خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےسنترپنچ
اردو افسانےاردو تحاریرسعادت حسن منٹو

سنترپنچ

اردو افسانہ از سعادت حسن منٹو

از سائیٹ ایڈمن فروری 4, 2020
از سائیٹ ایڈمن فروری 4, 2020 0 تبصرے 334 مناظر
335

سنترپنچ

میں لاہور کے ایک اسٹوڈیو میں ملازم ہوا۔ جس کا مالک میرا بمبئی کا دوست تھا۔ اس نے میرا استقبال کیا۔ میں اس کی گاڑی میں اسٹوڈیو پہنچا تھا ٗ بغل گیر ہونے کے بعد اس نے اپنی شرافت بھری مونچھوں کو جو غالباً کئی دنوں سے ناتراشیدہ تھیں۔ تھرکاکر کہا:

’’کیوں خواجہ ! چھوڑ دی۔ ‘‘

میں نے جواب دیا۔

’’چھوڑنی پڑی۔ ‘‘

اسٹوڈیو کا مالک جو اچھا فلم ڈائریکٹر بھی ہے ( میں اسے سہولت کی خاطر گیلانی کہوں گا) مجھے اپنے خاص کمرے میں لے گیا۔ ادھر ادھر کی بے شمار باتیں کرنے کے بعد اس نے چائے منگوائی جو نہایت ذلیل تھی ٗ زبردستی پلائی۔ کئی سگریٹ اس دوران خود پھونکے اور مجھ سے پھنکوائے۔ مجھے ایک ضروری کام سے جانا تھا۔ چنانچہ میں نے اس سے کہا۔

’’یار ٗ چھوڑو اب چائے کی بکواس کو۔ مجھے یہ بتاؤ کہ تم نے آج اتنے برسوں کے بعد کیسے یاد کر لیا‘‘

’’بس ایک دن اچانک یاد آگئے۔ بُلالیا۔ بتاؤ اب صحت کیسی ہے۔ ‘‘

’’تمہاری دعا سے ٹھیک ہے۔ ‘‘

میرے لہجے میں دوستانہ طنز تھا۔ وہ ہنسا۔

’’واہ ٗ میرے مولوی صاحب۔ میرا خیال ہے کہ جب سے تم خشک خشک ہوئے ہو۔ تمہاری ہر وقت شگفتہ رہنے والی طبیعت ٹھہرے پانی کی طرح ٹھہر گئی ہے۔ ‘‘

’’ہو گا ایسا ہی۔ ‘‘

’’ہو گا کیا۔ ہے ہی ایسا معاملہ۔ لیکن خدا نہ کرے ٗ ایسی ذہانت جس کے سب معترف ہیں۔ اس کا بھی یہی حشر ہو۔ کیا تم اب بھی فلم کہانی کا ڈھانچہ تیار کر سکتے ہو۔ فرسٹ کلاس کہانی۔ ‘‘

میں نے اس سے کہا:

’’فرسٹ ٗ سیکنڈٗ انٹر اور تھرڈ میں نہیں جانتا۔ البتہ کہانی ضرور ہو گی۔ تم سوچتے ہو فرسٹ کی کہانی وہ اسکرین پر آتے ہی تھرڈ نہ بن جائے۔ یا تھرڈ جس کو تم نے ڈبوں میں بند کر کے گودام میں رکھ چھوڑا تھا۔ وہ گولڈن جوبلی فلم ثابت ہو۔ کیا درست نہیں۔ خیر اِن باتوں کو چھوڑو تم یہ بتاؤ کہ چاہتے کیا ہو۔ ‘‘

اس نے مجھے ایک سگریٹ سلگا کر دیا اور سنجیدگی سے کہا:

’’دیکھو منٹو۔ میں ایک کہانی چاہتا ہوں۔ بڑا دلچسپ رومان ہو اور تم مجھے اس کا مفصل اسکیچ ایک ہفتے کے اندر اندر دے دو۔ کیونکہ میں فلم ڈسٹری بیوٹر سے کنٹریکٹ کر چکا ہوں تم بتاؤ کتنی دیر میں لکھ لو گے۔ ‘‘

’’فراغت سے ایک مہینے کے بعد۔ ‘‘

سردیوں کا موسم تھا اس نے اپنے ہاتھ ایک دوسرے کے ساتھ بڑے زور کے ساتھ ملے۔ اس کے اس عمل سے دو چیزیں ظاہر ہوتی تھیں اول یہ کہ اس کے ہاتھ گرم ہو گئے ہیں۔ دوم یہ کہ اس کے سر کا بوجھ ہلکا ہو گیا ہے کہ اس کو کہانی وقت پر مل جائے گی اور وہ جو کہ میری طرح تیزی سے کام کرنے والا ہے ٗ اسے وقت مقررہ کے اندر اندر ڈائریکٹ کر کے اس کے پرنٹ ڈسٹری بیوٹر کے حوالے کر دے گا اور کنٹریکٹ کی رو سے جو بقایا رقم اس کے نام نکلتی تھی ٗ اسی وقت میز پر دھروالے گا۔ اس نے چند لمحات غور کیا۔

’’کل ہی کام شروع کر دے گا۔ ‘‘

میں نے جواب دیا:

’’کام تو میں شروع کر دوں۔ لیکن یہاں میرے لیے کوئی علیحدہ کمرہ ہونا چاہیے۔ ‘‘

’’ہو جائے گا۔ ‘‘

’’اور ایک اسسٹنٹ۔ ‘‘

’’مل جائے گا۔ تو کل سے آنا شروع کر دو گے۔ ‘‘

میں نے اس سے کہا:

’’دیکھو گیلانی۔ میرے گھر سے اور تمہارے اسٹوڈیو تک کا فاصلہ کافی ہے۔ تانگے میں آؤں تو قریب قریب ڈیڑھ گھنٹہ۔ بس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ‘‘

اس نے پوچھا

’’کیوں۔ ‘‘

’’یعنی اس کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ بس اسٹینڈ پر کھڑے رہو۔ خدا خدا کر کے پانچ نمبر کی بس آگئی۔ مسافروں سے بھری ہوئی اور وہ بغیر ٹھہرے چل دی اور تم خود کو دنیا کا کم ترین انسان محسوس کرتے ہو۔ جی میں آتا ہے کہ خودکشی کر لو۔ یا پھر دنیا والوں کی بے رخی سے نجات حاصل کرنے کے لیے سنیاس دھارلوں۔ ‘‘

گیلانی نے اپنی شرارت بھری مونچھیں تھرکائیں۔

’’میں شرط بدنے کیلیے تیار ہوں کہ تم کبھی دنیا تیاگ نہیں سکتے جس دنیا میں ہر قسم کی شراب ملتی ہے۔ اور خوبصورت عورتیں بھی۔ ‘‘

میں نے چڑ کر کہا:

’’عورتیں جائیں جہنم میں۔ تم اچھی طرح جانتے ہو کہ میں بمبئی کے ہر اسٹوڈیو میں ٗ جہاں میں نے کام کیا ٗ ان سے دور ہی رہا۔ ‘‘

’’تم تو خیر اپنے وقت کے ڈون جو آن Donjyan ہو۔ ‘‘

’’مذاق اُڑاتے ہو تم خواجہ میرا۔ ‘‘

میں نے سنجیدگی کے ساتھ اس سے کہا:

’’نہیں گیلانی ع یہ رُتبہ بلند ملا جس کو مل گیا۔ یایوں کہہ لو ایں سعادت بزور بازو نیست تا نہ بخشد خدائے بخشندہ گیلانی مسکرایا۔

’’خدائے بخشندہ تو بڑے عرصے سے تمہیں مرحوم و مغفور کر چکا ہے۔ تم بخشی ہوئی روح ہو۔ ‘‘

میں نے کہا:

’’اس سے کیا ہوتا ہے۔ میں اپنے گناہوں کی سزا بھگتنا چاہتا ہوں۔ ‘‘

’’فلسفہ مت بگھارو یار۔ یہ بتاؤ کیا ابھی تک تمہارے پاس وہ اردو ٹائپ رائٹر موجود ہے۔ ‘‘

’’اچھا تو یہ بتاؤ کہ وہ ایکٹریس جس سے تم نے کلکتہ میں شادی کی تھی ٗ ابھی تک تمہارے پاس موجود ہے۔ ‘‘

گیلانی نے فخریہ انداز میں جواب دیا:

’’موجود کیوں نہیں ہو گی۔ گویا تمہاری نظر میں ایکٹریس اور ٹائپ رائٹر میں کوئی فرق نہیں۔ ‘‘

میں نے اس سے کہا:

’’کیا فرق ہے۔ ایک فلم پر ٹائپ کرتی ہے۔ دوسری کاغذ پر۔ دونوں کسی وقت بھی بگڑ سکتی ہیں۔ ‘‘

گیلانی میری ان باتوں سے تنگ آگیا تھا۔ آخر میں نے اس کو دلاسا دیا۔

’’یار ٗ یہ سب مذاق تھا۔ تو میں کل آجاؤں۔ میرا مطلب ہے تم گاڑی بھیج دو گے؟‘‘

گیلانی صوفے پر سے اٹھا۔ اس کے ساتھ میں بھی۔ اس نے کہا:

’’ہاں۔ ہاں بھئی۔ کب چاہیے تمہیں گاڑی۔ ‘‘

’’کوئی وقت بھی مقرر کر لو۔ ساڑھے نو بجے صبح۔ ‘‘

’’ٹھیک ہے۔ ‘‘

’’تم کاغذ وغیرہ آج ہی منگوا لینا۔ تاکہ میں اسٹوڈیو پہنچتے ہی کام شروع کر دُوں۔ اور تم سے الٹا نہ سنوں کہ دیکھو تم نے مجھے لیٹ ڈاؤن دیا۔ میرا اتنے ہزار روپے کا نقصان ہو گیا ہے۔ ‘‘

گیلانی نے بڑے پیار سے کہا:

’’کیا بکتے ہو یار۔ میں تمہاری طبیعت سے کیا واقف نہیں۔ کبھی کبھی تم ڈبکی لگا جایا کرتے ہو۔ ‘‘

میں نے اُس کو یقین دلایا:

’’نہیں ایسا نہیں ہو گا۔ تم مطمئن رہو۔ ہاں میرا ٹائپ رائٹر یہاں محفوظ تو رہے گا؟‘‘

گیلانی کی عادت ہے کہ وہ ذرا ذرا سی بات پر چِڑ جاتا ہے۔

’’محفوظ نہیں رہے گا تو کیا غنڈے اغواہ کرنے آ جائیں گے۔ اپنے کسی عاشق کے ساتھ تمہاری مشین بھاگ نکلے گی۔ ‘‘

میں بہت ہنسا۔ ہنستے ہنساتے ہم دونوں نے اسٹوڈیو کا چکر لگایا۔ اس کے بعد اس نے مجھے الوداع کہی اور میں اسی گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہو گیا۔ جہاں پہنچتے ہی میں نے ٹائپ رائٹر کی جھاڑ پونچھ کی۔ اس لیے کہ ایک مدت سے میں نے اسے استعمال نہیں کیا تھا کیونکہ فلمی کہانی لکھنے کا اس دوران میں کوئی موقع ہی میسر نہ آیا۔ بِگڑا ہوا مکینک یا مستری آرٹسٹ بن جاتا ہے ٗ یہ میرا اپنا ذاتی اختراع کردہ محاورہ ہے۔ گیلانی شروع شروع میں مکینک تھا۔ بگڑ کر وہ آرٹسٹ بن گیا ٗ پر وہ محنتی تھا۔ جب وہ مستری تھا تو اسے زیادہ سہولتیں میسر نہیں تھیں لیکن جب کیمرہ قلی سے ترقی کرتا کرتا کیمرہ مین بن گیا تو اس نے کیمرے کے ہر پیچ کے متعلق اپنی خداداد ذہانت اور جستجو طلب طبیعت کی بدولت یہ دریافت کر لیا کہ ان کا لوہے کے اس چوکھٹے میں اپنی اپنی جگہ کیا مصرف ہے۔ کیمرے کو وہ الٹا کرتا۔ کبھی سیدھا۔ کبھی اس کا گیٹ کھول کر بیٹھ جاتا اور گھنٹوں اس سے اپنے مختلف سائز کے پیچ پُرزوں کے ذریعے بوس و کنار میں مشغول رہتا۔ فرصت کے اوقات۔ یعنی جب شوٹنگ نہیں ہوتی تھی۔ وہ اپنی سائیکل پر شہر پہنچتا اور سارا دن کباڑیوں کی دکانوں پر صرف کرتا۔ اس کو دنیا کے تمام کباڑیوں سے محبت ہے ٗ اور ان کے کباڑ خانوں کو وہ بڑی مقدس جگہیں تصوّر کرتا تھا۔ وہ ان دُکانوں میں بیٹھ کر منصوبہ تیار کرتا رہتا کہ سلائی مشین کا ہینڈل جو بیکار پڑا ہے اگر لوہے کے فلائی ٹکڑے کے ساتھ ویلڈ کر دیا جائے اور اس کے فلاں کے اندر چھوٹے پنکھے جو نکڑوالی دکان میں موجود ہیں ٗ لگا دئیے جائیں تو فرسٹ کلاس دھونکنی بن سکتی ہے۔ خدا معلوم وہ کیا کیا سوچتا تھا۔ ان دنوں در اصل ذہنی ورزش کر رہا تھا۔ یہ وہ تیاری تھی جو وہ اپنے منصوبوں کی تکمیل کیلیے استعمال کرنا چاہتا تھا۔ اس نے ایڈیٹنگ بھی اسی طرح سیکھی۔ آس پاس کی ہر ننھی سے ننھی شے کا مطالعہ کیا ٗ اور آخر ایک دن اس نے اسٹوڈیو کی ایک فلم کی ایسی عمدہ ایڈیٹنگ کی کہ لوگ دنگ رہ گئے۔ سیٹھ نے سوچا۔ کہ اچھے کیمرہ مین تو مل جائیں گے مگر ایسا با کمال ایڈیٹر جو سیلو لائیڈ کے چھوٹے بڑے فیتے کے ٹکڑوں کو اس چابک دستی سے جوڑتا ہے کہ پھر اس میں مزید کتربیونت ہو ہی نہیں سکتی۔ چنانچہ ایڈیٹنگ ڈیپارٹ منٹ کاہیڈبنا دیا۔ تنخواہ اس کی وہی رہی جو بحیثیت کیمرہ مین تھی۔ وہ اپنا کام بڑی محنت اور تندہی سے کرتا رہا ٗ لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ لیبارٹری سے بھی دلچسپی لیتا تھا۔ تھوڑی ہی دیر میں اُس نے اس کے کل پرزوں میں چند اصلاحات اور ترکیبیں پیش کیں جو بڑی ردّ و کد کے بعد قبول کر لی گئیں۔ نتیجہ دیکھا گیا تو بڑا حوصلہ افزا تھا۔ سیٹھ نے ایک دن سوچا

’’کیوں نہ گیلانی کو ایک فلم ڈائریکٹ کرنے کا موقع دیا جائے‘‘

جب اس سے پوچھا:

’’تم کوئی فلم ڈائریکٹ کر لو گے۔ ‘‘

تو اس نے بڑی خود اعتمادی سے جواب دیا:

’’ہاں سیٹھ۔ پر اس میں کوئی دخل نہ دے!‘‘

کہانی آدھی گیلانی نے خود بنائی۔ آدھی اِدھر اُدھر کے منشیوں سے لکھوائی اور اللہ کا نام لے کر شوٹنگ شروع کر دی۔ یہ فلم ختم ہوا اور نمائش کیلیے مقامی سینما ہاؤس میں پیش کیا گیا تو اس نے اگلے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیے۔ اس کے بعد اس نے لاہور میں دو فلم بنائے۔ یہ بھی سلور جوبلی ہٹ ثابت ہوئے۔ ایک کلکتہ جا کر پھر بنایا۔ وہ بھی کامیاب تھا۔ یہاں وہ بمبئی پہنچا۔ کیونکہ وہاں کے فلمسازوں نے بڑی تکڑی تکڑی آفریں بھیجی تھیں۔ چنانچہ ایک جگہ اس نے آفر قبول کر کے کنٹریکٹ پر دستخط کر دئیے اور کہانی

’’چن وے‘‘

کا منظر نامہ خود لکھا۔ فلم بن گیا۔ اور اتنا بڑا باکس آفس ثابت نہ ہوا۔ شاید اس لیے کہ بٹوارے کے باعث دوسرے شہروں کے مانند بمبئی میں بھی فرقہ وارانہ فسادات شروع ہو گئے جس طرح دوسرے مسلمان ہجرت کررہے تھے اس طرح گیلانی بھی بمبئی چھوڑ کر کراچی چلا گیا۔ یہاں سے وہ لاہور پہنچا اور ایک اسٹوڈیو کی داغ بیل رکھی۔ ساؤنڈ ریکارڈ سٹ سے لے کر کیلیں ٹھوکنے والے تک کو اس کی ذاتی نگرانی میں کام کرنا پڑتا تھا۔ قصّہ مختصر کہ اسٹوڈیو تیار ہو گیا۔ لاہور کے مسلمان ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے تھے۔ جب یہ اسٹوڈیو بنا تو ان کی جان میں جان آئی۔ چنانچہ یہاں شوٹنگ شروع ہو گئی۔ اس کے بعد یہ چل نکلا۔ گیلانی اس دوران میں اسٹیج اور اِدھر اُدھر کے متعلقہ سامان کو درست اور مرمت کرانے میں مشغول رہا اس کا دست راست لاہور ہی کا ایک نوجوان سراج دین تھا۔ جو قریب قریب آٹھ برس سے اس کے ساتھ تھا۔ نے کہا ٹائپ رائٹر کی دال لے کر کھا لو۔ اس کے بعد گیلانی نے خود میرے ٹائپ رائٹر کا معائنہ کیا اور فیصلہ صادر کر دیا کہ مشین میں کوئی نقص نہیں۔ مگر سراج اپنے تجربے کے بل بوتے پر مصر تھا۔

’’نہیں حضور۔ یہ اب مرمت طلب ہو چکی ہے۔ بڑے اور چھوٹے رولر سب نئے لگوانے پڑیں گے۔ اوور ہالنگ ہو گی۔ اس کا کتا بھی ناقص ہو چکا ہے ٗ وہ بھی پڑے گا۔ ‘‘

’’تمہاری ٹانگوں پر۔ ‘‘

’’آپ میرا مذاق نہ اُڑائیے۔ اچھا۔ خیر آپ ہی صحیح کہتے ہیں‘‘

یہ کہہ کر وہ اپنے گنجے سر پر ٹوپی درست کرتا ہوا چلا گیا۔ گیلانی نے اپنا خاص ٹول بکس منگوایا اور مشین کے سب پرزے الگ الگ کر کے رکھ دیے کوئی پرزہ پتھر پر گھسایا۔ کوئی ریگمال پر۔ کسی کے سریش لگائی۔ کسی کو تیل۔ اور ان کو دوبارہ فٹ کر کے فتح مندانہ انداز میں میری طرف دیکھا اور کہا:

’’کیوں صاحب ! ٹھیک ہو گئی یا نہیں۔ ‘‘

میں نے ایسے ہی کہہ دیا

’’ہاں ٗ اب ٹھیک ہے۔ ‘‘

گیلانی نے اپنے پاس کھڑے اسسٹنٹ کو بلایا:

’’جاؤ ٗ اس اُلو کے پٹھے ایکسپرٹ سراج کو بلا کر لاؤ۔ ‘‘

چند منٹ میں سراج حاضر ہو گیا۔ اس نے مشین چلائی تو دس پندرہ بار ٹپ ٹپ کرنے کے بعد ہی خاموش ہو گئی سراج نے گیلانی سے کچھ نہ کہا۔ تھوڑے وقفے کے بعد گیلانی بڑے تحکمانہ لہجے میں اس سے مخاطب ہوا

’’اچھا تم اسے بناؤ۔ دیکھیں تم کیا تیر مارتے ہو۔ ‘‘

مجھے اپنی پندرہ سالہ عزیز مشین کی اس درگت پر ترس آرہا تھا۔ مگر اب کیا ہوسکتا تھا۔ جب اس کے انجر پنجر ڈھیلے ہوئے میری آنکھوں کے سامنے پڑے تھے۔ دوسرے دن سراج نے اپنا ٹول بکس ریکارڈنگ میں سے منگوایا اور میری مشین پر اپنی ماہرانہ سرجری شروع کر دی۔ ضروری پرزے نکال کر اس نے علیحدہ رکھ لیے اور باقی حصّے پٹرول میں ڈال دیے اب ان کی چتا جلانے کیلیے صرف ماچس کی ایک تیلی ہی کافی تھی۔ میں خاموش رہا۔ یہ سب کچھ دیکھتا رہا۔ کتے کے جبڑوں کو ایک پلاس کے ساتھ زور سے پکڑا اور میری طرف کرتے ہوئے بولا:

’’لو دیکھ لو۔ میں نہ کہتا تھا۔ کتا کام نہیں کر رہا۔ اس کا تو سنترپنچ ہی خراب ہے۔ ‘‘

’’سنتر پنچ۔ ‘‘

’’ہاں۔ ‘‘

اور سراج ایک بار پھر اس کا سنتر پنچ ٹھیک کرنے لگا۔

سعادت حسن منٹو

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • 14اگست: جشنِ آزادی اور اس کے تقاضے!
  • میڈم نفیس کی کہانی
  • جذبات
  • تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!!
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
خودکشی کا اقدام
پچھلی پوسٹ
وبائی امراض اورنبویﷺ تعلیمات

متعلقہ پوسٹس

شانتی

جنوری 12, 2020

پاکستان اور خلیج

جنوری 3, 2026

ذرا دیکھیں تو ہو کیا رہا ہے باہر

مارچ 22, 2020

شاہد ذکی کی شاعری

جنوری 23, 2020

نازیہ کی کہانی

اپریل 1, 2023

شب زفاف جب داغدار ہو جائے (حصہ دوئم )

نومبر 29, 2019

آئینۂ ذات

جون 1, 2025

خوشیوں بھری پرسکون زندگی

اگست 7, 2022

حج اکبر

دسمبر 10, 2019

حضرت خواجہ قمر الدین سیالویؒ

اگست 26, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ڈیڈی

مارچ 20, 2020

سید علی عباس جلالپوری:شخصیت و فن

دسمبر 6, 2025

حدیث کی اقسام

جنوری 22, 2023
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں