خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباچلو اب مل کے ہجروحَبس کا موسم بدلتے ہیں
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزحیات عبداللہ

چلو اب مل کے ہجروحَبس کا موسم بدلتے ہیں

ایک اردو کالم از حیات عبد اللہ

از سائیٹ ایڈمن فروری 26, 2020
از سائیٹ ایڈمن فروری 26, 2020 0 تبصرے 572 مناظر
573

چلو اب مل کے ہجروحَبس کا موسم بدلتے ہیں

بہاروں، بادلوں اور بارشوں سے وابستہ یادیں نہایت سہانی ہوتی ہیں، گل و گل زار سے پیوستہ باتیں، خوشبوؤں، رنگوں اور اجالوں سے منسلک لمحات انسان کا دل موہ لیتے ہیں، اس لیے کہ فطرت کا قرب انسان کو جچتا اور سجتا ہے۔فطرت سے ہم آہنگی اسلامی اقدار کا بھی خاصّہ ہے سو اسلام اور فطرت کی دودھیا کرنوں میں نہائے ہوئے انسان جس قدر بھی فہم اور تدبّر سے کام لیتے ہیں ان کے لیے شگفتہ اور تابندہ کردارو عمل کی راہیں واضح اور ہموار ہوتی چلی جاتی ہیں۔فطرت اور قدرت کی متضاد سمتوں میں چوکڑیاں بھرتے انسان ٹھوکریں اور ٹھڈّے کھا کر گرتے ہی چلے جاتے ہیں۔کوّا ہنس کی چال چلا تھا تو اپنی چال ڈھال بھی فراموش کر بیٹھا تھا مگر یہاں تو معاملہ ہی الٹ ہے۔ احساسِ کمتری میں مبتلا ہنس، کوّوں کی چال چلنے پر بہ ضد ہیں اور اپنی وجیہ اور جاذبِ نظر چال کو فراموش کرتے جا رہے ہیں۔انسانی مزاج، رویّے اور معاشرت سے عین مماثلت اور مطابقت رکھنے والے اسلام نے نہ صرف عورتوں کے حقوق خوب اچھی طرح بتلا دیے ہیں بلکہ مسلم و غیر مسلم سے لے کر حیوانات اور حشرات الارض تک کے ساتھ حُسنِ سلوک کی بھی خوب اچھی طرح وضاحت کر دی ہے۔حقوق کا مطلب مادرپدر آزادی اور بے راہ روی ہرگز نہیں ہے۔المیہ یہ ہے کہ یہاں اپنے فرائض سے روگردانی کو حقوق کا نام دیا جاتا ہے۔حقوق کا تعلق تو محبتوں سے ہوتا ہے، جتنی گہری محبتیں ہوں گی اتنے ہی حقوق تکمیل کی راہوں پر کھلتے چلے جائیں گے۔
اپنی شریکِ حیات کے ساتھ محبتوں بھرا یہ انداز تو کسی اور مذہب میں موجود ہی نہیں جو اللہ نے قرآنِ پاک میں بیان فرمایا ہے۔ مسلمان عورتیں اور مرد قرآنِ مقدّس کی اس آیت پر جتنا بھی فخر کریں، کم ہے کہ ایسی دھنک رنگ محبتیں تو کسی اور مذہب کے پیروکاروں کے حصّے میں نہیں آئیں۔ سورۃ البقرہ آیت نمبر 187 میں اللہ ربّ العزت فرماتے ہیں کہ ”وہ (تمھاری عورتیں) تمھارا لباس ہیں اور تم اُن کا لباس ہو“ اس آیت میں لباس کی تشبیہ پر جتنا بھی غور کرتے جائیں گے نئی نئی محبتوں کے نئے نئے رنگ آپ کے دلوں میں بکھرتے جائیں گے۔لباس انسان کی زیب و زینت ہے، یہ شخصیت میں وقار اور نکھار پیدا کرتا ہے، لباس انسان کی بہت ساری خامیوں کو ڈھانپ لیتا ہے۔ حقوق نسواں کے لیے اضطراب میں مبتلا عورتیں خوش ہو جائیں کہ جامع ترمذی حدیث 1162 کے مطابق نبیﷺ نے سب سے کامل ایمان کی علامت یہی بتلائی ہے کہ وہ اپنی عورتوں کے ساتھ حسنِ سلوک روا رکھتا ہے، تحفّظ نسواں کے لیے جتنے کامل و اکمل احساسات نبیﷺ کے دل مبارک میں تھے دنیا کا کوئی نام نہاد عورتوں کے حقوق کا عَلم بردار اس کا عشرعشیر بھی نہیں رکھتا۔ نبیﷺ نے عورتوں کو آبگینوں سے تشبیہ دی، عورتوں کو کانچ کی طرح نازک اندام بیان فرمایا۔ صحیح بخاری حدیث 6149 میں ہے کہ ایک مرتبہ سفر میں اونٹ چلانے والے اونٹ کو تیزی سے ہانکنے لگے، اونٹ پر ازواج مطہرات سوار تھیں، آپﷺ نے اپنے غلام انجشہؓ کو فوراً فرمایا ”افسوس انجشہؓ! آبگینوں (عورتوں) کو آہستگی سے لے کر چل“ اپنی بیویوں کی اتنی خفیف سی تکلیف بھی نبیﷺ کو گوارا نہ ہوئی اور اپنے غلام کو تنبیہ فرما دی۔ یہی نہیں بلکہ قیامت تک کے لیے تمام شوہروں کو نصیحت فرمائی کہ ”کوئی مسلمان شوہر اپنی مسلمان بیوی سے نفرت نہ کرے اگر اسے اس کی ایک عادت پسند نہیں تو دوسری عادتیں پسند ہوں گی“ اور مسلمان بیٹیاں بھی خوش ہو جائیں کہ جب سیدہ فاطمہؓ، نبیﷺ کو ملنے آتیں تو نبیﷺ کھڑے ہو کر ان سے ملتے۔ اکثر و بیشتر خاوند اور بیویوں کے درمیان منافرتوں کا آغاز ”انا“ سے ہوتا ہے جب دونوں جانب انا کی سنگلاخ دیواریں کھڑی ہو جاتی ہیں تو پھر تماشے شروع ہو جاتے ہیں۔
انا جب بے تحاشا ہو
تو پھر کیوں نہ تماشا ہو
خاوند کو اپنے خاوند ہونے کا زعم ہوتا ہے اور بیوی کو اپنی قربانیاں رہ رہ کر یاد آتی ہیں اور یوں انا کو بھیانک انگیخت ملتی ہے اور جدائیوں کے لمحات طویل تر ہوتے چلے جاتے ہیں۔اگر وہ اپنی اصلاح نہ کریں توپھر وہ ایک دوسرے کے بغیر جینے کا ڈھنگ سیکھ لیتے ہیں۔
کوہِ انا کی برف تھے، دونوں جمے رہے
جذبوں کی تیز دھوپ سے پگھلا نہ تُو نہ میں
عورت نرم ونازک ہے، عورت کا دل کانچ کی مانند ہوتا ہے اور عورت قربانیوں کی عظیم مثالیں قائم کرتی ہے۔ ان تمام باتوں کے باوجود اللہ نے گھر اور خاندان کا سربراہ مرد کو بنایا ہے۔ سورۃ النساء کی آیت 34 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ”مرد، عورتوں پر حاکم ہیں اس بنا پر کہ اللہ نے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے اور اس بنا پر کہ مرد اپنا مال عورتوں پر خرچ کرتے ہیں“ حقوق نسواں کا قطعاً یہ مقصد نہیں کہ عورت اور خاوند کی ازدواجی زندگی کے تلخ و شیریں لمحات کی کوئی تیسرا فریق نگرانی کرے۔عورتوں کے حقوق کے لیے آئین سازی کی نہیں، قرآن و سنّت پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ جو بھی مرد تشدّد کی راہیں اختیار کرتا ہے اس کو آسمانی آئین کے مطابق سزا دی جائے، جو اللہ نے نازل فرمایا ہے۔تحفّظِ نسواں کا رٹّا لگانے والے لوگوں نے سب سے زیادہ عورتوں کا استحصال بالجبر کیا ہے۔اگر یہ لوگ حقوقِ نسواں کے معاملے میں مخلص ہوتے تو سورۃ النساء کا مطالعہ کرتے۔یہ چوکوں اور چوراہوں پر عورتوں کے متعلق قرآنی آیات اور احادیث آویزاں کرتے، یہ میڈیا پر اہل علم و دانش سے عورتوں کے حقوق کے ساتھ ساتھ ان کی بنیادی ذمہ داریوں اور فرائض کے متعلق بھی لیکچرز کا اہتمام کرتے۔حقوق نسواں کی تکمیل کے لیے اس قدر بے ترتیب ہونے کی تو چنداں ضرورت نہیں کہ اعتدال کی حدود کو بُری طرح روند دیا جائے۔چراغوں سے گریز پائی، اجالوں اور روشنیوں سے روگردانی اور فطری موسموں سے بے رخی اور بے اعتنائی، نحیف و نزار اور بیمار بصیرتوں کی غمازی کرتی ہے۔میرا مطلوب ہرگز یہ نہیں ہے کہ عورتوں پر تشدّد کرنے والوں کے لیے کوئی گنجایش پیدا کی جائے، میرا مطلوب یہ بھی نہیں ہے کہ ”آٹا گوندھتی ہلتی کیوں ہے؟“ کی بنیاد پر عورتوں کو کرب اور اذیت کے لمحات میں مبتلا کر دیا جائے۔ عورتیں تو دل کش پھولوں اور دل رُبا آبگینوں کی طرح ہوتی ہے، ان کے ٹوٹنے اور بکھرنے کا ہر طرح خیال رکھا جائے لیکن نبیﷺ کے فرمودات لوگوں کے دلوں میں اتار کر، جب قرآن اور نبیﷺ کے فرمان دلوں میں اتریں گے تو پھر خاوند اور بیوی کی محبتیں زبردستی کی نہیں ہوں گی وہ دونوں سچے دل کے ساتھ ایک دوسرے کا ہاتھ، ہاتھوں میں لے کر کہیں گے۔
چلو اب مل کے ہجروحَبس کا موسم بدلتے ہیں
ذرا سا تم بدل جاؤ، ذرا سا ہم بدلتے ہیں

(حیات عبداللہ)

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • عشق کے آخری امکان سے باہر ہو جا
  • بات نکلی تو پھر دور تک جاٸےگی
  • پس موت کا امکاں ہے کرونا کے سبب سے
  • خواہش 
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ہسپتال کے چوکھٹے اور قبرستان کی تصویریں
پچھلی پوسٹ
طرح طرح کے نظاروں میں دل نہیں لگتا

متعلقہ پوسٹس

کیا مصنوعی ذہانت انسان کی آخری ایجاد ہو سکتی ہے؟

مارچ 10, 2026

ترقی کا ابلیسی ناچ

نومبر 14, 2021

زمین پر نہ رہے آسماں کو چھوڑ دیا

مئی 28, 2024

شہ نشین پر

فروری 8, 2020

نیلی ساڑھی

جنوری 22, 2020

بڑی مشکل سے اُٹھ کر جا رہا ہوں

جنوری 19, 2020

ارے صاحب

فروری 21, 2021

میر واہ کی راتیں 

فروری 17, 2020

ادویات،کمیشن اور ضمیر کا سود

اگست 15, 2025

وہ آنکھ جس کو گہر کی تلاش رہتی ہے

دسمبر 15, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

جب مری ماں مجھے

مئی 18, 2025

سوداگری

نومبر 9, 2025

مغرور تھا بہت ، اسے مجبور...

جنوری 28, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں