائف کون؟

جنوری 14, 2026

لمس

جنوری 12, 2026

اردو کالمز

سوچتے رہو، جیتے رہو

مارچ 18, 2026

اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

مارچ 17, 2026

میڈیا کا اثر اور ہماری سوچ تحریر

مارچ 17, 2026

کردار، کردار نگاری اور تخلیقیت

مارچ 16, 2026

امن بورڈ یا امن سے اکتاہٹ؟

مارچ 16, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • سوچتے رہو، جیتے رہو

    مارچ 18, 2026
  • بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

    مارچ 17, 2026
  • اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

    مارچ 17, 2026
  • ماورا ہے سوچوں سے

    مارچ 17, 2026
  • گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں

    مارچ 17, 2026
  • نشے میں ہم ہیں مگر

    مارچ 17, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

صبر , گریہ , نہ یوں...

فروری 9, 2020

روگ پلتا رہا

نومبر 14, 2021

تیغِ شکستہ، تیرِ خمیدہ سے جنگ...

نومبر 26, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں