384
نظروں کی گفتگو کہیں تحریر تو نہیں
وعدہ تمھارے پاؤں کی زنجیر تو نہیں
تیری ہر ایک بات میں سو رنگ ہیں مگر
میرے کسی بھی خواب کی تعبیر تو نہیں
نظریں ملا کے کس طرح میں گفتگو کروں
تم خود ہو میرے سامنے تصویر تو نہیں
تیری یہ ضد ہے ساتھ گزاریں گے زندگی
اے دوست میرے ہاتھ میں تقدیر تو نہیں
اقرارِ جرم ہی سہی اعلانِ عاشقی
لیکن کسی کو چاہنا تقصیر تو نہیں
سجدے میں گر کے بس تجھے مانگا ہے بار بار
گرچہ مری دعاؤں میں تاثیر تو نہیں
ہر پل بس ایک شخص کے بارے میں سوچنا
واعظ تری نگاہ میں تکفیر تو نہیں؟
منزّہ سیّد
