130
چند لمحوں کے زرد پتے
سرد شاموں میں جگمگاتے
اداس شاموں کے متقاضی
ہواوں سے اپنا دکھ سناتے
یہ پیلے موتی کہکشاں ہیں
خزاں میں ایسے چمکتے ہیں
جیسے جگنو یا بوند بارش
دھنک کے رنگوں سے رنگ چرا کہ
ایک نیا رنگ بھرتے ہیں
یہ چند لمحوں کی زندگی میں
سرد موسم سے الجھتے ہیں
چند لمحوں کے زرد پتے!
یہ مضمحل ہیں یہ منتشر ہیں
کوئی تو ان کا اضطراب سمجھے
کوئی تو بکھرنےکا درد سمجھے
چند لمحوں کہ زرد پتے۔۔۔!
سرد شاموں میں جگمگاتے
رباب ملک
